اسلام آباد: پاکستانی صدر آصف علی زرداری آٹھ ستمبر کو صدرارتی مدت ختم ہونے کے بعد کرپشن کیسز کے ری اوپن ہونے ڈر اور سیکورٹی خدشات کی بناء پر پاکستان چھوڑ کر چلے جائیں گے۔
پاکستان کے انگریزی روزنامے ڈان کے مطابق صدر زرداری کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو درپیش سنگین خطرات کے باعث ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر زرداری کی ملک سے روانگی کی سب سے اہم وجہ کرپشن کیسز کا دوبارہ ری اوپن ہوسکتا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ نے پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کے خلاف کیس دوبارہ کھلنے کی سماعت شروع کردی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کے قانونی مشیروں کو معلوم ہے کہ صدارتی مدت ختم ہوتے ہی وہ صدارتی استثنیٰ کی ڈھال سے محروم ہوجائیں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی میں چیف سیکورٹی آفیسر بلال شیخ کی ہلاکت صدر زرداری اور ان کے خاندان کے لئے ویک اپ کال ہے، کیونکہ صدر کے عہدے سے ہٹنے کے بعد آصف زرداری کو بہت زیادہ سیکورٹی حاصل نہیں ہوگی اور وہ آسان ہدف ثابت ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں پیپلزپارٹی کے ایک رہنماء کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران صدر کی عوامی تقاریب میں شرکت بہت کم رہی ہے، وہ زیادہ تر اپنے بنکر میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، صدارتی مراعات سے محروم ہونے کے بعد وہ پاکستان میں رہنا پسند نہیں کریں گے۔