Results 1 to 2 of 2

Thread: بجلی / لوڈ شیڈنگ

  1. #1
    The Prince's Avatar
    The Prince is offline میرا موبائل ہےناآپکے پاس۔
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Pakistan
    Posts
    839
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    35 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474843

    Default بجلی / لوڈ شیڈنگ

    بجلی / لوڈ شیڈنگ
    وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا ہو جائے۔ الیکشن مہم کے دوران مستقبل انتہائی قریب کی حکمران جماعت نے عوام سے بہت سے وعدے کیے۔ دہشت گردی کے خاتمے کا وعدہ (ہر فرد کے فائدے میں)، انصاف کا وعدہ (عوام الناس کا فائدہ) ، میٹر وبسیں چلانے کا فائدہ (غریب کو دال روٹی، کپڑا اور رہائش تو پھر بھی نہیں ملنی)، سڑکوں کا جال بچھانے کا وعدہ (غریب نے دو وقت کی روٹی کے لیے پھر بھی پیدل ہی سفر کرنا ہے) اور بجلی کے بحران کے حل سمیت بہت سے وعدے شامل ہیں۔ اور یہ وعدے آخر دم تک یعنی 9 مئی تک چلتے رہے۔ باقی وعدوں کے ساتھ جو ہو سو ہو، بجلی کے حل کرنے کا وعدہ ابھی سے ہی کھوہ کھاتے چلا گیا ہے، جبکہ ابھی عنان حکومت بھی نہیں سنبھالی۔ ابھی شیروانی زیرِ تعمیر ہے لیکن ابھی سے اس سادہ لوح قوم کو بتادیا گیا کہ وہ ہمیشہ کی طرح پھر سے بے وقوفت بن گئی ہے۔ ببانگِ دہل کہہ دیا گیا ہے کہ بجلی کے بحران کے حل کا کوئی مخصوص وقت نہیں دے سکتے۔ لوڈ شیڈنگ جیسے خود ساختہ، خود مسلط کردہ عذاب کو ختم نہیں کر سکتے۔
    ٹھیک ہے، لیکن یہ تو بتایا جا سکتا ہے کہ ابھی آپ نے حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھالی ہی نہیں تو پھر یہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ ایک دم سے کیوں بڑھ گیا ہے۔ پہلے 8 سے 12 یا 14 گھنٹے ہوتی تھی اب اچانک سے 16 سے 20 گھنٹے کیوں ہو گئی ہے؟ عوام میں سے کچھ سیانے کہتے ہیں کہ یہ بھی ایک کھیل ہے۔ جب حلف لے لیا جائے گا، وزارتیں بانٹ دی جائیں گی تو پھر کچھ دن یا مہینہ کہہ لیں یا اپنے سو دن کی ترجیحات میں سےایک ترجیح کو سامنے رکھتے ہوئے رفتہ رفتہ 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کو کم کرتے جائیں گے۔ اور کچھ ہفتوں میں عوام الناس کے لیے کم ہو کر واپس 8 سے 14، 16 گھنٹے ہو جائے گی۔ عوام بھی خوش اور حکمران بھی خوش کہ نیکی کر کے دریا میں ڈال دی ہے۔
    عوام عوام کو تو شاید ہی معلوم ہو کہ بجلی بنانے کے لیئے ڈیموں کا ہونا ضروری ہے۔ اور بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے یا کم ہونے کی وجہ سے چونکہ ڈیموں میں پانی کی سطح بہت نیچی ہوتی ہے جسکی وجہ سے ڈیموں سے بجلی پیدان کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ لیکن اس سادہ عوام کو کون بتائے کہ آج کے دور میں بجلی صرف ڈیموں سے ہی نہیں پیدا ہوتی ۔ اسکے اور بھی بہت سے ذرائع ہیں۔ اور یہ سارے ذرائع ہمارے گذشتہ 25 سال دور کے حکمرانوں کے سامنے رہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ انکو استعمال کرنے کی ، ان سے بجلی اور دوسری توانائی پیدا کرنے کی ان حکمرانوں کو حکامِ بالا کی جانب سے اجازت نہیں تھی۔ کون کہتا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کا حل ممکن نہیں۔ پانچ سال تو بہت بڑا عرصہ ہے، اگر وطن عزیز کے ساتھ کوئی مخلص ہو اور اسکے پاس اختیار بھی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ پیارے وطن کو لوڈ شیڈنگ کے عوامی عذاب سے نجات نہ مل سکے۔ مختلف اوقات کے دوران بہت سے حل تجویز کیے گئے اور تقریباً سارے کے سارے ممکنہ حل تھے۔ ہوائی چکیوں کی مدد سے ، شمسی توانائی سے ، کوئلے کی مدد سے، چھوٹے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اور اتنی مقدار میں کہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی کبھی لوڈ شیڈنگ نہ ہو۔ اور پھر مزید یہ کہ گذشتہ دورِ حکومت میں تو چین نے بھی پاکستان کو پیشکش کی تھی کہ وہ پاکستان میں بجلی پیدا کر سکتا ہے اور پورے پاکستان کی ضرورت کو پورا کر سکتا ہے، لیکن عمل درآمد کمیشن مافیا کسے کرے؟ پاکستان کا جنوبی حصہ سمندر کے کنارے پر ہے اور ہر وقت سمندر کی ہوائیں چلتی رہتی ہیں۔ پھر کچھ ارو مقامات ایسے ہیں کہ جہاں پر ہواؤں نے بسیرا کیا ہوا ہے۔ جن میں اکثریت پہاڑی مقامات کی ہے۔ تو ہواؤں کے علاقوں میں ہوائی چکیاں بنائی جا سکتی ہیں۔ تو جن علاقوں یہ چکیاں بنائی جائیں ، انکی مدد سے قریب کے علاقوں کقریب والی و وہ بجلی مہیا کی جائے۔ جیسے ساحلِ سمندر کے کے قریب والی ہوائی چکیوں کی مدد سے سندھ، بلوچستان کے علاقوں کو بجلی مہیا کی جاسکتی ہے۔ اندرونِ بلوچستان اور شمالی علاقہ جات میں پہاڑوں پر بنائی گئی ہوائی چکیوں کی مدد سے پیدا کی گئی بجلی ان علاقوں کو دی جاسکتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اللہ پاک کی طرف سے ہوا کا چلنا بند ہو جائے اور یہ علاقے جو صرف ہوائی چکیوں کی مدد سے مہیا کی بجلی کے مالک ہوں گے، دوبارہ لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے گزریں۔ لیکن متبادل نظام بھی تو کیا جا سکتا ہے۔ شمسی توانائی کی مدد سے تو پورے پاکستان کو بجلی مہیا کی جاسکتی ہے۔ اللہ نے پاکستان کو وہ خطہ بنایا ہے جہاں ایک وقت میں مختلف علاقوں میں مختلف موسم ہوتے ہیں۔ دھو پ سارا سال پڑتی ہے۔ کیا میدان و صحرا، کیا پہاڑ اور وادیاں، دھوپ کی نعمت ہر جگہ میسر ہے۔ شمسی توانائی کو استعمال کرتے ہوئے اگر پورے پاکستان کی چوبیس گھنٹے کی بجلی کی ضرورت کو پورا نہیں کیا جا سکتا تو پھر بھی آٹھ دس گھنٹے بجلی تو دی جا سکتی ہے۔ وہ وقت جو سورج طلوع و غروب کے اوقات ہوں یا پھر جمع شدہ توانائی کو رات کے وقت عوام الناس میں تقسیم کیا جائے۔ اگر کرائے کے بجلی گھروں پر کروڑوں لگانے کی بجائے اتنی ہی ہوائی چکیوں یا شمسی توانائی پر لگائے جاتے تو ہمیں بجلی بھی ملتی اور عدالتوں میں بے عزتی بھی نہ ہوتی۔ دنیا میں ساتویں ایٹمی قوت کے ہوتے ہوئے ہم ایٹمی توانائی سے بجلی نہیں پیدا کر سکتے تو یہ ہمارے لیے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ سکول کالج کے زمانے میں پڑھا تھا کہ کہ ایک چنے کے دانے کے برابر جتنے یورینیم سے حاصل کردہ توانائی اگر چوبیس گھنٹے بلاتعطل استعمال کی جائے تو سو سال تک کافی ہے۔ معلوم نہیں جدید تحقیق کیا کہتی ہے۔ لیکن یہ بات تو درست ہی ہو گی بجلی بنانے کے لیے جو سول نیوکلیئر ایٹمی پلانٹ بنایا جائے گا اس پر کثیر خرچہ آتا ہے۔لیکن ہمارےپاس پہلے سے جو پلانٹ موجود ہیں انکو ہی مزید بہتر کر کے کیا مزید بجلی نہیں پیدا کی جا سکتی؟ ممکن تو ہے لیکن اگر اس پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے تو بات بنے۔ جہاں تک پانی کی صورتحال ہے جو کہ ڈیم کو چلانے کے لیے ضروری ہے وہ بے شک بارشوں کا مرہونِ منت ہے یا پھر ہندوستان سے آنے والے دریاؤں کا جن پر اس نے جا بجا ڈیم بنا کر پاکستان کو بنجر کرنے کا پروگرام بنایا ہوا ہے۔ ہم میں تو اتنا حوصلہ بھی نہیں ، ہمت نہیں کہ ہم بہ آوازِ بلند ہندوستان کو ان منصوبوں سے روک سکیں۔ بین الاقوامی عدالت میں اپنا مقدمہ اس طرح پیش کریں کہ عدالت ہندوستان کو یہ ڈیم نہ بنانے پر مجبور کرے۔ اور آج انہی ڈیموں سے بنائی گئی بجلی پاکستان کو بیچنے کا پکا پروگرام بنائے بیٹھا ہے۔ بجائے یہ سارا کچھ کرنے کے ہم ہندوستان سے پیار کی پینگیں بڑھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ انہیں موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ دینے کی بات کر رہےہیں ، ابھی دیں یا ایک سال کے بعد۔ جبکہ یہی ہندوستان ہر لحاظ سے ، ہر موقع پر ، ہر مقام پر ہمیں، پاکستان کو رسوار کرنے کی ہی سوچتا رہتا ہے۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی تانے بانے بنتا رہتا ہے کہ کس طرح پاکستان کو (نعوذ بااللہ) میرے منہ میں خاک، صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے۔ وہاں پر کوئی پٹاخہ بھی پھوٹتا ہے تو بنا سوچے سمجھے پاکستان پر الزام لگا دیا جاتا ہے اور پھر بعد میں اس کو جائز ناجائز طریقے سے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اور ہم ان سے دوستی کرنے کی بات کرتے ہیں۔ کوٹلہ چانکیہ کے چیلوں کو صرف ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے جو انکی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق کافی ہے کہ دنیا میں صرف ہندو سب سے برتر ہیں، باقی سارے کمتر ہیں ، شودر ہیں اور شودروں کو زندہ رہنے کو کوئی حق نہیں۔ اور پھر پاکستان کو تو وہ شودروں سے بھی کمتر سمجھتا ہے۔ شاید پاکستان کو ختم کرنے کا (نعوذ بااللہ) یہی طریقہ سمجھ میں آتا ہے کہ پاکستان سے اوپر اوپر سے دوستی کی باتیں کی جائیں اور اندر اندر سے بموں کے دھماکے کروائے جائیں، بغاوتیں کروائی جائیں، دوسرے ممالک سے دشمنی کی راہ ہموار کی جائے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ان شاء اللہ ، پاکستان قیامت تک قائم رہنے کے لیے بنا ہے، اور رہے گا۔معذرت کے ساتھ، بات کہاں سے شروع ہوئی تھی اور کہاں پہنچ گئی۔ تو اس وقت پاکستان میں جو دریا بہہ رہے ہیں ان پر آٹھ آٹھ دس دس کلومیٹر کے فاصلے پر ٹربائن لگا کر بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ سو ، دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹے چھوٹے ڈیم بنائے جا سکتے ہیں جو کہ ارد گرد کے کافی علاقے کو بجلی مہیا کر سکیں اور اس علاقے کی زرخیزی میں بھی اضافہ کر سکیں۔ چھوٹے چھوٹے ڈیم یقیناً تعمیر ہو سکتے ہیں لیکن کوئی ہمت کہاں سے لائے۔ سنا ہے اور پڑھا ہے کہ پاکستان میں کوئلے کے ذخائر اتنے ہیں کہ اگر انہیں چوبیس گھنٹے استعمال میں لایا جائے تو سو سال کے لیے پورے پاکستان کے لیے کافی ہیں۔اور دنیا کا بہترین کوئلہ تھر میں پایا جاتا ہے۔ اگر ڈاکٹر ثمر مبارک مند گذشتہ حکومت کے شروع کے دور میں تین، چار کنوئیں بنا کر تھر کے کوئلے کو اس میں جلاتے ہوئے اس سے گیس بجلی پیدا کر سکتے ہیں تو کیا تین چار سو کنوئیں نہیں بنائے جا سکتے تھے۔ لیکن مسلہ یہ تھا کہ اسکے لیے اخراجات چاہیے تھے اور خزانہ ہمیشہ کی طرح خالی تھا، بے شک لوگوں کی جیبیں، سویز بینک بھرے ہوئے تھے۔ گذشتہ دورِ حکومت میں غالباً پہلے سال ہی چین نے پاکستان کو آفر کی کہ اگر حکومت پاکستان چاہے تو وہ پاکستان کے اندر پاکستان کے وسائل سے بجلی پیدا کرکے پورے پاکستان کو چوبیس گھنٹے روشن رکھ سکتا ہے۔ کبھی بھی لوڈ شیڈنگ کی نوبت نہیں آئے گی۔ اسکے بدلے میں چین نے شاید پچاس سال کی رائلٹی مانگی تھی۔ اور ہمارا تو یہ حال ہے کہ ہم سوئی گیس بلوچستان سے نکالتے ہیں لیکن رائلٹی انکو نہیں دی۔ تربیلا ڈیم سے آدھے پاکستان کو بجلی جاتی ہے لیکن رائلٹی خیبر پختونخوا کو نہیں دی۔ تو ہم چین کو کیسے دے سکتے ہیں۔ چین نے اس منصوبے کو بنا کر پاکستان کے دے دینا تھا اور ساتھ میں یہ بھی کہا تھا کہ پانچ مرلہ یا اس سے چھوٹے گھر کے (مراد دو سے تین کمرے، کچن لاؤنج) کے مکینوں سے دوسو سے پانچ سو روپے اور بڑے گھروں سے سات سو سے ہزار روپے فی ماہ بجلی کے بل کی مد میں وصول کیے جائیں گے۔ اور ہر گھر کو اجازت ہو گی کہ وہ کچھ بھی چلائے ، ایئر کنڈیشنر یا بجلی کے ہیٹر۔ بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی۔ جب سب کچھ چین نے کرنا تھا، خرچہ بھی اسکا اور انتظام بھی اسکا ، صرف وسائل ہمارے تو پھر چین کی کیوں نہ سنی گئی۔ اسکے بدلے یہ کہا جا سکتا ہے کہ روزگار بھی چین والوں کو ہی ملنا تھا، تو یہ شرط تو منوائی جا سکتی تھی کہ وہ اس منصوبے میں پاکستانیوں کو روزگار ضرور دے گا۔ لیکن شاید اسلیے چین کی نہیں سنی گئی کہ اس میں کمیشن نہیں ہو سکتا تھا۔ حالانکہ اسکا ایک حل جس میں کمیشن کا کمیشن اور حکومت کے خزانے میں بھی کروڑوں صرف بجلی سے۔ وہ یہ کہ جہاں چین نے پانچ سو طلب کیے تھے وہاں حکومت پانچ مرلہ سے پندرہ مرلہ کے گھروں سے پندرہ سو سے دو ہزار کا خرچہ رکھ لیتی اور پندرہ مرلے سے بڑے گھروں سے تین سے چار ہزار کا بل فکس کر دیتی۔ چین کو بھی اسکی مطلوبہ رقم مل جاتی ارو حکومتی خزانے میں بھی بہت کچھ جمع ہو جاتا اور جیب بھی کسی کا خالی نہ رہتا۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ بجلی چوری سے بھی نجات مل جاتی۔ لیکن عوام کو سکون کی زندگی کیوں گزارنے دی جائے۔ مسلم لیگ نون کو عوام نے اگر عنان حکومت تھما دی ہے تو انہیں چاہییے تھا کہ گذشتہ ادوار کی خامیوں ، کوتاہیوں اور غلطیوں پر نظر ڈالیں۔ اپنی بھی اور دوسروں کی بھی اور پھر اس سے سبق سیکھیں۔ اور ہر وہ کام کرنے سے گریز کریں جس کی وجہ سے عوام تکلیف میں ہو۔ کیونکہ اقتدار کی کرسی کے عین اوپر ہر وقت ننگی تیز دھاری نوکیلی تلوار لٹک رہی ہوتی ہے ۔ کرسی کے نیچے لکڑی کے پائے فکس ہونے کی بجائے ویسے ہی کرسی ان پر رکھی ہوتی ہے۔ اور کسی بھی ایک پائے کے ساتھ رسی بندھی ہوتی ہے اور اس رسی کا دوسرا سرا دنیا کے ، کائنات کے اصل حکمران کے پاس ہوتا ہے۔ باقی وہ خود سمجھدار ہیں۔ میٹرو بس کی وجہ سے عوام کا پیٹ نہیں بھرتا۔ موٹر وے اور سڑکوں کی وجہ سے عوام کو بجلی نہیں ملتی۔ گیس نہیں ملتی۔ لیپ ٹاپ سے کسی کے گھر میں چراغ نہیں چلتا، نہ روشنی کا نہ پیٹ بھرنے کا نہ انصاف کا۔ عوام کو اگر چاہیے تو دو وقت کی پیٹ بھر کر روٹی اور اگلے دن کی فکر سے نجات ۔ عوام کو چاہیے صحت و صفائی کی سہولت۔ عوام کو چاہیے دہشت گردی سے نجات۔ عوام کو چاہیے انصاف ارو فوری انصاف۔ کیا ضروری ہے کہ اپنے کارخانوں کا مال سڑکیں اور پل بنانے میں استعمال کریں۔ عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ آپ گندم ، چاول، چینی کو برآمد ہونے سے روکیں۔ انکی سمگلنگ کو روکیں۔ وطنِ عزیز میں ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے اسکی مصنوعی قلت نہ ہونے دیں۔ کیونکہ ابھی آپ نے حلف نہیں لیا تھا کہ عوام میں سے کچھ نے کہنا شروع کر دیا کہ چلو جی چینی اور آٹے کو اگلے دو تین سالوں کے لیےگھروں میں جمعہ کرنا شروع کر دو۔ یہ گذشتہ دور پر طنز نہیں تو کیا ہے۔ سر! آپ مہنگائی کا خاتمہ کریں اور بس پھر خود بھی چین سے ، سکون سے حکومت کریں اور عوام سے بھی آدھی رات کو تہجد کی نماز میں بد دعاؤں کی جگہ جھولی بھر بھر کر دعائیں لیں۔لیکن یہ دیکھ لیجئے گا کہ کہیں آپ کے اس طرح کے ایکشن لینے سے آپ کے وزراء میں سے یا قومی اسمبلی کے اراکین میں سے کسی کا یو پی ایس کا کاروبار متاثر نہ ہو۔ کہیں کسی نے جنریٹر امپورٹ کا ٹھیکہ لیا ہوا ہو تو وہ کہیں نقصان میں نہ چلا جائے۔۔
    *********************

    Mhbt zps0200a907 - بجلی / لوڈ شیڈنگ
    123 - بجلی / لوڈ شیڈنگ

  2. #2
    Join Date
    Oct 2017
    Location
    KSA
    Posts
    610
    Mentioned
    134 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    Thanked
    42
    Rep Power
    1

    Default

    Great

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •