Results 1 to 4 of 4

Thread: امّ المؤ منین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default امّ المؤ منین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا


    امّ المؤ منین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    خدیجہ نام، امّ ہند کنیت اور طاہرہ لقب ہے۔حضرت خدیجہ کے والد خویلد بن اسد ایک کامیاب تاجر تھے اور نہ صرف اپنے قبیلے میں بڑی باعظمت شخصیت کے مالک تھے بلکہ اپنی خوش معاملگی اور دیانداری کی بدولت تمام قریش میں بیحد ہر دلعزیز اور محترم تھے۔

    حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا عام الفیل سے پندرہ سال قبل سنہ 555 عیسوی میں پیدا ہوئیں، بچپن ہی سے نہایت نیک اور شریف الطبع تھیں، جب سن شعور کو پہنچیں تو ان کی شادی ابو ہالہ بن نباش (زرارہ) تمیمی سے ہوئی ، ابو ہالہ سے ان کے دو لڑکے ہوئے، ایک کا نام ہالہ تھا جو زمانہ جاہلیت ہی میں مر گیا دوسرے کا نام ہند تھا، بعض روایتوں کے مطابق ان کو شرف صحابیت حاصل ہوا۔ ابو ہالہ کے انتقال کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی دوسری شادی عتیق بن عابد (یا عائد) مخزومی سے ہوئی، ان سے بھی ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام ہند تھا۔ کچھ عرصہ بعد عتیق بن عابد بھی فوت ہو گئے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت خدیجہ کا تیسرا نکاح ان کے ان کے ابن عمّ صیفی بن امیّہ کے ساتھ ہوا اور ان کے انتقال کے بعد انہیں جناب رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کا شرف زوجیت حاصل ہوا۔ لیکن اکثر روایتوں میں ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تیسرا اور آخری نکاح جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی سے ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حبالہ زوجیت میں آنے سے پیشتر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنی بیوگیکے ایام خلوت گزینی میں گزار رہی تھیں، وہ اپنا کچھ وقت خانہ کعبہ میں گزارتیں اور کچھ وقت اس زمانہ کی معزّز کاہنہ عورتوں میں صرف کرتیں اور ان سے زمانہ کے انقلاب پر وقتاََ فوقتاََ بحث کیا کرتیں۔قریش کے بڑے بڑے سرداروں نے انہیں نکاح کے پیگامات بھیجے لیکن انہوں نے سب رد کر دیئےکیونکہ پے درپے صدمات نے انکی طبیعت دنیا سے اچاٹ کر دی تھی۔ ادھر ان کے والد ضعف پیری کی وجہ سے اپنی وسیع تجارت کے انتظام سے عاجز آ گئے، نرینہ اولاد کوئی زندہ نہ تھی، تمام کام اپنی ذہین اور عاقلہ بیٹی کے سپرد کرکے خود گوشہ نشین ہو گئے اور کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہو گیا۔(1)

    حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے تمام کاروبار تجارت نہایت احسن طریقے سے جاری رکھا اس وقت ان کی تجارت ایک طرف شام میں پھیلی ہوئی تھی اور دوسری طرف اطراف یمن میں، اس وسیع کاروبار کو چلانے کیلئے انہوں نے ایک بڑا عملہ رکھا ہوا تھا جو متعدّد عرب، یہودی اور عیسائی ملازموں اور غلاموں پر مشتمل تھا۔ حسن تدبیر اور دیانت داری کی بدولت ان کی تجارت روز بروز ترقی کر رہی تھی اور اب انکی نظریں ایک ایسے شخص کی متلاشی تھیں جو بے حد قابل، ذہین، اور دیانتدار ہو، تاکہ وہ اپنے تمام ملازمین کو اسکی سرکردگی میں تجارتی قافلوں کے ساتھ بھیجا کریں۔

    یہ وہ زمانہ تھا جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق اور ستودہ صفات کا چرچا مکہ کے گھر گھر میں پھیل چکا تھا۔ اس وقت حضور کا عنفوان شباب تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساری قوم میں امین کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے۔ یہ ناممکن تھا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے کانوں تک اس مقدس ہستی کے اوصاف کی بھنک نہ پڑتی، ان کو اپنی تجارت کی نگرانی کیلئے ایسی ہی ہمہ صفت موصوف شخص کی تلاش تھی۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ اگر آپ میرا سامان تجارت شام تک لیجایا کریں تو دوسرے لوگوں سے دوچند معاوضہ آپ کو دیا کرونگی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں اپنے چچا کی سرپرستی میں تھے، انہیں+وقتاََ فوقتاََ حضرت خدیجہ کی تجارت کا حال معلوم ہوتا رہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ کا پیغام منطور فرمالیا اور اشیائے تجارت لے کر عازم بُصریٰ ہوئے۔ چلتے وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنا غلام خاص میسرۃ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کردیا اور اسے تاکید کی کہ اثنائے سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف نہ ہونے پائے۔

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانتداری و سلیقہ شعاری کی بدولت تمام سامان تجارت دگنے منافع پر فروخت ہو گیا۔ دوران سفر میں سردار قافلہ یعنی سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہمراہیوں کے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیا کہ ہر ایک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مدّاح بلکہ جان نثار بن گیا۔جب قافلہ مکہ واپس آیا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو میسرۃ کی زبانی سفر کے حالات اور منافع کی تفصیلات معلوم ہوئیں تو وہ بیحد متاثر ہوئیں اور اپنی خادمہ یا سہیلی نفیسہ کی معرفت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایما پا کر وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا عمرو بن اسد کو بلا لائیں، اس وقت وہی ان کے سرپرست تھے۔دوسری طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا ابوطالب اور دوسرے اکابر خاندان کے ساتھ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مکان پر تشریف لائے۔ جناب ابوطالب نے نکاح کا خطبہ پڑھا اور 500 درہم طلائی مہر قرار پایا۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 25 سال اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر 40 سال تھی۔


  2. #2
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: امّ المؤ منین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    Jazak Allah

  3. #3
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    pakistan
    Posts
    9,092
    Mentioned
    95 Post(s)
    Tagged
    8378 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    429513

    Default Re: امّ المؤ منین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    Jazak Allah Khair

  4. #4
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    k, s, a
    Posts
    14,631
    Mentioned
    215 Post(s)
    Tagged
    10286 Thread(s)
    Thanked
    84
    Rep Power
    1503265

    Default Re: امّ المؤ منین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    Jazzak Allah khair

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •