جب رب نے یہ دنیا تخلیق فرمائی تو قلم کو حکم دیا کہ لوح محفوظ پر جہاں میرا نام لکھا ہے اس کے برابر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم ذات " محمد صلی اللہ علیہ وسلم" تحریر کر دو۔
قلم کانپ اٹھا کہ اللہ کے نام کے ساتھ کوئی اور نام کیسے لکھا جا سکتا ہے اور اس خوف کے باعث وہ قلم شق ہو گیا۔
رب تعالی نے فرمایا " کیا ہوا؟ تو نے لکھا نہیں نام ؟ "
قلم نے دست بستہ عرض کیا " یا باری تعالی تیرے برابر کسی کا نام آ جائے یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟"
اللہ نے فرمایا" میرے نام کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم ذات لکھ دیا جائے کیونکہ یہ میری احسن ترین تخلیق ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس کے مقام اور احترام کا کل کائنات کو اندازہ ہو جائے اور کائنات کو یہ بھی پتا چل جائے کہ آپ
صلی اللہ علہو وسلم میرے محبوب ہیں"


فقیر رنگ' سرفراز اے شاہ':