Results 1 to 6 of 6

Thread: Kya Likhon

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Kya Likhon




    کیا لکھوں؟
    _____________
    سبحان پور میں ایک خاں صاحب تھے۔ ان کی بیوی نہایت حسینہ جمیلہ تھی۔ خاں صاحب اکثر سفر میں ہوتے تو ان کی بیوی خط لکھوانے کے لیے مسجد کے مولوی صاحب کو بلا لیتی۔ وہ ہمیشہ پردہ میں رہ کر ہی لکھواتی اور مولوی صاحب کو کوئی ڈش وغیرہ کھلوا کر واپس بھیج دیتی۔ ایک دفعہ وہ نیک بخت پردہ میں بیٹھی خط لکھوا رہی تھی تو ہوا نے پردہ اٹھا دیا۔ مولوی صاحب کی نگاہ اس پردہ نشین سے دوچار ہوگئی۔اب کیا تھا مولوی صاحب کے ہوش و حواس جاتے رہے۔ اس کے بعد اس خاتون نے خط کا مضمون بتانا شروع کیا تو مولوی صاحب لکھنا بھول گئے۔ بار بار یہی کہتے کہ: کیا لکھوں؟ اب جب بھی وہ جو کچھ بھی کہتی اس کے جواب میں مولوی صاحب کی زبان سے یہی جاری رہا کہ: ’’کیا لکھوں؟‘‘

    آخر وہ خاتون سمجھ گئی کہ یہ بیچارا مولوی اس کے حسن کی تاب نہ لاسکا ہے اور عشق کے شاہیں نے طائر عقل کے پر نوچ لیے ہیں۔ اس نے اپنی کنیز کو اشارہ کیا کہ مولوی صاحب کو جلدی سے مسجد میں پہنچا دے۔ کنیز مولوی صاحب کو مسجد میں چھوڑ گئی۔ نماز کا وقت آیا۔ مؤذن نے اذان دی۔ مولوی صاحب امامت کرنے لگے اور سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد شروع کردیا: ’’کیا لکھوں… کیا لکھوں؟‘‘ لوگوں نے سوچا مولوی صاحب پر شاید پاگل پن کا دورہ پڑا ہے۔ کسی نے حکیم کو بلایا، کوئی شربت صندل لے کر مولوی صاحب کی خدمت میں لگ گیا۔ دوسرے دن صبح ناشتہ کرنے کے بعد مولوی صاحب قلم دوات لے کر بیٹھ گئے اور ہاتھ میں قلم لے کر پھر ورد کرنا شروع کردیا کہ: ’’کیا لکھوں… کیا لکھوں؟‘‘ مؤذن نے پھر لوگوں کو اکٹھاکیا تو مولوی صاحب فرمانے لگے کہ وہ کسی بڑے شہر میں اپنا علاج کرانے کے لیے جارہے ہیں اور مسجد کے معاملات کو مؤذن سنبھالیں گے۔ اس جنون کی حالت میں بھی وہ اس راز کو افشا ہونے سے بچانے کی کوشش میں تھے۔

    دس میل دور جنگل میں ایک خانقاہ تھی جہاں ایک ملنگ رہا کرتا تھا۔ مولوی صاحب شہر تو نہ گئے اس خانقاہ پر پہنچ کر وہیں اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ نہ بھوک لگتی نہ چین آتا۔ اندر ہی اندر گھلنے لگے۔ تین ماہ کا عرصہ گزر گیا۔ خاں صاحب سفر پہ تھے تو بیگم نے مولوی کو بلوا بھیجا۔ اس مرتبہ مؤذن جب خاں صاحب کے گھر پہنچا تو بیگم نے پوچھا کہ وہ پرانے مولوی صاحب کدھر ہیں؟ مؤذن نے تمام ماجرا بیان کردیا کہ وہ پاگل ہوگئے تھے۔ ہر وقت: ’’کیا لکھوں… کیا لکھوں؟‘‘ کہتے رہے۔ آخر وہ یہ بستی چھوڑ کر کہیں چلے گئے ہیں۔ عشق پر کبھی کبھی حسن کو ترس آجاتا ہے۔ بیگم نے خط وط تو کوئی نہ لکھوایا، مؤذن کو بھاری رقم دے کر کہا کہ آپ جائیں اور مولوی صاحب کو ڈھونڈ کر بتائیں کہ کہاں ہیں۔ مؤذن کو کچھ کچھ شک ہوا کہ معاملہ کچھ اور ہی ہے۔ وہ ایک ہمدرد انسان تھا اور مولوی صاحب کے اس پر پر بہت احسانات تھے۔ خاموشی سے مسجد میں لوٹا اور مولوی صاحب کی تلاش کے لیے سوچنا شروع کردیا۔

    ایک مہینہ اس نے مولوی صاحب کی تلاش کے لیے دن اور رات ایک کر دیئے۔ آخر بہت مشکلوں کے بعد اسے پتہ چل گیا کہ مولوی صاحب فلاں فلاں جگہ ایک خانقاہ میں وقت گزار رہے ہیں۔ ایک دن فجر کی نماز پڑھانے کے بعد مؤذن نے اس خانقاہ کی طرف سفر شروع کیا۔ سارا دن چلتے چلتے تھک گیا اور آخر پچھلے پہر وہ اس جگہ پہنچ گیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ ملنگ ایک تازہ قبر پر پانی چھڑک رہا ہے۔ ’’یہاں مولوی صاحب آئے تھے؟‘‘ مؤذن نے پوچھا۔ ’’یہ پڑے ہیں!‘‘

    ملنگ نے قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’کیا ہوا؟‘‘ ’’بس فنا ہوگئے ہیں۔‘‘ ’’وہ کیسے؟‘‘ ’’عشق کی وراثت منصور یا مجنوں کے لیے ہی نہیں۔ یہ تحفہ اوروں کو بھی مل سکتا ہے بشرطیکہ وہ اس کے اہل ہوں۔‘‘ ’’یہ شاید انہوں نے اچھا نہیں کیا۔‘‘ مؤذن نے سرکھرکتے ہوئے کہا۔ ملنگ جلال میں آگیا۔ بولا: ’’عشق حقیقی ہو یا مجازی، اس کے آثار ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ منصور نے اناالحق کا نعرہ لگایا تو مجنوں نے لیلیٰ کو بدنام کردیا۔ مولوی تو ان دونوں سے بازی لے گیا۔اس نے تو محبوب کا نام ہی نہیں لیا۔‘‘ ’’مولوی کا جنازہ کس نے پڑھایا؟‘‘ ’’تم ملاں کے ملاں ہی رہے۔‘‘ ملنگ چلایا۔

    ’’ارے مولوی صاحب کا جنازہ عام لوگوں نے نہیں پڑھایا۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ اگر کوئی عشق میں مبتلا ہوجائے، راز افشا نہ کرے، دوسرے کو بدنام نہ کرے اور اگر اس گھٹن میں مر جائے تو وہ شہید ہے۔‘‘ مؤذن نے اپنی پگڑی اتار کر اپنے گلے کے اردگرد لپیٹ لی اور واپسی کا سفر شروع کردیا۔

    ’’میں کسی سے کچھ بھی نہیں کہوں گا۔‘‘ ہر قدم پر وہ یہی دہرا رہا تھا۔

    (کتاب’’ چھپن چھپائی‘‘ سے اقتباس) ٭…٭…








    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    Jul 2012
    Location
    FANTACIES..!!
    Posts
    1,960
    Mentioned
    4 Post(s)
    Tagged
    4063 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429505

    Default re: Kya Likhon

    Interesting n beautiful..
    Ishq k shaheen nae tair e aqal k par noch liye hein.. Lvd..!!

  3. #3
    Join Date
    Jul 2011
    Location
    Karachi Pakistan
    Posts
    13,592
    Mentioned
    62 Post(s)
    Tagged
    7109 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474856

    Default re: Kya Likhon

    ufff,,bohat khubsurat

  4. #4
    Join Date
    Feb 2010
    Location
    dubai
    Posts
    7,667
    Mentioned
    569 Post(s)
    Tagged
    8128 Thread(s)
    Thanked
    1274
    Rep Power
    214764

    Default re: Kya Likhon

    very nyc sharing...
    mera siggy mujhe nazarnahi aa raha...

    30abdx0 - Kya Likhon

  5. #5
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    pakistan
    Posts
    9,092
    Mentioned
    95 Post(s)
    Tagged
    8378 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    429513

    Default re: Kya Likhon

    bht zabardast


  6. #6
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default re: Kya Likhon

    superb

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •