اس دن کو یاد کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

نا کرو مجھ پے اتنا ظلم کے آجائے امبولنس
ڈنڈا جب اٹھاتی ہو تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں


کچھ تو خدا کا خوف کرو رحم مجھ پے تم کرو
غصہ جب دکھاتی ہو تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں


صرف تھپڑ سے ہی کر لو گزارا آج تم بیگم
کے چپل جب اُٹھاتی ہو تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں


جب بھی دیکھتا ہوں میں تمھارے ہاتھ میں ڈنڈا
وہی دن یاد آتا ہے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں


کیا تھا کیا قصور کیوں مارا مجھ کو بیگم نے
یہ جب بھی سوچتا ہوں میں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں


میں اس قدر ہوگیا ہوں حساس اس دن سے
کسی کو پٹتے دیکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں