Results 1 to 5 of 5

Thread: ن م راشد – ایک تعارف

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default ن م راشد – ایک تعارف


    ن م راشد – ایک تعارف

    نذر محمد راشد عام طور پر جو کہ ن م راشد کے نام سے جانے جاتے ھیں 1910 میں آکال گڑھ ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے (موجودہ علی پور چٹھہ جو کہ اب پاکستان میں ہے) ابتدائی تعلیم آکال گڑھ اور اعلٰی تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی- اردو اور فارسی سے محبت انہیں اپنے والد اور دادا سے وراثت میں ملی- غالب، اقبال، حافظ شیرازی اور سعدی سے راشد کا تعارف انکے والد فضل الٰہی چشتی کے ہی طفیل ہوا- گورنمنٹ کالج، لاہور میں تعلیم کے دوران راشد “راوی” کے اڈیٹر مقرّر ہوئے، بعد میں کچھ وقت کے لئے وہ تاجور نجیب آبادی کے رسالے شاہکار کی بھی ادارت کرتے رہے- کچھ عرصہ ملتان میں کمشنر آفس میں سرکاری ملازمت بھی کی اور اسی دوران راشد نے اپنی پہلی آزاد نظم “جراءت پرواز” لکھی جو کہ انکے پہلے مجموعے “ماوراء” میں شامل ہے – ضمنا” ایک ذکر کہ پاکستان کے ایک بہت بڑے اشاعتی ادارے کا نام بھی ان کے اسی مجموعے کے نام سے متاثر ہو کر رکھا گیا-
    1939 میں راشد آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے اور کچھ عرصے بعد انہیں پروگرام ڈائریکٹر بنا دیا گیا اور تقسیم کے بعد ریڈیو پاکستان میں وہ ریجنل ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کرتے رہے- کچھ عرصہ انہیں پاکستان کی طرف سے اقوام ِمتحدّہ کے صدر دفتر نیویارک میں بھی خدمات انجام دینے کا موقعہ ملا – ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے انگلستان میں مستقل سکونت اختیار کر لی اور اکتوبر 9 ، 1975 کو وہیں انتقال کیا – ان کی وصیّت کے مطابق انہیں ایک فرنس میں جلا دیا گیا- (راشد کے بعد دوسری شخصیت عصمت چغتائی کو بھی انکی وصیّت کے مطابق آگ میں جلایا گیا)
    راشد نے اپنے شاعر ہونے کا پتہ اپنے سکول دور میں ہی دے دیا تھا، تب وہ ردیف اور قافیہ میں پابند تھے- بعد میں انہوں نے ردیف اور قافیہ سے بے نیاز ہو کر جو شاعری کی وہ انہی کا خاصہ بن کر رہ گئ ان سے پہلے اور ان کے بعد ایسی آزاد شاعری کی اردو ادب میں مثال نہیں ملتی – اس ضمن میں ایک واقعہ جو کہ ان کے آل انڈیا ریڈیو کے زمانے کا ہے، قابل ذکر ہے – راشد نے اس وقت کے ایک بہت بڑے شاعر یاس یگانہ چنگیزی کو انٹرویو کے لیے بلایا تو کچھ دوست احباب شاعری پر گفتگو کر رہے تھے اور یاس یگانہ چنگیزی صاحب چونکہ آزادنظم کے سخت خلاف تھے اسلیے آزاد نظم کی مخالفت میں کافی لے دے کر رہے تھے کہ یکایک کسی نے ان سے کہا کہ راشد بھی آزاد نظم کہتے ہیں آپ ان سے ان کی نظم سنیں – راشد نے اپنی نظم سنائی تو یگانہ نے اٹھ کر انہیں گلے سے لگا لیا اور کہا کہ اگر یہ آزاد نظم ہے تو صرف تمہیں ہی آزاد نظم کہنے کا حق حاصل ہے – اس واقعے کی ایک خاص اہمیت ہے اور وہ یہ کہ راشد کی طرز کی آزاد نظم نہ تو کسی نے ان سے پہلے کہی اور نہ ھی بعد میں- یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ راشد کا ہر مصرع وزن میں ہے اور پورے کلام میں ایک بھی ایسا مصرع نہیں جو وزن سے خارج ہو – جبکہ آج کل کی آزاد نظم کو مادر پدر آزاد سمجھا جاتا ہے اور اس میں وزن کا کوئی خاص خیال نہیں رکھا جاتا -

    راشد کی شاعری عام شاعری نہیں اور یہ شاعری عام قارئین کے ذوق سے بھی ھٹ کر ہے – راشد کے ہاں جو استعارے اور تلمیحات استعمال ھوئی ھیں وہ نامانوس اور غیر روائیتی ہیں اسی لیے اکثر، عام قاری کے لیے انکا کلام نا فہم بھی ھو جاتا ہے – راشد کی شاعری اپنی ہم عصر فرانسیسی اور انگریزی شاعری سے متاثر ہے لیکن سب سے زیادہ انکی شاعری اپنی ہم عصر فارسی شاعری سے متاثر ہے- ان کی تلمیحات اور استعارات کی جڑیں براہ راست انکی ہم عصر فارسی شاعری سے جڑی ہوئی نظر آ تی ہیں – اس لیے انکی شاعری کو سمجھنے کے لیے انکی ہم عصر فارسی شاعری کا مطالعہ کرنا مدد گار ثابت ہوگا -

    انکی چار کتب کے نام مندرجہ ذیل ہیں -

    - ماوراء

    - ایران میں اجنبی

    - لا=انسان

    - گماں کا ممکن


    اسرافیل کی موت -ن م راشد نے یہ نظم ایوب کے مارشل لا کے دور میں تحریر و تقریر کی آزادی پر پابندی لگنے کے بعد کے تناظر میں لکھی تھی -
    اسرافیل کی موت – از ن م راشد

    مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاؤ
    وہ خداؤں کا مقرّب، وہ خداوندِکلام
    صوت انسانی کی روح ِجاوداں
    آسمانوں کی ندائے بے کراں
    آج ساکت مثل ِ حرفِ ناتمام
    مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاؤ!

    آؤ، اسرافیل کے اس خوابِ بے ہنگام پر آنسو بہائیں
    آرمیدہ ہے وہ یوں قرنا کے پاس
    جیسے طوفاں نے کنارے پر اگل ڈالا اسے
    ریگ ساحل پر، چمکتی دھوپ میں، چپ چاپ
    اپنے صور کے پہلو میں وہ خوابیدہ ہے!
    اس کی دستار، اس کے گیسو، اس کی ریش
    کیسے خاک آلودہ ہیں!
    تھے کبھی جن کی تہیں بود و نبود!
    کیسے اس کا صور، اس کے لب سے دور،
    اپنی چیخوں، اپنی فریادوں میں گم
    جھلملا اٹھتے تھے جس سے دیر و زود!

    مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاوء
    وہ مجسّم ہمہمہ تھا، وہ مجسّم زمزمہ
    وہ ازل سے تا ابد پھیلی ھوئی غیبی صداؤں کا نشاں!

    مرگِ اسرافیل سے
    حلقہ در حلقہ فرشتے نوحہ گر،
    ابن آدم زلف در خاک و نزاز
    حضرت یزداں کی آنکھیں غم سے تار
    آسمانوں کی صفیر آتی نہیں
    عالم لاہوت سے کوئی نفیر آتی نہیں!

    مرگِ اسرافیل سے
    اس جہاں پر بند آوازوں کا رزق
    مطربوں کا رزق، اور سازوں کا رزق
    اب مغنّی کس طرح گائے گا اور گائے کا کیا
    سننے والوں کے دلوں کے تار چب!
    اب کوئی رقاص کیا تھرکے گا، لہرائے گا کیا
    بزم کے فرش و در و دیوار چپ!
    اب خطیبِ شہر فرمائے گا کیا
    مسجدوں کے آستان و گنبد و مینار چپ!
    فِکر کا صیّاد اپنا دام پھیلائے گا کیا
    طائرانِ منزل و کہسار چپ!

    مرگِ اسرافیل ہے
    گوش شنوا کی، لبِ گویا کی موت
    چشم ِبینا کی، دلِ دانا کی موت
    تھی اسی کے دم سے درویشوں کی ساری ہاؤ ہو
    ــــــــ اہل دل کی اہل دل سے گفتگو
    اہل دل ــــــــــ جو آج گوشہ گیر و سرمہ در گلو!
    اب تنانا ہو بھی غائب اور یارب ہا بھی گم
    اب گلی کوچوں کی ہر آوا بھی گم!
    یہ ہمارا آخری ملجا بھی گم!

    مرگِ اسرافیل سے،
    اس جہاں کا وقت جیسے سو گیا، پتھرا گیا
    جیسے کوئی ساری آوازوں کو یکسر کھا گیا،
    ایسی تنہائی کہ حسن تام یاد آتا نہیں
    ایسا سنّاٹا کہ اپنا نام یاد آتا نہیں!

    مرگِ اسرافیل سے
    دیکھتے رہ جائیں گے دنیا کے آمر بھی
    زباں بندی کے خواب!
    جس میں مجبوروں کی سرگوشی تو ہو
    اس خداوندی کے خواب!۔





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: ن م راشد – ایک تعارف

    good work

  3. #3
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi/Lahore Pakistan
    Posts
    12,439
    Mentioned
    34 Post(s)
    Tagged
    9180 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    249126

    Default Re: ن م راشد – ایک تعارف

    very nice sharing

  4. #4
    taqwimulhaq's Avatar
    taqwimulhaq is offline ابتِ يوسف و محمود
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    Peshawar
    Age
    37
    Posts
    1,040
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    1903 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    9

    Default Re: ن م راشد – ایک تعارف

    ن۔ م راشد کا جلایا جانا اب بھی ایک معمہ ہے، جس کا کوئی اصلی وجہ اب تک سامنے نہ آ سکی،

  5. #5
    Join Date
    Dec 2010
    Location
    Jinzhou, Liaoning, China, Madinah Saudi Arabia
    Posts
    12,264
    Mentioned
    82 Post(s)
    Tagged
    7842 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    895521

    Default Re: ن م راشد – ایک تعارف

    Aapki sharing waqaii Urdu adab k lihaaz say outclass hoti hai
    Great Work Bro
    images?qtbnANd9GcSD7qCu5RmanJAqGaixYtC w47jXo28t NBgcZ q5Z33lher5Bl - ن م راشد – ایک تعارف

    Rehney Dey Is Dard Mein Zindaa
    Main Tanhaa Hee Sahee . . .

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •