Results 1 to 3 of 3

Thread: Meer Sahab

  1. #1
    taqwimulhaq's Avatar
    taqwimulhaq is offline ابتِ يوسف و محمود
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    Peshawar
    Age
    37
    Posts
    1,040
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    1903 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    9

    candel Meer Sahab

    جب میر صاحب لکھنؤ پہنچ گئے تو وہاں ایک مشاعرہ ہو رہا تھا، میر صاحب نے بھی اپنا نام بھیجا کہ میں بھی شعر کہنا چاہتا ہوں، لیکن جب مشاعرے کے ناظم نے ان کو دیکھا تو ان کی حالت بہت ہی خراب تھی اور چار و ناچار سٹیج پر اعلان کیا کہ کوئی میر صاحب ہیں، اشعار کہنا چاہتے ہیں،
    لیکن جب وہ سٹیج پر آئے تو کمال کے تین اشعار کہے، ملاحظہ ہوں

    کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنوں
    ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
    دلی جو اک شہر تھا عالم میں انتخاب
    رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
    اس کو فلک نے لوٹ کر ویران کر دیا
    ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

    جب میر صاحب نے یہ اشعار کہے تو سب لوگ سمجھ گئے کہ یہ تو واقعی میر صاحب ہیں اور پھر ان کی خوب عزت کی۔

  2. #2
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    k, s, a
    Posts
    14,631
    Mentioned
    215 Post(s)
    Tagged
    10286 Thread(s)
    Thanked
    84
    Rep Power
    1503265

    Default re: Meer Sahab

    bhot ache
    thank for sharing

  3. #3
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default re: Meer Sahab

    nyc sharing





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •