انسان دوسرے کی دولت ریکھ کر اپنے حالات پر اس قدر شرمندہ کیوں ھوتا ھے۔یہ تقسیم تقدیر ھے۔ہمارے لئے ہمارے ماں باپ ہی باعث تکریم ہیں۔ ہماری پہچان ہمارا اپنا چہرہ ھے۔ہماری عاقبت ہمارے اپنے دین میں ھے۔اسی طرح ہماری خوشیاں ہمارے اپنے حالات اور ماحول میں ہیں۔ہم یہ نھیں جان سکتے کہ فلاں کے ساتھ ایسا کیوں اور ہمارے ساتھ ویسا کیوں ہے۔
حضرت موسٰیٴ نے اللہ تعالٰی سے پوچھا ،
“اے رب العالمین! آپ نے چھپکلی کو کیوں پیدا کیا؟ “
اللہ تعالٰی نے جواب دیا “عجب بات ھے ابھی ابھی چھپکلی پوچھ رہی تھی ،اے رب العالمین آپ نے موسٰیٴ کو کیوں پیدا کیا؟“

بات وہی ھے کہ انسان اپنے نصیب پر خوش و راضی رہے تو ہی اسے اطمینان حاصل ہوگا۔ نصیب میں تقابلی جائزہ ناجائز ہے۔

واصف علی واصف