اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک کا دربار آراستہ ہے کہ ایک رومی راہب (عبادت گزار) دربار میں حاضر ہوتا ہے اور کہتا ہے میرے ذہن میں چند سوالات ہیں کئی یہودیوں اور عیسائیوں سے میں نے اس کے جوابات طلب کیے لیکن مجھے کوئی مطمئن نہ کرسکا اب میں مسلمانوں کے پاس آیا ہوں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ خدا سے پہلے کون تھا‘ دوسرا سوال یہ ہے کہ خدا کا رخ کس طرف ہے اور تیسرا سوال خدا اس وقت کیا کر رہا ہے…؟؟؟ کسی نے بادشاہ سے ک
• ہا کہ ان کا جواب صرف ایک شخص دے سکتا ہے جو کوفہ میں رہتا ہے۔ کوفہ کے اس نوجوان کو بلایا گیا جو نعمان بن ثابت (امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کے نام سے مشہور تھے۔ دربار خلافت میںہرشخص حیران تھا کہ رومی راہب کو یہ نوجوان کیا جواب دیتے ہیں۔ رومی راہب اس وقت بادشاہ کی بائیں جانب سراپا تکبر بنا بیٹھا تھا کہ اسی اثناء میں کوفی نوجوان بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوئے اور رومی راہب سے مخاطب ہوکر کہنے لگے کہ اس وقت آپ سوال کرنے والے ہیں اور میں آپ کا جواب دینے والا ہوں۔ نہایت معذرت کے ساتھ عرض کرتاہوںکہ طلب کرنے والے کا یہ انداز نہیں ہوتا کہ مانگنے والا نشست پر اطمینان سے بیٹھا رہے اور دینے والا کھڑا رہے۔ لہٰذاآپ اپنی نشست سے اتر کر میری جگہ کھڑے ہوجائیں رومی راہب اپنی جگہ چھوڑ کراترآیا نوجوان نے باوقار انداز میں رومی راہب کی جگہ لیکر کہا اب آپ اپنے سوالات دوہرائیں راہب نے اپنے سوالات دہرادئیے۔ آپ نے نہایت اطمینان کے ساتھ پہلے سوال کا جواب ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک سے دس تک گنتی کا شمارکرو راہب نے گنتی گننا شروع کردی نوجوان نے کہا کہ میں یہ جاننا چاہوں گا کہ ایک سے پہلے کیا ہے راہب نے کہا کہ یہ دیوانگی ہے ایک سے پہلے تو کچھ نہیں نوجوان نے کہا کہ یہ تمہارے پہلے سوال کا جواب ہے۔ پھر آپ نے درباریوں سے فرمایا کہ ایک چراغ لاؤ اور اس کو جلاؤ چراغ لانے کے بعد جلایا گیا تو آپ نے راہب سے پوچھا کہ اس چراغ کا رخ کس طرف ہے اس نے کہا کہ اسکی روشنی تو چاروں طرف ہے اس کا رخ کسی ایک طرف نہیں تو امام صاحب نے فرمایا یہ تمہارے دوسرے سوال کا جواب ہے۔ تمہارا تیسرا سوال یہ تھا کہ خدا اس وقت کیا کررہا ہے تو اس کے جواب میں فرمایا کہ کچھ دیر پہلے میرا خدا اس کام میں مصروف تھا کہ آپ جیسے معزز کو درباری نشست سے اتار کر فرش پر کھڑا کردیا اور کوفہ کے ایک عام نوجوان کو خلیفہ وقت کے برابر بیٹھنے کا اعزاز بخشا اور اب میرے رخدا کی مصروفیت یہ ہے کہ اس نے روم کے عظیم دانشور کو ایک معمولی علم رکھنے والے طالب علم کے سامنے عاجز کردی