حافظ آباد کی تازہ واردات ملاحظہ کریں جہاں ایک چودھری ارشاد احمد چٹھہّ نے نو عمر لڑکے کو صرف اس لئے مار مار کر ہلاک کردیا کہ اس نے اس کے مسلسل ظلم و ستم سے تنگ آ کر اس کی نوکری سے’’استعفیٰ‘‘ دے دیا تھا۔ شیطان صفت چودھری نے اسے دنیا ہی سے برطرف کردیا۔
نو عمر ساجد علی یتیم لڑکا تھا اور غربت کی وجہ سے اس کی بیوہ ماں نے ارشاد چٹھہ کے ہاں ملازم رکھوایا تھا۔ ارشاد کے مظالم ضرور بہت ہی زیادہ ہوں گے ورنہ غریب بچے ’’معمول ‘‘کا ظلم تو اُف کئے بغیرہی برداشت کر لیتے ہیں۔

یہ واقعہ صرف ایک مثال اس لئے ہے کہ اخبارات میں ہر ہفتے ایسے کئی خبریں ضرور چھپتی ہیں جن میں گھریلو ملازموں کی مالکوں کے ہاتھوں بے رحمانہ موت کی کہانی بیان ہوتی ہے اور قاتلوں میں کئی مرتبہ صاحب خانہ کے بجائے خاتون خانہ ملوث ہوتی ہے۔ سابق وزیراعظم گیلانی کی ایک رشتہ دار سفاّک عورت نے اپنا ملازم تیز دھار شیشے سے ذبح کیا تھا، اور یہ کل کی خبر ہے کہ بھلوال میں ایسی ہی ایک وحشی عورت شگفتہ نے اپنے ملازم تبسم کو اس کی کسی غلطی پر گولی مار کر قتل کردیا۔

ایک سال میں ایسے کم سے کم سو کے قریب واقعات ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے یہ واقعات بڑھ رہے ہیں کیونکہ غربت ایسی بے پناہ ہے کہ بے بس گھرانوں کے بچے چند سو روپوں کے لئے غلامی پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ ایک ظلم تو یہ واقعات ہیں، دوسرا ظلم غربت، تیسرا یہ کہ کوئی ان ظالموں کو سزا نہیں دیتا اور چوتھا یہ کہ جو حکومت بھی آتی ہے وہ غریبوں کی ذرا بھی مدد کرنے کے بجائے اشرافیہ ہی کو ریوڑیاں بانٹنے لگتی ہے۔

تازہ مثال نواز شریف ہیں، ان کی حکومت غریبوں کو مارنے اور اشرافیہ کو نوازنے کے سوا کچھ کررہی ہے تو ضرور اطلاع دیں تاکہ تصحیح کر لی جائے۔