130912222338 voyoger 1 - ووئجر-1 نظامِ شمسی سے باہر جانے والی پہلی انسانی تخلیق
آج ناسا کا یہ جہاز زمین سے تقریباً 19 ارب کلو میٹر کے فاصلے پر ہے


امریکہ کے خلائی ادارے ناسا کا ووئجر-1 خلائی جہاز انسان کی بنائی ہوئی وہ پہلی چیز ہے جو نظامِ شمسی سے باہر نکل گئی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ووئجر کے آلات سے ملنے والی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے سورج کے مدار سے نکل چکی ہے اور وہ اب ستاروں کے درمیان خلا میں گھو رہی ہے۔
ووئجر-1 کو 1977 میں ابتدائی طور پر نظامِ شمسی کے دیگر سیاروں کے مطالعے کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن یہ آگے چلتا ہی گیا۔
آج ناسا کا یہ خلائی جہاز زمین سے تقریباً 19 ارب کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
یہ فاصلہ انتا زیادہ ہے کہ اب ووئجر سے بھیجے گئے ریڈیو سنگنل زمین پر لگے ریسیورز تک سترہ گھنٹوں میں پہنچتے ہیں۔
"یہ واقعی ایک اہم سنگِ میل ہے جس کی ہم نے چالیس سال پہلے اس پراجیکٹ کو شروع کرتے ہوئے امید کی تھی۔ ہمیں امید تھی کہ ہم ستاروں کے درمیان خلا میں خلائی جہاز کو پہنچائیں گے"
مشن کے سربراہ سائنسدان ایڈ سٹون
اس مشن کے سربراہ سائنسدان ایڈ سٹون نے کہا کہ ’یہ واقعی ایک اہم سنگِ میل ہے جس کی ہم نے چالیس سال پہلے اس پراجیکٹ کو شروع کرتے ہوئے امید کی تھی۔ ہمیں امید تھی کہ ہم ستاروں کے درمیان خلا میں خلائی جہاز کو پہنچائیں گے۔‘
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ سائنسی اور تاریخی اعتبار سے ایک بہت ہی اہم سنگِ میل ہے جس طرح انسان نے پہلی دفعہ زمین پر قدم رکھا تھا۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ ہم نے ستاروں کے درمیان خلا کو دریافت کرنا شروع کر دیا ہے۔‘
جب ووئجر-1 کی ٹیم نے خلائی جہاز پر موجود آلات سے ملنے والی معلومات اور نئے ڈیٹا کا تجزیہ کیا تو انھیں معلوم ہوا کہ ووئجر 25 اگست 2012 کو یا اس تاریخ کے قریب نظامِ شمسی سے باہر نکلا ہے۔
ووئجر کے متعلق ان تمام معلومات کو سائنس نامی جریدے میں شائع کیا گیا ہے۔
ووئجر-1 چالیس ہزار سال تک کسی دوسرے سیارہ تک نہیں پہنچے گا حالانکہ یہ 45 کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے۔
پرفیسر ایڈ سٹون کا کہنا ہے کہ ’ووئجر-1 ہمارے کہکشاں کے مرکز میں ستاروں کے درمیان اربوں سالوں تک رہے گا۔‘