السلام علیکم
دنیا میں تو جب ہماری جلد کو تکلیف پہنچتی ہے تو ایک برداشت کی حد ہوتی ہے جب وہ حد گزر جائے جلد گل سڑ جاتی ہے اور انتہا انتہا انتہا یہ ہوتی ہے انسان مر جاتا ہے۔۔مر گیا تو تمام تکلیفوں سے نجات۔۔۔۔

لیکن جہنم میں تو موت بھی نہیں ہے۔۔۔۔وہاں جب تکلیف پہنچے گی تو جلد گلے گی سڑے گی ۔۔۔جلد ختم ہوئی اب انسان مر تو نہیں سکے گا پھر کیا عمل ہو گا

اللہ پاک کے قرآن کی بات پڑھیں


جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا، انہیں ہم یقیناً آگ میں ڈال دیں گے .جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سواء اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں یقیناً اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔
سورة النساء آیت نمبر56؀

یعنی اللہ پاک معاف فرمائے۔۔جلد جب جلے گی تو اللہ پاک نئی جلد پیدا فرما دیں گے اسی چیز کو حدیث کی روشنی میں بھی پڑھ لیں۔

۔ صحابہ کرام سے منقول بعض آثار میں بتلایا گیا ہے۔ کھالوں کی تبدیلی دن میں بیسیوں بلکہ سینکڑوں مرتبہ عمل میں آئے گی اور مسند احمد کی روایت کی رو سے جہنمی جہنم میں اتنے فربہ ہو جائیں گے کہ ان کے کانوں کی لو سے پیچھے گردن تک کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت جتنا ہوگا، ان کی کھال کی موٹائی ستر بالشت اور ڈیڑھ احد پہاڑ جتنی ہوگی۔

اے میرے رب۔۔۔ہم تیرے عذاب کا ہلکا سا جھٹکا بھی نہیں سہہ سکتے۔۔۔ہم گستاخوں اور نافرمانوں کو معاف فرما دے ۔۔اے میرا مالک ہم پر رحم فرمانا۔۔۔ہمیں اپنی رحمت کی آغوش میں لے لینا ،آمین