Results 1 to 6 of 6

Thread: بابا حبیبی میرے مرحوم والد کہ نام ۔۔۔۔۔۔

  1. #1
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default بابا حبیبی میرے مرحوم والد کہ نام ۔۔۔۔۔۔


    رات کی خاموشی کو چیرتی ہوئی میری آواز کانپتی آنکھوں میں پنپنے والے خوف و قلق سے سہم جاتی تھی۔ ہر روز وہی خواب مجھے اس قاصی فراش سے بیدار کردیتا تھا ، اور میری معصومیت کو یہ بھیانک ظلام سونے نہیں دیتا تھا ۔ میں امی سے لپٹ کر رونے لگتی ,امی میں یتیم نہیں ہوں امی میں یتیم نہیں ہوں ۔امی جب قرآن کی آیت کہ موتی اپنی زبان مبارک سے پڑھ کر پھونکتی تو وہ لمحات عذاب میرے جسد سےجو روح نکالنے والے تھے وہ ماں کہ دف وحنان کہ لمس اور کلام الہی کی برکت سے رخصت ہوجاتے تھے ۔ امی مسلسل اس خواب کےآنے کا کیا مقصد ہے میں سوالیہ نشاندہی حیرت سے لپٹ کر کہتی امی پھر وہی خواب کیوں امی پہلے بھی ایسے ہی خواب آتے تھے ,ہر روز گھر کہ سامنے سے جنازہ کا جانا دیکھ دیکھ کرسہم جاتی تھی تو کچھ دن بعد ہی ابو فوت کرگئیں تھے ۔ امی اب یہ مؤلم احساس میری روح کو بیدا ر کردیتا ہے ۔اب یہ کونسے آنے والے صدمہ کا پیغام ہے امی ؟ میں ڈر کر کانپتے ہاتھوں سے امی کا ہاتھ پکڑ لیتی ہوں اور امی دورود شریف پڑھنے کی کثرت سے ہدایت کرتی تھی ۔ دل بہت کرتا ابا کی قبر پر جاؤ احاسیس کہ اس مؤ لم آنسؤؤں سے انھیں ان کمی اور فقدان ہونے کا مؤلم ٹڑپتا آنسو دیکھاؤ ,جیسے محسوس ہو رہا ہوں ,وہ میرے بکاء و درد کو دیکھ رہے ہوں اور انھیں کہہ دوں کہ ان کا یہ فراق ہمیں بہت درد دیتا ہے ، بہت تکلیف ملی ہے ہمیں اس فراق سے ۔اور اے کاش قبر اپنا دروازہ کھول دیں اور میں ادب سے ان کہ سر پربوسہ دوں اور انھیں جی بھر کہ دیکھ کر اپنی مشتاق آنکھوں میں ان سے ملنے کو خواہش کو پورا کرکے اور انھیں دیکھنے کا سکوں حاصل کرکے لوگوں میں اپنے یتیم ہونے کا مسلسل احساس ہی ختم کردوں ۔ ابو کی وفات کہ بعد بہت دفعہ لوگوں نےہمیں ہمارے نام سے بلانا چھوڑ دیا تھا , سب میں صرف اور صرف ایک نام تھا ہمارا یہ یتیم بچے ہے بچارے یتیم ہوگئے ہے یہ فلاں بن فلاں کہ یتیم ہے ۔ ان یتیموں کا دل نا دکھاؤ ان سے ہمدردی کروں ۔ چھوٹی بہن اپنی توتلی زبان سے آپا یہ یتیم کیاہوتا ہے ۔؟ میں درد سے سہم جاتی تھی کہ جسے سننے تککلیف ہوتی ہے اسے کیسے سمجھاؤ ۔اس بھیناک درد کا خلاصہ اللہ رحم فرما ئے ،موت کہ ساتھ ملیں زندہ لوگوں کو ہدایت عطا کریں کہ حادثوں کو معصوم بچوں کہ سامنے تفصیل سے کہنے والے لوگ انھیں یتیم ہونے کا مکمل احساس دے کر نا ستاؤ کچھ معصوم تو اس بات سے بھی انجان ہے کہ یہ یتیم کیا ہوتا ہے۔ امی کو ابا کی بیوی تو اتنی بار کسی نے نہیں بلایا ہوں گا جتنی بار بیوہ بلاکر رولا دیا تھا


    زندگی کہ قاصی اوقات سے ہر انسان کو گزرنا پڑتا ہے ، یہ جان کر بھی یہ دنیا فانی ہے۔ قضا و قدر کہ آگے کسی کا بس نہیں چلتا نا چاہتے ہوئے بھی دنیا اور ظروف میں کھویا ہوا بشردرد کی قالعین پر لحظات خوف سے گھبراتا ہے،اور اکثر ایسا ہوتا ہے وہی خوف سامنے آتا ہے ۔بچپن میں ہی یہ درد ناک حادثہ دیکھ چکی تھی ۔ آج اس درد ناک تحریر کو جس حوصلہ سے لکھ رہی ہوں اس کا ایک ہی مقصد ہے وہ یہ کہ جن لوگوں کے والدین کوچ کر گئے ہے اس دارِ فانی سے، ان کی کیفیت میں چھوپے درد کا خلاصہ کرسکوں اور انھیں صبر کی تسکین دلا سکوں چونکہ بہت سے لوگ جو اپنے والد یا والدہ کو کھو چکے ہے ۔ اس عنوان کو پڑھ کر ہی سہم جاتے ہے یا پھر ان میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ لفظوں کہ تناؤ سے نکل کر برالوالدین کہ کچھ موتی سمیٹ کر تحریرکورخ دیں سکیں ۔ موت برحق ہے اور کل نفس ذائقۃ الموت قرآن میں بھی مذکور ہے ۔

    علماً ہم سب جانتے ہے لیکن اس مؤلم احساس میں ہی پوری عمر گزار دیتے ہیں۔ اپنوں کا فراق صعب ہوتا ہے سہنا اس پر دنیا کی ستم ظرفی کم نہیں ہوتی ۔مختصر یہ کہ ایک سچی حقیقت جس کا سامنا میں نے خود کیا ہے ۔اور ماں اور باپ محبت کا وہ سرمایہ ہے گر وہ نہیں بھی ہوں تو ان کہ نام سے ہی ہمیں ہمارے وجود کا احساس ہوتا اور دل ان کا احسان مند ہمیشہ رہتا ہے ۔ تو ایسی عظیم حثتیوں کہ لئے لکھنے کی ضرور کوشش کرنا چاہئے پتہ نہیں آپ کہ اس درد کہ بیان سے کسے عبرت ملے اور جو لوگوں کہ والدین حیات ہے وہ ان کی قدر و قیمت سمجھ سکے ۔


    محبت کہ اس عظیم خاکہ میں والدین دونوں ہی اہم اور اعلی اور عظیم شخصیت کا کردار نبھاتے ہے ۔ دوآنکھوں اور دو ہاتھ اور پیر کہ مانند جیسے جسم کہ یہ دو اجزا ء میں سے ایک علیحد ہ کردیں تو انسان ادھورا لگتا ہے ۔ ایسا ہی کچھ ان دو شخصیت کا کردار ہماری زندگی میں معنی رکھتا ہے ۔ میرے ابو جو اس دنیا میں نہیں رہے ۔ ان کہ بغیر ایسا ہی ادھورا پن محسوس کرکے ہم نے زندگی بسر کی تھی ۔ میرے ابا کی بہت سی اچھی صفات اور بہت سی ایسی باتیں ہیں جو آج بھی ذہن سے نہیں جاتی اور آج بھی زندگی کہ موڑپر ان کی باتیں کام آتی ہیں ، ابا ہمیشہ کہتے تھے ۔ بیٹا صبر کرنے والوں کا ساتھ اللہ کبھی نہیں چھوڑتا ۔ اور کبھی بھی جاہل کہ ساتھ مت الجھنا کبھی بھی برائی کو برائی سے نہیں جوڑنا جیسے ایک جاہل اور پڑھے لکھے میں بحث ہوں تو گر ہم جہالت سے جواب دے گے تو ایک پڑھے لکھے اور جاہل میں کوئی فرق نہیں رہے گا، ویسے ہی برائی کا جواب برائی سے دوگے تو اچھائی کا پھر نام ونشان بھی نہیں رہے گا ۔ گر تم برائی کا جواب اچھائی سے دوں گے تو برائی خود اچھائی میں بدل جایئں گی ۔ معافی مانگنے میں کبھی شرم محسوس نہیں کرنا معافی مانگ کر انسان چھوٹا نہیں بلکہ نظر میں اس کا درجہ اور بلند ہوجاتا ہے ۔ابا جیتے جی ہی نہیں فوت ہونے کہ بعد بھی ہمارے ساتھ ہوں جیسے ۔ ان کی یہ باتیں زندگی کہ مراحل پر اثر کام آئی ہیں ، میرے ساتھ اکثر ایسا ہوا تھا کہ وہ خواب میں آکر مجھے مشکل باتوں اور پریشانیوں سے نکلنے کا حل بتاچکے تھے ۔ ایسا اکثر محسوس ہوتا رہا ہے کہ مرنے کہ بعد بھی انھیں ہماری فکر ہوں جیسے خیر وہی محبت جسکی بنیاداخلاق صبر اور ہمت اور اچھائی سے شروع تودرد اور غم پرختم ہوں اس ادھورا خاکہ کو بچپن کی یادوں سے سمیٹ کرقاریئن کو پیش ِ نظر کر رہی ہوں ۔ معذرت قبول کرنا گر کچھ بھول ہوجایئں۔


    میرے والدمحتر م ایک عظیم شخصیت کہ حامی تھے جتنی اعلی شخصیت تھی اتنے ہی متواضع انسان تھے ۔ وطن سے شدید محبت کا جذبہء دل میں ہمیشہ سے رکھنے والے انسان تھے ۔کشمیر کہ مسلہء سے اکثر پریشان رہا کرتے تھے ۔ آرمی رہ کر جہاں تک ہوسکتا تھا وہ ملک کی حفاظت کرتے تھے ۔ گھر میں بھی اپنے واجبات اور فرائض سے کبھی ہچکچاتے نہیں تھے ۔ بابا جانی ہمیشہ سے ہی بیٹیوں کو دل کی ڈھڑکن سمجھتے تھے اور بیٹی کو گھر کی رحمت کا درجہ دیا کرتے تھے ۔ سب سے زیادہ ابو کہ قریب میں ہی تھی ۔ کیوں کہ بچوں میں سب سے بڑی تھی ۔ ابا کبھی کسی کا دل نہیں دکھاتے تھے ۔ایکدم خاموش طبعیت کہ ماہر ہونے کہ با وجود بھی اپنی خوشی اور غم ان سے چھوپا یئں نہیں چھپتا تھا ۔ اور ہمیشہ گھر کا خوش گوار ماحول بنایئں رکھنا ۔ ہم سب کو ہی نہیں ہر ایک انسان سے مخلصانہ برتاؤ ہوا کرتا تھا ۔

    جب بھی کسی پر مصیبت آتی ابا سب سے پہلے پہنچ جاتے تھے ۔ گر کوئی بھی بیمار ہو بھلے آدھی رات کو ہسپٹال لیں جانا پڑیں ابا فوراً تیمارداری کہ لئے حاضر رہتے ۔ امی اور ابو کہ خیالات ہمیشہ ملتے تھے ۔ دونوں ایک دوسرے کی پرچھائی تھے ۔ اللہ انھیں جنت میں ہر نعمت سے نوازے اپنی ہی نہیں دوسروں کی ضرورتوں کو بھی سمجھنے والے انسان تھے ۔ ایسا نہیں کہ غریبی نہیں دیکھی تھی ہم نے کچھ وقت ایسا تھا بقول امی کہ ابا بڑی مشکل سے گھر چلاتے تھے ۔ اللہ تعالی نے انھیں پھر بہت نوازا ہمارے ساتھ دادا دادی بھایئوں اور بہنوں کا بہت خیال رکھتے انھیں کچھ کمی نہیں ہونے دیتے تھے۔ ماں باپ کی دل سے دعایئں ان کہ ساتھ رہا کرتی تھی ۔ دادا

    کہ فوت ہونے کہ بعد دادی کا ذمہ اور اپنے ساتھ رکھنے کی ضد تھی ابا کہتےتھے گھر میں کوئی بزرگ انسان کا ہونا ایک فرشتہ کہ ہونے کہ برابر ہے ،اور والدہ ہی میری زندگی ہے دادا کہ فوت ہونے کہ بعد دادی کو اپنے سر و آنکھوں میں سمائے رکھتے تھے ۔ایک بہت ہی نیک صنف اور خودار شخصیت کہ مالک تھے انکل جب گلف آیئں تو ابا سے کہا ساتھ چلنے پر ابا کا دل نہیں ہوا وطن کو چھوڑ کر دور رہنے ۔ پاکستان اور کشمیر کو لیکر اکثر پریشان رہتے تھے۔ وطن کہ لئے دل میں جان دینے کا جذبہء ان کہ لہو میں گردش کرتا ہو جیسے ۔ مجھے ہمیشہ سے ابا کا ساتھ اور ان کا باتیں کرنے کا انداز لبھاتا تھا ۔ مجھ سے بات کرنے کا انداز بہت ہی پیار بھرا ہوا کرتا تھا ۔ ابا کو شاعری بہت پسند تھی اکثر پسندیدہ شاعری کو پوسٹر کارڈ پر لکھ کر دیوار پر لگاکر رکھتے تھے ۔ گانے کبھی نہیں سنتے تھے ہاں مذہبی قوالی بہت پسند تھی، مجھے یاد ہے میں جب گڈا گڈی کا کھیل کھیلتی، اور میں میری کزن سس اور ہماری سہلیاں سب کچھ نا کچھ دکان سے چپس جوس بسکیٹ اور مونگ پھلی چنہ لیکر ان کی شادی رچاتے ،تو ممہ غصہ کرتی تھی کہ یہ کیا دیکھیں انھیں پڑھائی میں دھیان دینے کی بجائے کیا کھیل میں مصروف ہیں ۔ تو ابا انھیں ٹوکتے اور کہتے کھیلو بچوں میں امی کو سمجھاتا ہوں ۔ اور ممہ سے کہتے رہنے دیں بچپن کو انجوئے کرنے دیں یہی عمر ہے کھیل کود کی کل پتہ نہیں ان کا نصیب انھیں کہاں لیں جایئں ۔ اور مجھ سے مخاطب ہوکر کہتے بیٹا یہ مہمان کب سے شادی کی دعوت میں بھوکا بیٹھا ہے دعوت کا کھانا مجھے بھی ملے گا نا ۔ ؟ ہم لوگ بہت خوش ہوجاتے اور پلیٹ میں سجا کر ابو کو ٹھوڑا ٹھوڑا سب دیتے تھے ۔ ابا بسکیٹ اور دکان کا لایا وہی ٹھوڑا ٹھوڑا کھا کر کہتے ارے بھئی بہت اچھا انتظام ہے آپ لوگوں کی دعوت کا دوبارہ کھیلوں تو میرا حصہ نا بھولنا ۔ ہمارے کھیل میں شامل ہونا اور ہمارے حوصلہ افزائی پڑھائی میں بھی کم نہیں تھی ،میں اور بھائی جب بھی اکزام ہوتا ابا کہتے جو اچھے نمبر لائے گا اسے بخشش ملے گی ، اور جس کہ مارکس زیادہ ہوتے اسے بڑا سانوٹ تھما دیتے تھے ۔ اکثر چھٹیوں میں ہمیں شالیمار پارک لیں جاتے تھے ۔ عید کی شوپنگ دادی امی ہم سب ملکر کرتے تھے ۔ اور بازار میں تھکان ہوں گی اس احساس کو محسوس کرتے ہوئے شاندار اور اچھی ہوٹل میں کھانا کھلاکر ہی گھر واپس لایا کرتے تھے ۔ امی کہ دل میں کوئی بات ہوں اور ابو نا سمجھ سکیں ایسا کبھی نہیں ہوا ۔ دادی کہ پیر دبانا ان کا ہاتھ سر پر رکھوا کر دعا لئے بغیر گھر سےکہیں نہیں جاتے تھے ابو ۔ پاکستان کی میچ دیکھنے کہ تو بہت ہی شوقین تھے ۔ مجھے بہت اچھے سے یاد ہے جب کبھی پاکستان کی ٹیم جیتی ابا خوشی سے کچھ بھی گلاس یا کچھ پھینک کر ٹی وی ہی ٹور دیتے تھے، امی سر پکڑ کر بیٹھ جاتی تھی ۔ اتنی خوشی ہوتی انھیں اور پھر سارے محلے رشتےداروں میں مٹھائی بھیجتے ۔بہت اچھے مزاج اور خیالات تھے مجھے ہمیشہ سے ان پر فخر ہوتا ہے ۔ میں جب بھی امی کی ڈانت یا پڑھائی کو لیکر اداس ہوتی تو ابا ایک چھوٹے بھائی کی طرح پاس آتے اور بچوں کی طرح حرکتیں کرکے ہنسا دیتے تھے ۔تو کبھی ایک دوست کی طرح اداسی کا سبب پوچھتے تو کبھی سر پر ہاتھ پھیر کر کہتے کیا ہوا میرا بیٹا کیوں پریشان ہے ۔ کیا ہوا بچہ ۔۔؟ اتنی اداس کیوں ہے گڑیا کوئی فکر ہے بیٹا ؟ کیا سوچ رہی ہوں ممہ نے ڈانٹا ۔۔؟ میں روتے ہوئے سر ہلادوں گر تو ملزم حاضر ہوں ۔ اور میری ہنسی نکل آتی یقین مانے یہ لمحہ ہر اداسی میں ہمیشہ مس کرتی ہوں ہر فکر و قلق میں ان کہ الفاظ ذہن میں گونجتے ہیں ۔ آنسو آجاتے ہے وہ سلوب محبت بھرا وہ شفقت کا ہاتھ سر پر جیسے آج بھی ہوں ،آنکھیں رو رو کر سو جایئں تو خواب میں آکر کہتے تجھے یہاں اچھا نہیں لگتا تو چل میرے ساتھ ۔ یا پھر یہ لیں اسے پاس رکھ تیری ہر مشکل کم ہو جایئں گی ۔ تو کبھی کہتے میرا بیٹا تو بہت بہادر ہے گر تو ٹوٹ گئی تو تیری ممہ اور بہن بھائی کا کون خیال رکھے گا۔ اللہ گواہ ہے بہت دفعہ خوابوں میں آکر وہ مجھے سمجھاتے ۔ موت سے آنکھ ملا کر باتیں کرنے والے ایک سچے مؤمن اور بہادر انسان تھے ۔ آخری بار بس اتنی ہی بات کی تھی مجھ سے، بیٹا میرا ویزا ٹکٹ آگیا ہے میں شاید نا اسکوں اس دفعہ اللہ تعالی سے ملنے چلا جاؤں گا ۔تم لوگوں کہ ساتھ عید کا چاند نا دیکھ سکوں ۔ آج آماں سوئی ہے ان کی دعا بھی نہیں لے سکا انھیں میرا پیغام دینا کہ پاکستان کہ لئے وہ دعا کریں اور تم لوگ میرا نتظار نا کرنا ۔ وعدہ کر بیٹا گر مجھے کچھ ہوگیا تو تو بچوں کو نئے کپڑے پہنا کر میری قبر پر بھیجے گی ۔ تیری ماں سے یہ کہنے کی ہمت نہیں تو میرا سمجھدار بچہ ہے ۔ ان سب کا خیال رکھے گی ۔ میں جانتا ہوں تو ابھی اتنی بڑی نہیں کہ اتنا سب کر سکیں لیکن تیری سمجھداری پر ہمیشہ ناز رہا ہے مجھے ۔ میں نے تیرے انکل سے بھی بات کی تھی گلف میں گر تم لوگوں کو کچھ تکلیف ہوں تو وہ ضرور ساتھ دے گے تم لوگوں کا ۔ بیٹا میری کمی کا احساس ہونے نہیں دینا مہندی لگانا اور میری قبر پر نئے کپڑے پہن کر تم سب آنا مجھے عید کی یہ خوشی قبر میں ہی محسوس ہوں وعدہ کر بیٹا کرے گی نا یہ سب ۔ میں آنکھوں میں آنسو لاکر ان کہ سینے سے لگ جاتی ہوں ابو یہ کیسا وعدہ ہے ۔۔؟ ابو ایسا تو نا بولو ،آپ ضرور آؤں گے واپس ۔ پھر جب گیئں تو بس ان کی خبر ہی آئی 27 روزے پر وہ بھی بڑی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے درد ناک صورت میں میں نے اپنے چھوٹے ہاتھوں سےاپنے بھائی بہن کو ان کہ قبر پر بھیجا تھا ۔ اپنا وعدہ نبھانے اور امی کی حالت مت پوچھیں ان کہ جانے کہ بعد سب نے امی کا جینا حرام کردیا بیوہ بیوہ کہہ کر اور ہمارا یتیم یتیم بلانا چھوٹی بہن جو تھی وہ پوچھتی بہت تھی ابا کہاں ہے؟ یہ یتیم کیا ہوتا ہے ۔؟ بہت مشکل ہوتا تھا اس کہ چھوٹے ذہن میں سے یہ بات ہٹانا ۔ لوگ بچارے یتیم ہے یتیم ہے خیرات صدقات بھیجنے لگے رمضان کا ماہ تھا دادی کو بہت خراب لگتا رو رو کر کہتی تھی میرا بیٹا مرا نہیں شہید ہوا ہے زندہ ہے وہ مجھے فخر ہے اس پر ان معصوم بچوں کو یتیم بلا کر انھیں احساس نا دلاؤ ابھی تو یہ سمجھ ہی نہیں پا رہے ہے کہ ان کہ ابا نہیں رہے ۔ پھر بھی آڑوس پڑوس والے کھانا دے دوں ان یتیموں کو ماں بیوہ صدمہ سے لاش بنی ہے اس بیوہ کو فکر نہیں یتیموں کی ۔ کھانا کھلائے گے تو ہمیں بھی ثواب ملے گا ۔ کیسا سلیقہ تھا احسان سے پہلے احسان جتانے کا اور وہ بھی سب کہ سامنے دادی کو بہت برا لگتا تھا ۔ یہ سب سن کر دادی بہت روتی تھی لوگوں کو بھی زخموں پر نمک لگانا اچھا لگتا تھا ۔ دادی سے سب سہا نہیں جاتا تھا ،اپنے پرائے زمین جایئداد کو لیکر امی کا جینا مشکل کر رہے تھے جان بوجھ کر ٹوچر دیتے تھے ۔ لالچ نے کہیں تو کہیں موقعہ کا فائدہ اٹھانے کی غرض سے باتیں بناتے سب ایک سال امی کا عذاب اور ہسپٹال میں چکر لگاتے گزر گیا دادی کبھی بیتے کہ شہید ہونے پر صبر سے فخر بھی کرتی تھی تو کبھی صدمہ سے بہوش ہوجاتی تھی ،آخر کار دادی نے انکل سے کہا ابا نے بہت احسان کیئےہے ان پر اور یہ دینا والے بیوہ بیوہ ہر قدم پر بول بول کر بچوں کا اور امی کا جینا حرام کر چکے ہے ، تو ہمیں وہاں بلا لیں بیٹا اس طرح گلف میں ہم لوگ آ گیئں لیکن پاکستان کی یادیں اور وطن کی خشبو جیسے دل میں بسی ہوں روح میں اتر جاتا ہے احساس وطن کا ۔ کافی عرصہ بعد وہی خواب آیا تھا تو میں ڈر گئی تھی ۔ امی نے دورد شریف پڑھنے کی تسکین کی اور میں پڑھتے پڑھتے سو گئی تھی تو ابا ہی خواب میں آکر سمجھائے تھے بیٹا میں نہیں تو کیا ہوا اللہ تیرے ساتھ ہے تو ڈر مت اس دفعہ ایسا کچھ نہیں ہوگا ،اس وقت اللہ کا بلاوا تھا میرے لئے ۔ اور یہ نا سوچ سب تجھے یتیم بلاتے ہیں ۔ انھیں کہنے دے میں تم لوگوں کہ ساتھ ہوں ہمیشہ سے ۔ اور یہاں میں ہی نہیں ایسے بہت میرے ساتھی ہے جو اپنے معصوم بچوں کو ہمیشہ چھوڑ کر دارِ دنیا سے دارِ آخرت پہنچ چکے ہیں ۔ کتنے بےبس ہے ان کا تو کوئی بھی سہارہ نہیں ہوسکے تو ان کہ حق میں دعا کرنا ۔ اللہ خیر کرے گا ۔تیرے خواب کی تعبیر اچھائی میں بدل دے گا ۔ حالات کی ستم ظرفی دیکھ چکی تھی تو خواب سے بھی اکثرڈ ر جاتی تھی ۔ ہمیشہ ایسا محسوس ہوا امی کو دادی کو مجھے کہ ابا بعد مرنے کہ بھی ہمارے ساتھ ہوں جیسے ہر مشکل ہر تکلیف میں وہ کسی نا کسی کہ خواب میں آکر تسلی دیں جاتے تھے ۔ یہ بچپن کی یادوں میں سمیٹا ان سے میرا مختصر خاکہ تھا لیکن ہر وقت آج بھی جیسے ابا ہمارے ساتھ ہوں ۔ آپ سب سے التجا ہے کہ میرے والد کہ لئے دعاکرنا بس اللہ تعالی انھیں یقیقناً جنت کی نعمتوں سے نواز رہا ہوں گا اللہ ان

    پراپنی رحمت کےسائے ہمیشہ قائم دائم رکھے اور ان کی روح مبارک کو اپنے نور سے منور رکھے آمین ژمہ آمین

    اور جن جن کہ والدین میں سے جو فوت ہو ئے ہے اے اللہ تعالی ان کہ بھی درجات بلند کرکے ان کی مغفرت کرے

    اللہ تعالی مرحوموں کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے اور لواحقین کو صبر اور ہمت عطا کرے۔۔۔ آمین

    رایئٹر ریشم

    نوٹ

    آخر میں میرے ابو اور تمام مرحومین کہ لئے سورۃ فاتحہ اور اخلاص پڑھنے کی ریکویسٹ کرتی ہوں ۔

    جزاک اللہ خیر ۔۔۔
    Last edited by *resham*; 22-04-2013 at 11:14 PM.

  2. #2
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: بابا حبیبی میرے مرحوم والد کہ نام ۔۔۔۔۔۔

    bohatt aallaa likhaa howaa haiiii





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  3. #3
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default Re: بابا حبیبی میرے مرحوم والد کہ نام ۔۔۔۔۔۔

    bohat khubsurat likha hai heart touching

    جن کہ والدین میں سے جو فوت ہو ہے اے اللہ تعالی ان کہ بھی درجات بلند کرکے ان کی مغفرت کرے
    اللہ تعالی مرحوموں کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے اور لواحقین کو صبر اور ہمت عطا کرے۔۔۔ آمین

    eq2hdk - بابا حبیبی میرے مرحوم والد کہ نام ۔۔۔۔۔۔

  4. #4
    Join Date
    May 2012
    Location
    !!!KiSii Kii DuAouN meii!!!:):)
    Posts
    10,485
    Mentioned
    83 Post(s)
    Tagged
    10415 Thread(s)
    Thanked
    28
    Rep Power
    2184012

    Default Re: بابا حبیبی میرے مرحوم والد کہ نام ۔۔۔۔۔۔

    bht bht xbrdast likha haii reshu
    ---------------- -----------------

    sigpic16201 13 - بابا حبیبی میرے مرحوم والد کہ نام ۔۔۔۔۔۔


    -------------------------------------------------------------
    some people are worth
    melting for....!!!
    ..(olaf)..
    ------------------------------------------------------------------------


  5. #5
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    k, s, a
    Posts
    14,631
    Mentioned
    215 Post(s)
    Tagged
    10286 Thread(s)
    Thanked
    84
    Rep Power
    1503265

    Default Re: بابا حبیبی میرے مرحوم والد کہ نام ۔۔۔۔۔۔

    Bhot allaa likha hai
    Resham really good

  6. #6
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Desert
    Posts
    1,138
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    1957 Thread(s)
    Thanked
    3
    Rep Power
    6

    Default Re: بابا حبیبی میرے مرحوم والد کہ نام ۔۔۔۔۔۔

    بہت ہی خوبصورت جاں گداز تحریر ۔ اللہ تعالٰی آپ کے اور تمام لوگوں کے مرحوم ماں باپ کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور آپ لوگوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
    باقی رہی بات خوابوں کی تو انشااللہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ میرے چچا بھی انتقال کر گیے تھے تو ہم نے چچی اور انکی بیٹی کو کہیں نہیں جانے دیا تھا اور آج تک کسی کے منہ سے میں نے اس کے لیئے یتیم کا لفظ نہیں سنا کیونکہ ہم نے اسے بہنوں کی طرح رکھا ۔ لوگ اس کو ہماری ہی بہن سمجھتے ہیں۔ اب ماشااللہ وہ یونیورسٹی میں پڑھ رہی ہے ۔
    میرے چچا موت سے پہلے بہت کہتے تھے کہ میرے بعد میری بچی کا خیال رکھنا ہم کہتے تھے آپ کو کچھ نہیں ہوگا لیکن وہ اچانیک اللہ کے پاس چلے گئے ۔ میں اب جب بھی پریشان ہوتا ہوں تو وہ لازمی میرے خواب میں آتے ہیں اور میری پریشانی کا حل نکل آتا ہے ۔ اللہ انکی بخشش کرے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے -
    اللہ سب کے ماں باپ کو سلامت رکھے اور ان کی زندگی میں ان کی قدر کرنا سکھائے ۔

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •