Results 1 to 6 of 6

Thread: کبھی کبھی یاد میں اُبھرتے ہیں نقشِ ماضی مٹے مٹے سے

Threaded View

Previous Post Previous Post   Next Post Next Post
  1. #1
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,585
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    39
    Rep Power
    21474860

    Default کبھی کبھی یاد میں اُبھرتے ہیں نقشِ ماضی مٹے مٹے سے


    کبھی کبھی یاد میں اُبھرتے ہیں نقشِ ماضی مٹے مٹے سے
    وہ آزمائش دل و نظر کی، وہ قُربتیں سی، وہ فاصلے سے

    کبھی کبھی آرزو کے صحرا میں، آ کے رُکتے ہیں قافلے سے
    وہ ساری باتیں لگاؤ کی سی، وہ سارے عُنواں وصال کے سے

    نگاہ و دل کو قرار کیسا، نشاط و غم میں کمی کہاں کی
    وہ جب ملے ہیں تو اُن سے ہر بار، کی ہے الفت نئے سرے سے

    بہت گراں ہے یہ عیشِ تنہا، کہیں سبک تر، کہیں گوارا
    وہ دردِ پنہاں کہ ساری دنیا، رفیق تھی جس کے واسطے سے

    تمہیں کہو رند و محتسب میں ہے آج شب کون فرق ایسا
    یہ آ کے بیٹھے ہیں میکدے میں، وہ اٹھ کے آئے ہیں میکدے سے


  2. The Following User Says Thank You to *jamshed* For This Useful Post:


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •