ایک بار کا ذکر ہے۔ مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ سامنے والی نشست پر ایک بڑے شائستہ اور نستعلیق سوٹ بوٹ صاحب تشریف فرما تھے․کچھ ابتدائی بات ہوئی مگر سوٹ صاحب کو مولوی صاحب بڑے دقیانوسی اور قوم کی پسماندگی کی دلیل نظر آئے۔چنانچہ بات چیت زیادہ آگے نہ بڑھی۔کچھ دیر بعد سوٹ صاحب کو بیت الخلا کی حاجت ہوئی۔مگر بیت الخلا کا دروازہ کھولتے ہی انہوں نے ناک پر رومال رکھ لیا اور
جھٹ سے دروازہ بند کرکے واپس اپنی نشست پر آبیٹھے․بیت الخلا میں کسی بے ہودہ شخص نے سارے میں غلاظت پھیلا دی تھی۔واقعی کوئی نفاست پسند شخص وہاں ناک نہیں دے سکتا تھا۔سوٹ صاحب کی ضرورت شدید ہوئی تو وہ پھر اٹھے، مگردوبارہ اندر جانے کی ہمت نہ کر سکے اور واپس آگئے۔ایسا تین چار بار ہوا۔ اب مولانا حسین احمد اٹھے۔لوٹا ہاتھ میں لیا اور بلا جھجک بیت الخلا میں داخل ہوکر دروازہ اندر سے بند کر لیا ۔ سوٹ صاحب نے ایک مولوی کی اس بے حسی پر ناک منہ بنایا۔ انہیں یوں بھی کسی مولوی سے تہذیب تمیز کی امید نہیں تھی۔
دس پندرہ منٹ بعد مولانا بیت الخلا سے برآمد ہوئے اور سوٹ صاحب سے کہا:
واقعی اندر بے حد غلاظت تھی اوروہاں جانا آپ کی نفاست پسندطبیعت سے بعید تھا ، مگر آپ کی سخت ضرورت دیکھ میں نہ رہ سکا۔میں نے بیت الخلا کو خوب اچھی طرح دھو دیا ہے۔اب آپ اطمینان سے جا سکتے ہیں۔
ہے کوئی آج ایسے اخلاق کا مظاہرہ کرنے والا ؟؟