Results 1 to 2 of 2

Thread: ادھر بھی دیکھ کبھی اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے

  1. #1
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default ادھر بھی دیکھ کبھی اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے

    ادھر بھی دیکھ کبھی اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے
    ہم آج بھی ہیں تیری رہگذر میں بیٹھے ہوئے

    عجیب شکلیں بناتی رہی ہے تنہائی!
    میں ڈر گیا تھا خود اپنے ہی گھر میں بیٹھے ہوئے

    کھلی ہے آنکھ مگر نیند ٹوٹتی ہی نہیں
    وہ خواب تھے کہ ہیں اب تک نظر میں بیٹھے ہوئے

    چمک رہا ہے تیرا شہر جگنوؤں کی طرح
    کہ ہیں ستارے میری چشمِ تر میں بیٹھے ہوئے

    بچھڑ کے تجھ سے ، نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ
    اڑا دیئے ہیں پرندے، شجر میں بیٹھے ہوئے

    چھپا ہوا ہوں کہ سب شغل پوچھتے ہیں میرا
    وگرنہ کٹتا ہے کب وقت، گھر میں بیٹھے ہوئے

    ازل سے گھوم رہا ہوں بس ایک محور پر
    میں تھک گیا ہوں زمیں کے بھنور میں بیٹھے ہوئے

    کروں بھی کام کہاں اپنی سطح سے گر کر
    کہ آشنا ہیں مرے،شہر بھر میں بیٹھے ہوئے



  2. #2
    Join Date
    Aug 2012
    Location
    Baazeecha E Atfaal
    Posts
    12,045
    Mentioned
    303 Post(s)
    Tagged
    207 Thread(s)
    Thanked
    219
    Rep Power
    18

    Default

    Kamaal Ast :-)
    (-: Bol Kay Lab Aazaad Hai'n Teray :-)


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •