لاہور: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف کی طرف سے اپنی آئینی مدت کے خاتمے کے 7روز بعد ایڈورٹائزمنٹ کمپنی میڈاس(پرائیویٹ)لمیٹڈ کوغیر قانونی طریقے سے961 ملین روپے کی رقم اشتہاری مہم کی مد میں ادا کرنے کی منظوری دینے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری کے نام ایک خط میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مشیر سید عادل گیلانی نے انکشاف کیا ہے کہ سابق سیکریٹری وزارت پانی وبجلی نرگس سیٹھی کی مخالفت کے باوجود سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے طے شدہ طریقہ کار کے تحت ٹینڈر طلب کئے بغیر ایک ایسے ادارے میڈاس(پرائیویٹ)لمیٹڈ کو 961 ملین روپے کا کنٹریکٹ جاری کردیا جس کے خلاف سپریم کورٹ میں پہلے ہی ایک ازخود نوٹس کی سماعت جاری ہے۔ یہ رقم پیپکو اینڈ این ٹی ڈی سی کی طرف سے ایک ارب63 کروڑ 70 لاکھ روپے کے اشتہاری کنٹریکٹ کا حصہ ہے اور اس ادارے کے چیف ایگزیکٹونوید اسماعیل ہیں جو کے ای ایس سی کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر رہے۔ فروری 2013 کے اوائل میں سیکرٹری وزارت پانی و بجلی نرگس سیٹھی نے یہ ادائیگی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

کیونکہ پیپکو اینڈ این ٹی ڈی سی نے پبلک پروکیورمنٹ رولز(پیپرا)2004 کی خلاف ورزی کی تھی، اس کیلئے کوئی ٹینڈر بھی جاری نہیں کیا گیا حتٰی کہ پیپکو اینڈ این ٹی ڈی سی کے سالانہ منصوبوں میں اس اشتہاری مہم کی کسی لاگت کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ قواعد کے مطابق یہ معلومات پیپرا کی ویب سائٹ پر جاری کرنا لازمی ہوتا ہے۔ واپڈا نے25 مارچ 2013 کونوید اسماعیل کوبرطرف کردیا تھا۔ انکی ’’جینکو‘‘ کے سی ای او کے طور پر تقرری جبکہ پیپکو کے مینجنگ ڈائریکٹر اور بعد ازاں سی ای او کی حیثیت سے انکی تعیناتی غیر قانونی تھی۔ اسکا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ واپڈا نے نوید اسماعیل کی تقرری کا جو نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

اس میں اس عہدے کیلئے انکی تنخواہ اور مراعات کے پیکیج یا عرصہ ملازمت کا ذکر کرنے کے بجائے’’بعدازاں طے کیا جائے گا‘‘ لکھا تھا۔ عادل گیلانی نے خط میں لکھا ہے کہ اپنی آئینی مدت کے خاتمے کے7روز بعد سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے وزارت پانی و بجلی کی جعلی تشہیری مہم کیلئے961 ملین روپے کی رقم جاری کرنے کی منظوری دی۔ نرگس سیٹھی کوہٹانے کے فوراً بعد سکندر احمد رائے نے سیکرٹری پانی و بجلی کا چارج سنبھال لیا۔ انہوں نے15 مارچ کوجبکہ وفاقی حکومت کی رخصتی میں دو روز باقی رہ گئے تھے وزیراعظم کو رقم کی ادائیگی کی سمری ارسال کی جو انہوں نے بلا توقف منظور کرلی۔ رقم کی ادائیگی کے بل منظور کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف یہ بھول گئے کہ میڈاس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کیخلاف 63 کروڑ روپے سے زائدکے فراڈ کا ازخود نوٹس کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

وزیراعظم کے پرسنل سیکرٹری ایوب قاضی نے وزارت پانی و بجلی کومطلع کیا کہ وزیراعظم نے 19 مارچ 2013 کو سمری کی منظوری دیدی ہے حالانکہ اس وقت حکومت کی پانچ سالہ آئینی مدت ختم ہوئے تین روز گزر چکے تھے۔ اسی روز سیکرٹری خزانہ عبدالخالق نے ایوب قاضی کوخط لکھا کہ وزیراعظم کی سمری میں متعلقہ وائوچر/ کلیم موجود ہیں نہ اکائونٹنٹ جنرل لاہور آفس کی طرف سے ان کلیمز کی ویری فیکیشن/ سرٹیفکیشن کی گئی ہے۔ سیکرٹری خزانہ نے ایڈوائس کیا کہ ویری فیکیشن /سرٹیفکیشن وزارت پانی و بجلی کے پرنسپل اکائونٹنگ آفیسر یعنی متعلقہ سیکرٹری تمام متعلقہ قواعد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کریں۔ پیپکو این ٹی ڈی سی اور جینکو نے جولائی2012 میں صارفین کو بجلی کے باکفایت استعمال کی آگاہی کیلئے مہم تیار کی تھی۔



تاہم اس وقت کی سیکرٹری پانی وبجلی نرگس سیٹھی نے تجویز مسترد کرتے ہوئے پیپکو این ٹی ڈی سی کو ہدایت کی کہ وہ بجلی کے بحران سے نمٹنے کیلئے پاورپلانٹس کی کارکردگی بڑھانے کے اپنے اصل کام پر توجہ دیں۔ ٹرانسپیرنسی نے لکھا ہے کہ ایک صفحے پر مشتمل وزرات پانی و بجلی کی سمری اعلیٰ حکومتی افسروں کی طرف سے اپنی پسندیدہ ایڈورٹائزمنٹ ایجنسی کو نوازنے کیلئے اختیارات کے غلط استعمال کی نشاندہی کرتی ہے چونکہ یہ جعلی میڈیا مہم تیار کرنے والی لابی بہت طاقتور ہے اس لئے اس نے ہر مرحلے پر قواعد اور طریقہ کار کو نظرانداز کیا تاکہ میڈاس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو رقم کی ادائیگی کی جاسکے۔ وزارت خزانہ کے اعتراضات پرپریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور کے ریجن ڈائریکٹر ہنگامی بنیادوں پر 24 مارچ کو اسلام آباد پہنچے اور آنکھیں بند کرکے کلیمز کی تصدیق کی۔

قانون کے تحت لاہور میں واقع دفتر بل وصول کرکے ریجنل آفس کو جمع کراسکتا ہے چونکہ اکائونٹنٹ جنرل پنجاب ریونیو سب آفس لاہور پہلے ہی ان جعلی بلوں کی ادائیگی سے انکار کر چکا تھا تودولت کے یہ رسیا ادائیگی کیلیے اسلام آباد آفس پہنچ گئے۔ سیکریٹری اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ انکی وزارت نے صارفین کی آگاہی کیلئے وزارت پانی و بجلی کی مہم کی ویری فیکیشن اورسرٹیفکیشن کی تاہم انکا یہ مئوقف وزارت خزانہ کے تحریری بیان سے مطابقت نہیں رکھتا۔ سیکرٹری خزانہ نے فائل میں نوٹ لکھا تھا کہ وزارت پانی وبجلی کی طرف سے ارسال کی گئی سمری میں ویری فیکیشن نہیں جوفنڈز کی ریلیز کیلئے ضروری ہے۔

عادل گیلانی نے جناب چیف جسٹس کو خط میں بتایا کہ یہ بل اب اے جی پی آر کوجمع کروا کے ٹوکن نمبر حاصل کرلیا گیا ہے۔ بل ایسے دفتر میں جمع کرائے گئے ہیں جوکرپشن میں ڈوبا ہوا ہے اور وہاں رشوت کے ذریعے رقم کی ادائیگی کے عمل کی منظوری لی جاسکتی ہے۔ عدالت عظمیٰ سے درخواست ہے کہ وہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی طرف سے961 ملین روپے کی ادائیگی کی یہ شکایت اس سے پہلے فاضل عدالت کے روبرو انسانی حقوق کے بارے میں ٹرانسپرنسی کی پٹیشن نمبر23957/s/2012 میں شامل کرلیں اورمیڈاس (پرائیویٹ)لمیٹڈ کو غیر قانونی ایڈورٹائزمنٹ کنٹریکٹ معطل کرکے قومی خزانے کو نقصان سے بچایا جائے