Results 1 to 4 of 4

Thread: ٭٭٭٭ Adal O Insaf Ki Allaa Misal ٭٭٭٭

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default ٭٭٭٭ Adal O Insaf Ki Allaa Misal ٭٭٭٭


    ٭٭٭٭عدل و انصاف کی اعلی مثال٭٭٭٭

    حضور اکرم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کا مکان نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ واصحابیہ وسلم کی مسجد سے ملا ہوا تھا اور گھر کا پر نالہ مسجد نبوی میں گِرتا تھا.. بعض دفعہ پر نالے کے پانی سے نمازیوں کو تکلیف ہوتی.. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں نمازیوں کی سہولت کے لیے پرنالہ اکھڑوا دیا.. اس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہ تھے..

    حضرت عباس رضی اللہ
    عنہ گھر آئے تو انہیں بہت غصہ آیا.. انہوں نے فوراَ قاضی سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے رجوع کیا.. سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام فرماں جاری کردیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم کے چچا نے آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے.. اس لیے مقررہ تاریخ کو عدالت میں پیش ہوں اور مقدمے کی پیروی کریں.. حضرت عمر رضی اللہ عنہ مقررہ تاریخ کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مکان پر حاضر ہوگئے..

    حضرت ابن بن کعب رضی اللہ عنہ مکان کے اندر لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مصروف تھے.. اس لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو کافی دیر باہر کھڑے ہو کر انتظار کر نا پڑا.. مقدمہ پیش ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کچھ کہنا چاہا لیکن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے انہیں روک دیا اور کہا.. " مدعی کا حق ہے کہ وہ پہلے دعوی پیش کرے.. "

    مقدمے کی کاروائی شروع ہوئی.. حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بیان دیا.. " جناب عالی! میرے مکان کا نالہ شروع سے ہی مسجد نبوی کی طرف تھا.. رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی یہیں تھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری عدم موجودگی میں نالہ اکھڑوا دیا.. مجھے انصاف فراہم کیا جائے کیونکہ میرا نقصان ہوا ہے.. "

    حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا.. " بے شک تمہارے ساتھ انصاف ہوگا.. امیر المومنین ! آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہیں..؟ "

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ جواب دیا.. " قاضی صاحب.. اس پرنالے سے بعض اوقات چھینٹیں اڑ کر نمازیوں پر پڑتی تھیں.. نمازیوں کے آرام کی خاطر میں نے پرنالہ اکھڑوا دیا اور میرا خیال ہے یہ ناجائز نہیں ہے.. "

    ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں..؟

    حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا.. " قاضی صاحب ! اصل بات یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم نے اپنی چھڑی سے مجھے نشان لگا کردئیے کہ میں اس نقشے پہ مکان بناؤں.. میں نے ایسے ہی کیا.. پرنالہ خود حضور صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم نے یہاں نصب کروایا تھا.. حضور صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے کندھوں پر کھڑا ہو کر یہاں پرنالہ لگاؤں.. میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم کے احترام کی وجہ سے انکار کیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم نے بہت اصرار کیا اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم کے کندھوں پر کھڑا ہوگیا اور یہ پرنالہ یہاں لگایا جہاں سے امیر المومنین نے اکھڑوا دیا.. "

    قاضی نے پوچھا.. " آپ اس واقعہ کا کوئی گواہ پیش کرسکتے ہیں..؟ "

    حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ باہر گئے اور چند انصار کو ساتھ لائے جنہوں نے گواہی دی کہ واقعی یہ پرنالہ حضر ت عباس رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم کے کندھوں پر کھڑے ہو کر نصب کیا تھا..

    مقدمے کی گواہی کے ختم ہونے بعد خلیفہ وقت نگاہیں جھکا کر عاجزانہ انداز سے کھڑے تھے.. یہ وہ حکمران تھے جس کے رعب اور خوف سے قیصر و کسری بھی ڈرتے تھے.. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرمایا..

    " اللہ کے لیے میرا قصور معاف کردو.. مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ نالہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم نے یہاں لگوایا ہے ورنہ میں کبھی بھی اسے نہ اکھڑواتا.. جو غلطی مجھ سے ہوئی وہ لاعلمی میں ہوئی.. آپ میرے کندھوں پہ چڑھ کریہ نالہ وہاں لگادیں.."

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا.. " ہاں انصاف کا تقاضہ بھی یہی ہے.. "

    اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ اتنی وسیع سلطنت پہ حکمرانی کرنے والے حکمران لوگوں کو انصاف مہیا کرنے کے لیے دیوار کے ساتھ کھڑے تھے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نالہ نصب کرنے کے لیے ان کے کندھوں پر کھڑے تھے.. پر نالہ لگانے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ نیچے اترے اور فرمایا.. " امیر المومنین ! میں نے جو کچھ کیا ' اپنے حق کے لیے.. جو آپ کی انصاف پسندی کے باعث مل گیا.. اب میں آپ سے بے ادبی کی معافی مانگتا ہوں.. "

    اس کے ساتھ ہی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا مکان اللہ کے راستے میں وقف کردیا اور امیر المومنین کو اختیار دیا کہ وہ مکان گِرا کر مسجد میں شامل کر لیں تاکہ نمازیوں کو جگہ کی تنگی سے جو تکلیف ہوئی ' وہ بھی کم ہوجائے..

    " بحوالہ:سیرۃ الانصار "






    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default re: ٭٭٭٭ Adal O Insaf Ki Allaa Misal ٭٭٭٭

    umda
    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


  3. #3
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default re: ٭٭٭٭ Adal O Insaf Ki Allaa Misal ٭٭٭٭

    Subhan ALLAH

    eq2hdk - ٭٭٭٭ Adal O Insaf Ki Allaa Misal ٭٭٭٭

  4. #4
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Mideast
    Posts
    5,905
    Mentioned
    210 Post(s)
    Tagged
    5074 Thread(s)
    Thanked
    176
    Rep Power
    10

    Default

    V good

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •