Results 1 to 2 of 2

Thread: پھر اشتیاق کا عالم رہے رہے نہ رہے

  1. #1
    Join Date
    May 2012
    Location
    lhr
    Age
    34
    Posts
    227
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    188 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    6

    Default پھر اشتیاق کا عالم رہے رہے نہ رہے

    ہم اشکِ غم ہیں، اگر تھم رہے رہے نہ رہے
    مژہ پہ آن کے ٹک جم رہے رہے نہ رہے

    رہیں وہ شخص جو بزمِ جہاں کی رونق ہیں
    ہماری کیا ہے اگر ہم رہے رہے نہ رہے

    مجھے ہے نزع، وہ آتا ہے دیکھنے اب آہ
    کہ اس کے آنے تلک دم رہے رہے نہ رہے

    بقا ہماری جو پوچھو تو جوں چراغِ مزار
    ہوا کے بیچ کوئی دم رہے رہے نہ رہے

    چلو جو ہم سے تومل لو کہ ہم بہ نوکِ گیاہ
    مثالِ قطرۂ شبنم رہے رہے نہ رہے

    یہی ہے عزم کہ دل بھر کے آج رو لیجے
    کہ کل یہ دیدۂ پُرنم رہے رہے نہ رہے

    یہی سمجھ لو ہمیں تم کہ اِک مسافر ہیں
    جو چلتے چلتے کہیں تھم رہے رہے نہ رہے

    نظیر آج ہی چل کر بتوں سے مل لیجے
    پھر اشتیاق کا عالم رہے رہے نہ رہے

    (نظیر اکبر آبادی)
    Merey jaisi aankhon walay jab Sahil per aatay hain
    lehrain shor machati hain, lo aaj samandar doob gaya

  2. #2
    taqwimulhaq's Avatar
    taqwimulhaq is offline ابتِ يوسف و محمود
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    Peshawar
    Age
    37
    Posts
    1,040
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    1903 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    9

    Default Re: پھر اشتیاق کا عالم رہے رہے نہ رہے

    نظیر اکبر آبادی، نظم کا شاعر، بہت خوب

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •