Results 1 to 4 of 4

Thread: امام شافعی رح

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default امام شافعی رح


    جس روز اس دنیا سے ایک مہر عالمتاب غروب ہورہا تھا، اسی روز اس دنیا میں شعور و آگہی کا ایک اور چمکتا دمکتا سورج طلوع ہوا۔ ایک نئی عالمگیر تہذیب کا جنم ایک دنیا کو منور کررہا تھا اور آنے والے زمانوں کے لئے روشنی کی نئی کرنیں بکھیر رہا تھا-
    جس روز امام ابو حنیفہ رح کا وصال ہوا اسی روز امام شافعی رح کی ولادت ہوئی- امام شافعی کو 14 سال کی عمر میں والدہ نے حصولِ علم کے لیے دانش کے ایک اور بحر بیکراں امام مالک رح کے پاس مدینۃ النبی ۖ بھیج دیا – امام شافعی نے مکہ سے نکلنے اور 10 سال بعد واپس آنے تک کے واقعات کی روداد ایک سفر نامہ میں بیان کی۔ یہ سفر نامہ ان کے شاگرد ربیع بن سلیمان رح نے خود نوشت کے انداز میں تحریر کیا، پھر اس سفر نامہ کو ابن حجہ نے اپنی کتاب "ثمراتُ الاوراق" میں شامل کیا، جہاں سے اسے علاوہ ابن عبدالبر اندلسی نے اپنی کتاب "جامع البیان العلم وفضلہ" میں نقل کیا-
    میں اس کالم میں آپ کے اور امام شافعی رح کے درمیان زیادہ دیر نہیں رہنا چاہتا- آپ ان سے ہی اس سفر نامہ کے اقتباسات سنیں گے تو آپ کے آنسو بھی بہیں گے اور پسینے بھی چھوٹ جائيں گے- ذیل میں سفر نامہ کے آخری حصے سے اقتباسات شامل کئے جارہے ہیں-
    " میں منزلوں پر منزلیں طے کرتا ہوا آخر 27ویں دن مدینہ پہنچ گیا۔ نماز عصر کے بعد میرا داخلہ ہوا تھا۔ مسجد میں نماز پڑھی۔ مسجد میں لوہے کی کرسی رکھی ہے۔ بیش و بہا قباطی مصر کا تکیہ جما ہوا ہے اور تکیہ پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے- میں ابھی یہ دیکھ ہی رہا تھا کہ امام مالک رحمہ اللہ بن انس رضی اللہ عنہ باب النبی سے آتے دکھائی دئے۔ پوری مسجد عطر سے مہک اٹھی۔ امام مالک رح کے ہمراہ 400 یا اس سے بھی زیادہ بڑا مجمع تھا۔ 4 آدمی ان کے جبہ کو اٹھائے چل رہے تھے- امام مالک رح پہنچے تو وہاں بیٹھے ہوئے سب آدمی کھڑے ہوگئے۔
    امام مالک رح غور سے مجھے دیکھتے رہے پھر پوچھا،
    شافعی ہو؟
    میں نے عرض کیا،
    جی ہاں شافعی ہوں۔
    امام مالک رح نے مجھے گھسیٹ کر سینے سے لگایا، پھر کرسی سے اتر پڑے اور کہا کہ:
    علم کا جو باب ہم شروع کرچکے ہیں، اسے تم پورا کرو۔ میں نے حکم کی تعمیل کی اور جراح عمد کے 400 مسئلے عوام کے سامنے پیش کئے مگر کوئی بھی آدمی جواب نہ دے سکا۔
    سورج غروب ہوچکا تھا۔ ہم نے مغرب کی نماز پڑھی، امام مالک رح مجھے اپنے گھر لے گئے- پرانے کھنڈر کی جگہ اب نئی عمارت کھڑی تھی- میں بےاختیار رونے لگا- امام مالک رح نے پوچھا، تم روتے کیوں ہو شاید تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی ہے۔ میں نے کہا کہ جی ہاں میرے دل میں یہی اندیشہ پیدا ہوا۔ کہنے لگے تمہارا دل مطمئن رہے، تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ یہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو،
    سب ہدیہ ہے، خراساں سے، مصر سے، دنیا کے دور دراز گوشوں سے ہدیوں پر ہدیے چلے آرہے ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرمالیتے تھے اور صدقے رد کردیا کرتے تھے۔
    اس وقت میر ےپاس مصر اور خراساں کے کپڑے کی اعلی سے اعلی 300 خلعتیں ہیں، اتنے ہی غلام ہیں، صندوقوں میں ہزاروں دینا ر ہیں جن کی سالانہ زکٰوۃ نکالتا ہوں اور اب معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ اب یہ سب میری طرف سے تمہارے لیے ہدیہ ہے۔
    صندوقوں میں رکھی رقم سے آدھی تمہاری ہے۔
    ہم صبح نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلے تو ہمارے ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھوں میں تھے۔ دروازے پر کیا دیکھتا ہوں کہ خراسانی گھوڑے اور مصری خچر کھڑے ہیں۔
    امام مالک رح نے فرمایا یہ سب سواریاں تمہارے لیے ہدیہ ہیں۔ میں نے عرض کیا کم از کم ایک جانور تو اپنے لئے رہنے دیجیے۔ اس پر امام مالک رح نے کہا کہ مجھے اللہ سے شرم آتی ہے کہ میری سواری اس زمین کو اپنی ٹاپوں سے روندے جس زمین کے نیچے خاتم الرُسُل صلی اللہ علیہ مسلم آرام فرما ہیں-
    میں تین دن کے بعد مکہ روانہ ہوا تو عالم یہ تھا کہ مال و متاع کا بوجھ آگے آگے اور میں پیچھے پیچھے چل رہا تھا- مکہ میں میری آمد کی خبر ہوگئی تھی- حدود حرم پر میری والدہ کچھ عورتوں کے ساتھ دکھائي دیں- انہوں نے مجھے گلے سے لگایا مین نے گھر چلنے کو کہا تو والدہ نے جواب دیا۔
    تو کل مکہ سے فقیر کی صورت میں گیا تھا اور آج امیر بن کر لوٹا ہے تاکہ چچا زاد بھائیوں پر گھمنڈ کرے- میں نے کہا کہ ماں! تم ہی بتاؤ میں کیا کروں؟ والدہ کہنے لگیں، منادی کرادے۔ بھوکے آئيں اور کھائيں، پیدل آئيں اور سواری لے جائيں، ننگے آئيں اور کپرے لےجائيں۔ میں نے والدہ کے حکم کی تعمیل کی۔ اس واقعے کی شہرت دور دور تک پھیلی امام مالک رح کو بھی اس واقعے کی اطلاع مل گئي۔ انہوں نے مجھے کہلا بھیجا جتنا دے چکا ہوں، اتنا ہر سال دیتا رہوں گا"۔
    میں مکہ میں اس حال میں داخل ہوا کہ ایک خچر اور 50 دینار کے سوا میرے پاس کچھ بھی نہ بچا۔ راستے میں اتفاق سے میرے ہاتھ سے کوڑا کرگیا۔ وہاں ایک کنیز گزررہی تھی جس نے پیٹھ پر پانی کا مشکیزہ اٹھارکھا تھا۔ اس نے لپک کر کوڑا اٹھایا اور میری طرف بڑھادیا۔ مین نے اپنے پاس موجود رقم سے 5 دینار نکال کر اس کی طرف بڑھادیے-
    ماں نے پوچھا کیا کررہے ہو؟
    میں نے کہا کہ عورت کو انعام دینا چاہتا ہوں۔
    والدہ نے کہا کہ جو کچھ بھی تیرے پاس ہے، سب دے دے۔
    میں نے ماں کے حکم کی تعمیل کی۔ یوں جب میں 10 سال بعد مکہ میں پہنچا تو پہلی رات ہی مقروض ہوچکا تھا اور ہاں امام مالک رح نے نے جو کچھ مجھے مدینہ میں دیا تھا وہ اپنے انتقال تک 11 سال کے عرصے میں اسی طرح بھیجتے رہے، یہ ہے میرے سفر کی روداد"۔

    پہلی رات کا مقروض
    بشکریہ: جنگ، کالم نگار: نذیر لغاری


  2. #2
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: امام شافعی رح

    Jazak Allah

  3. #3
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    pakistan
    Posts
    9,092
    Mentioned
    95 Post(s)
    Tagged
    8378 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    429513

    Default Re: امام شافعی رح

    Jazak Allah Khair........

  4. #4
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    k, s, a
    Posts
    14,631
    Mentioned
    215 Post(s)
    Tagged
    10286 Thread(s)
    Thanked
    84
    Rep Power
    1503265

    Default Re: امام شافعی رح

    Jazzak Allah

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •