Results 1 to 5 of 5

Thread: ہمارا سنہرا ماضی، ہمارے نایاب حکمران

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default ہمارا سنہرا ماضی، ہمارے نایاب حکمران


    ہمارا سنہرا ماضی، ہمارے نایاب حکمران

    امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب ٗ نے حضرت ابو عبیدہ ٗ کی وفات کے بعد حضرت عمیر بن سعد ٗ کو حمص کا گورنر بنا کر بھیجا ایک سال تک حضرت عمر ٗ کے پاس حضرت عمیر بن سعد ٗ کی کوئی خبر نہیں آئی تو حضرت عمر ٗ نے ایک دن اپنے کاتب کو حکم دیا کہ عمیر ٗ کو خط لکھو کہ میرا خیال ہے تم نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے ، جونہی یہ خط ملے فوراً ھمارے پاس آؤ اور وہ سارا مال لے کر آؤ جو تم نے مالِ غنیمت سے حاصل کیا ہے۔
    چنانچہ خط پڑھتے ہی حضرت عمیر بن سعد مدینہ کیلئے تیار ہوئے، اپنا چمڑے کا تھیلا اٹھایا، اس میں اپنا توشہ اور پیالہ رکھا، چمڑے کا لوٹا تھیلے سے باندھ کر لٹکا لیا اور حمص سے پیدل مدینہ کی جانب چلے، جب مدینہ پہنچے تو آپکا رنگ بدلا ہوا تھا، چہرہ غبار آلود تھا، بال لمبے ہو چکے تھے، حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: السلام علیکم یا امیر المؤمنین! حضرت عمر نے پوچھا: کیا حال ہے؟ حضرت عمیر بن سعد بولے: آپ مجھے کس حال میں دیکھ رہے ہیں؟ کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ میں صحتمند اور پاکیزہ خون والا ہوں اور میرے ساتھ میری دنیا ہے جس کی میں باگ پکڑ کر لایا ہوں، حضرت عمر سمجھے کہ یہ اپنے ساتھ بہت سارا مال لائے ہونگے جو ابھی پہنچا نہیں ہے، اسلیئے پوچھا : کہاں ہے تمہارا مال؟ حضرت عمیر بن سعد نے جواب دیا کہ میرے پاس ایک تھیلا ہے، جس میں میں اپنا توشہ اور پیالہ رکھتا ہوں، پیالہ میں کھا بھی لیتا ہوں، سر بھی دھو لیتا ہوں اور اسی میں کپڑے بھی دھو لیتا ہوں، ایک لوٹا ہے جس میں وضو کرتا ہوں اور پیسے بھی رکھ لیتا ہوں، ایک لاٹھی ہے جس پر ٹیک لگاتا ہوں اور دشمن کا مقابلہ بھی اسی سے کرتا ہوں، خدا کی قسم میری دنیا تو یہیں پر ختم ہے۔ حضرت عمر نے پوچھا :حمص میں تمہارا کوئی جاننے والا نہیں تھا کہ اس سے تم سواری مانگ کر لے آتے؟ حضرت عمیر بن سعد نے جواب دیا: میں نے کسی سے مانگی ہی نہیں سواری۔ حضرت عمر نے فرمایا: برے مسلمان ہیں جنہوں نے اپنے گورنر کا خیال نہیں کیا۔ حضرت عمیر بن سعد نے فرمایا: اے عمر! اللہ سے ڈریئے، اللہ نے غیبت سے منع فرمایا ہے، جب کہ میں نے وہاں کے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھتے دیکھا ہے (جو شخص صبح کی نماز پڑھ لیتا ہے وہ اللہ کے ذمہ میں آجاتا ہے) پھر حضرت عمیر بن سعد نے فرمایا: اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ نہ بتانے سے آپ غمگین ہونگے تو میں آپ کو نہ بتاتا، چنانچہ جہاں آپ نے مجھے بھیجا میں نے وہاں کے نیک لوگوں کو جمع کیا اور مسلمانوں سے مالِ غنیمت جمع کرنے کا انکو ذمہ دار بنایا، چنانچہ اس مال کو میں نے صحیح مصرف میں خرچ کیا اگر شرعاً آپکا حصہ بھی ہوتا تو ضرور لاتا! حضرت عمر نے فرمایا: میں آپکو حمص کا گورنر برقرار رکھنا چاہتا ہوں، حضرت عمیر بن سعد نے فرمایا: نہیں امیر المؤمنین! آپ نے مجھے یہ عہدہ دیکر ہلاکت میں ڈال دیا ہے ، بہت بڑی ذمہ داری ہے ، اب مجھے اس سے دور ہی رکھیں۔ چنانچہ حضرت عمر نے انکو اجازت دیدی اور حضرت عمیر بن سعد اپنے گھر لوٹ آئے۔

    جب حضرت عمیر بن سعد اپنے گھر واپس چلے گئے تو حضرت عمر نے فرمایا: میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ عمیر نے سچ کہا یا جھوٹ؟ پھر حضرت عمر نے حارث نامی آدمی کو 100 دینار دے کر کہا یہ لے جاؤ، اور عمیر کے پاس اجنبی مہمان بن کر ٹھہر جاؤ، اگر عمیر کے گھر میں فراوانی دیکھو تو میرے پاس لوٹ آؤ اور اگر تنگی دیکھو تو یہ 100 دینار انہیں دے دینا۔
    چنانچہ حارث انکے گھر گئے تو حضرت عمیر بن سعد نے انکو مہمان بنا لیا، حارث انکے گھر 3 دن ٹھہرے، ان کے ہان جَو کی صرف ایک ہی روٹی ہوتی تھی جسے مہمان کھا لیتا اور میزبان بھوکے رہ جاتے، آخر جب فاقہ زیادہ ہوگیا تو حضرت عمیر بن سعد نے حارث سے کہا: کہ اب فاقوں کی نوبت آگئی ہے، مناسب سمجھو تو کہیں اور چلے جاؤ! اس پر حارث نے 100 دینار نکالے اور پیش کیئے ، ساتھ کہا کہ امیر المؤمنین نے آپ کیلئے بھیجے ہیں۔ حضرت عمیر بن سعد نے دینار نہ لیئے اور کہا کہ یہ واپس لے جاؤ، ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ اتنے میں بیوی نے کہا: دینار لے لو، اگر ضرورت پڑی تو استعمال کرلینا ورنہ مناسب جگہ خرچ کردینا، چنانچہ حضرت عمیر بن سعد نے وہ دینار لے لیئے پھر باہر تشریف لائے اور سارے فقراء و مساکین میں خرچ کردیئے۔
    حارث جب مدینہ پہنچے اور کارگزاری سنائی تو امیر المؤمنین نے حضرت عمیر بن سعد کو فوراً مدینہ طلب کیا، جب حضرت عمیر بن سعد مدینہ پہنچے تو حضرت عمر نے پوچھا کہ تم نے دیناروں کا کیا کیا؟ حضرت عمیر بن سعد نے جواب دیا: انکو میں نے اپنے اگلے جہان کیلئے بھیج دیا ہے۔
    حضرت عمر نے فرمایا: اللہ آپ پر رحم فرمائے! پھر حکم دیا کہ حضرت عمیر بن سعد کو ایک وسق (پانچ من دس سیر) غلہ اور دو کپڑے دیئے جائیں، حضرت عمیر بن سعد نے جواب دیا: مجھے غلہ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں گھر پر دو صاع (سات سیر) جَو چھوڑ کر آیا ہوں، اُن دو صاع کے کھانے سے قبل ہی اللہ اور رزق پہنچادینگے، چنانچہ حضرت عمیر بن سعد نے غلہ تو نہ لیا البتہ کپڑے لےلیئے اور فرمایا کہ فلاں امِ فلاں کے پاس کپڑے نہیں ہیں، اسکو دونگا، پھر اپنے گھر لوٹ آئے اور تھوڑے دنوں بعد اللہ کو پیارے ہوگئے۔ جب انکی وفات کی خبر حضرت عمر کو پہنچی تو فرمایا: اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے، پھر حاضرین سے فرمایا: میری آرزو ہے کہ میرے پاس عمیر جیسے لوگ ہوں جن سے میں سرکاری کام لے کر مسلمانوں کی خدمت کروں۔

    ماخوذ از حدیث کنز العمال حدیث : 37445

  2. #2
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi/Lahore Pakistan
    Posts
    12,439
    Mentioned
    34 Post(s)
    Tagged
    9180 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    249126

    Default Re: ہمارا سنہرا ماضی، ہمارے نایاب حکمران

    superb sharing

  3. #3
    Join Date
    Dec 2010
    Location
    Jinzhou, Liaoning, China, Madinah Saudi Arabia
    Posts
    12,264
    Mentioned
    82 Post(s)
    Tagged
    7842 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    895521

    Default Re: ہمارا سنہرا ماضی، ہمارے نایاب حکمران

    ya ALLAH irhamnee ...

  4. #4
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: ہمارا سنہرا ماضی، ہمارے نایاب حکمران

    superb sharing

  5. #5
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Mideast
    Posts
    5,915
    Mentioned
    213 Post(s)
    Tagged
    5074 Thread(s)
    Thanked
    176
    Rep Power
    10

    Default

    V good

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •