Results 1 to 5 of 5

Thread: ٭٭٭مرحبا سیدی ومکی ومدنی صلی اللہ علیہ وسلم٭٭٭

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default ٭٭٭مرحبا سیدی ومکی ومدنی صلی اللہ علیہ وسلم٭٭٭


    ٭٭٭مرحبا سیدی ومکی ومدنی صلی اللہ علیہ وسلم٭٭٭

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں اپنی آمد کے متعلق فرماتے ہیں کہ:
    ’’أنا دعوۃ إبراہیم وبشارۃ عیسیٰ ورؤیا أمّی آمنۃ التی رأت‘‘ ۔
    (المستدرک للحاکم، ج:۲،ص:۴۵۳)


    ترجمہ:۔۔۔’’ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا نتیجہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا مصداق ہوں اور اپنی ماں آمنہ کے دیکھے ہوئے خواب کی تعبیر ہوں‘‘۔

    دعائے ابراہیمی جس میں حضور علیہ السلام کو مانگا گیا ہے، وہ دعا سورہ بقرہ کا حصہ ہے اور جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ورسالت کی خوشخبری سنائی، وہ بشارت سورۂ صف کی چھٹی آیت کا حصہ ہے اور حضرت آمنہ کے خواب کا ذکر احادیث میں ملتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد وبعثت تمام جہاں کے لئے رحمت وبرکت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں حقوق اللہ وحقوق العباد، اخوت وبھائی چارگی کا پہلو نمایاں ہے۔ جس طرح گزشتہ انبیاء کرام علیہم السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد وبعثت کا تذکرہ اپنے اپنے زمانے میں کیا تو دنیا میں آنے کے بعد ہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ورسول ہونے کا تذکرہ اہل علم کی زبانوں پر ہونے لگا، چنانچہ بارہ سال کی ہی کم عمری میں اس زمانے کے مذہبی پیشوانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی پیشین گوئی کردی تھی۔

    ’’جامع ترمذی میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہہ سے مروی ہے کہ ایک بار ابو طالب مشائخ قریش کے ساتھ شام کی طرف گئے۔ شام میں جس جگہ جاکر اترے، وہاں ایک راہب رہتا تھا، اس سے پہلے بھی بارہا اس راہب پر گزر ہوتا تھا، مگر وہ کبھی ملتفت نہ ہوتا تھا۔ اس مرتبہ قریش کا کاروانِ تجارت جب وہاں جاکر اترا تو راہب خلافِ معمول اپنے صومعہ سے نکل کر ان میں آیا اورمتجسّسانہ نظروں سے ایک ایک کو دیکھنے لگا، یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور یہ کہا:

    ہذا سید المرسلین، ہذا رسول رب العالمین، یبعثہ اﷲ رحمۃً للعالمین‘‘۔
    ترجمہ:۔۔۔’’یہی ہے سردار دوجہانوں کا، یہی ہے رسول پروردگار عالم کا،جس کو اللہ تعالیٰ جہانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجے گا‘‘۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شام کا دوسرا سفر کیا تو عمر مبارک پچیس سال تھی۔اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ’’ جب بصریٰ پہنچے تو ایک سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھے، وہاں ایک نسطورا نامی راہب رہتا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپا کی طرف آیا اور کہا:’’حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بعد سے ابھی تک یہاں آپ کے سوا کوئی اور نبی نہیں اترا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسفر میسرہ سے کہا: ان کی آنکھوں میں یہ سرخی ہے؟ میسرہ نے جواب میں کہا: یہ سرخی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہوتی، یہ سن کر راہب بولا:’

    ’ہو ہو وہو نبی وہو آخر الانبیاء‘‘۔
    ترجمہ:’’یہ وہی ہیں اور یہ نبی ہیں اور آخری نبی ہیں‘‘۔
    (سیرۃ المصطفی،ج:۱،ص:۹۵)

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہِ مصر مقوقس کے نام نامۂ مبارک حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالی عنہہ کے ہاتھ بھیجا۔ شاہِ مصر نے جواب میں تحفے تحائف دیئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والا نامہ کی تو توقیر وتعظیم کی اور اقرار کیا کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی نبی ہیں جن کی انبیاء سابقین نے بشارت دی ہے۔ اگرچہ شاہِ مصر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لایا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مرسل جان لیا تھا۔ شاہ مصر اس سے پہلے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں صحابی رسول حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہہ سے معلوم کرچکا تھا اور مغیرہ رضی اللہ تعالی عنہہ مشرف باسلام ہونے سے پہلے بنی مالک کے چند آدمیوں کے ساتھ مقوقس کے پاس گئے تھے۔ جب حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالی عنہہ نے مقوقس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سنے تو خود بھی قبولِ اسلام کی جستجو میں اسکندریہ کے بے شمار پادریوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت وشان دریافت کی، حتی کہ پادریوں کے اسقف اعظم (بڑے پادری) سے ملے جو بڑا عابد وزاہد تھا۔ اس سے دریافت کیا، کہاکہ ابھی کسی نبی کا مبعوث ہونا باقی ہے؟ تو اسقف اعظم نے جواب میں کہا:

    ’’نعم ہو آخر الأنبیاء لیس بینہ وبین عیسیٰ بن مریم أحد، وہو نبی مرسل، وقد أمرنا عیسیٰ باتباعہ، وہو النبی الأمی العربی، اسمہ أحمد لیس بالطویل ولابالأبیض ولا بالآدم یعفو شعرہ ویلبس ما غلظ من الثیاب ویجتزئ بما لقی من الطعام، سیفہ علی عاتقہ ولایبالی بمن لاقی، یباشر القتال بنفسہ ومعہ أصحابہ یفدونہ بأنفسہم وہم لہ أشد حباً من أولادہم، یخرج من أرض حرم ویأتی إلی حرم یہاجر إلی أرض بساخ ونخل یدین بدین إبراہیم علیہ السلام‘‘۔ (بحوالہ سیرۃ المصطفی،مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ج:۲،ص:۲۶)

    ترجمہ:۔۔۔’’ہاں! وہ آخری نبی ہے، ان کے اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں، وہ نبی مرسل ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہم کو ان کی اتباع کا حکم دیا ہے، وہ نبی امی عربی ہیں، نام ان کا احمد ہے، نہ دراز قد ہیں، نہ پست قامت، آنکھوں میں ان کی نرمی ہے، نہ بالکل سفید ہیں، نہ بالکل گندمی، بال ان کے زیادہ ہوں گے، موٹے کپڑے پہنیں گے،جتنا کھانا میسر آئے گا اسی پر اکتفا وقناعت کریں گے، تلوار ان کے کندھے پر ہوگی، کسی مقابلہ کی پرواہ نہیں کریں گے، خود جہاد وقتال کریں گے، ان کے اصحابؓ ان کے ساتھ ہوں گے جو دل وجان سے ان پر فدا ہوں گے، اپنی اولاد سے زیادہ ان سے محبت رکھتے ہوں گے، وہ نبی حرم (مکہ) میں ظاہر ہوگا اور حرم (مدینہ) کی طرف ہجرت کرے گا ،وہ زمین مستور اور نخلستانی ہوگی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین کا پیروکار ہوگا‘‘۔

    قارئین کرام!

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد وبعثت پر انسان کے ساتھ جنات بھی شاہد ہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر شجر وحجر نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلمکو نبی برحق مانا اور جو اہل کتاب ایمان کی دولت سے محروم رہے تو محرومی کی یہ وجہ بنی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کووہ نبی مرسل نہیں سمجھتے تھے، نہیں! نہیں! وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی برحق سمجھتے تھے، جانتے تھے، مگر مانتے نہیں تھے اور نہ ماننے کی وجہ قرآن پاک نے واضح الفاظ میں بتائی ہے :

    ’’بِءْسَمَا اشْتَرَوْا بِہٖ أَنْفُسَہُمْ أَنْ یَکْفُرُوْا بِمَا أَنْزَلَ اﷲُ بَغْیاً أَنْ یُنَزِّلَ اﷲُ مِنْ فَضْلِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ، فَبَآءُ وْا بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍ وَّلِلْکَافَرِیْنَ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ‘‘۔ (البقرۃ:۹۰)

    ترجمہ:۔۔۔’’بہت بری ہے وہ چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا، وہ ان کا کفر ہے، اللہ تعالیٰ کی نازل شدہ چیز کے ساتھ محض اس بات سے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل اپنے جس بندہ پر چاہا نازل فرمایا، اسی کے باعث یہ لوگ غضب پر غضب کے مستحق ہوگئے اور ان کافروں کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے‘‘۔


  2. #2
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: ٭٭٭مرحبا سیدی ومکی ومدنی صلی اللہ علیہ وسلم٭٭٭

    جزاک اللہ۔۔خیراً کثیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  3. #3
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default Re: ٭٭٭مرحبا سیدی ومکی ومدنی صلی اللہ علیہ وسلم٭٭٭

    Subhan ALLAH

  4. #4
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    k, s, a
    Posts
    14,631
    Mentioned
    215 Post(s)
    Tagged
    10286 Thread(s)
    Thanked
    84
    Rep Power
    1503265

    Default Re: ٭٭٭مرحبا سیدی ومکی ومدنی صلی اللہ علیہ وسلم٭٭٭

    جزاک اللہ۔۔خیراً کثیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  5. #5
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    pakistan
    Posts
    9,092
    Mentioned
    95 Post(s)
    Tagged
    8378 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    429513

    Default Re: ٭٭٭مرحبا سیدی ومکی ومدنی صلی اللہ علیہ وسلم٭٭٭

    bht zabardast sharing
    Jazak Allah Khair

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •