‎"سب سے بڑا حجاب نفس اور اسکی مکاریاں ہیں۔ نفس کی متابعت دراصل حق کی مخالفت ہے۔اور حق کی مخالفت تمام حجابات سے بڑا حجاب ہے۔ "

ابو یزید بسطامیؒ نے فرمایا: "نفس کو بجز باطل کے کسی چیز سے تسکین حاصل نہیں ہوتی،یعنی وہ کبھی طریق حق اختیار نہیں کرتا"۔

محمد بن علی ترمزیؒ فرماتے ہیں: "تو چاہتا ہے تجھے نفس کے باوجود معرفت حق حاصل ہو حالانکہ تیرا نفس اپنی معرفت سے معزور ہے غیر کی معرفت تو درکنار"۔
یعنی نفس اپنی بقا کے عالم میں اپنے آپ سے محجوب ہے اسے مکاشفہ حق کیسے نصیب ہو سکتا ہے۔

جنیدؒ فرماتے ہیں:" کہ کفر کی بنیاد ہی یہی ہے کہ انسان اپنے نفس کے سانچے میں ڈھل جائے۔ نفس کو حقیقت اسلام سے دور کا بھی رشتہ نہیں اسلئے وہ مخالفت اسلام کی روش پر چلتا ہے منکر ہوتا ہے اور منکر ہمیشہ بیگانہ ہوتا ہے"

ابو سلمان دارانیؒ فرماتے ہیں:" نفس خیانت کا مرتکب ہوتا ہے اور راہ
حق سے روکتا ہے، بہترین عمل نفس کی مخالفت ہے"۔

از کشف المحجوب حضرت علی ہجویریؒ