Results 1 to 2 of 2

Thread: وٹامنز کی اہمیت و خصوصیات

  1. #1
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default وٹامنز کی اہمیت و خصوصیات


    انسانی جسم کے لیے…حیاتین و معدنیات بہت ضروری ہیں۔ زندگی اور صحت کے ساتھ غذا کے عناصر حیاتین کا گہرا تعلق ہے اس لیے ان کی کمی یا غیر موجودگی دونوں صورتحال کے باعث انسان متعدد امراض کا شکار ہوجاتا ہے‘ اکثر امراض غذا میں وٹامن کی کمی کے باعث رونما ہوتے ہیں اس کے علاوہ بعض خاص وٹامنز کی غیر موجودگی بسا اوقات شدید نقصانات پیدا کردیتی ہے اور اس طرح امراض کے مقابلے میں انسانی جسم سے قوت مدافعت مفقود ہوجاتی ہے اس طرح کی قوت کو برقرار رکھنے اور صحیح جسمانی تعمیر کے لیے ہماری غذا میں وٹامنز کے علاوہ ایک خاص کیمیائی عنصر بھی پایا جاتا ہے جسے پروٹین کہتے ہیں۔
    انسانی جسم کی تعمیر میں پروٹین کا وہی درجہ ہے جو کہ ایک مکان بنانے میں اینٹوں کا‘ گوشت اور خون ہماری خوراک کے پروٹین سے بنتے ہیں مثلاً ساگ‘ سبزی اور پھل میں پروٹین بہت کم مقدار میں ہوتی ہے۔ پروٹین مہیا کرنے والی غذائوں میں دودھ‘ گوشت‘ مچھلی‘ انڈہ‘ جو کا دلیہ‘ آلو‘ بے چھنے آٹے کی روٹی‘ سویا بین‘ مٹر او رمختلف دالیں اور پھلیاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ دودھ‘ دہی‘ گیہوں‘ مٹر اور دالوں میں پروٹین زیادہ ہوتے ہیں مگر گوشت‘ مچھلی‘ انڈے‘ دال ماش اور سویا بین میں بہت زیادہ مقدار میں موجود ہیں۔
    وٹامن اے(حیاتین اے)
    وٹامن اے غذا کا پہلا جزو اعظم ہے‘ روزانہ غذا میں اس کی مناسب مقدار کی موجودگی صحت انسانی پر غیر معمولی اثرات پیدا کرتی ہے‘ جس سے جسم تندرست چہرہ تروتازہ اور بارونق رہتا ہے جلد چکنی‘ آنکھیں روشن‘ منہ‘ دانت مضبوط‘ ناک ہڈیوں اور جسم کی لعابی جھلی کی حفاظت کرتا ہے۔ اس میں قوتِ مدافعت ہوتی ہے بچوں کی غذا میں وٹامن اے کا بے حد دخل ہے۔ یہ بچوں کی بالیدگی اور نمود کے لیے ضروری ہوتا ہے‘یہ مکھن سبز اور زیر زمین پیدا ہونے والی سبزیوں میں موجود ہوتی ہے۔ وٹامن اے پھلوں میں سنگترہ‘ مالٹا‘ لیموں‘ انناس اور آم میں کافی مقدار میں ملتا ہے۔ کارڈلیور آئل وٹامن اے کا مخزن ہے۔ اس سے وٹامن اے نہایت عمدہ اور اصلی حالت میں دستیاب ہوسکتا ہے اس لیے ضرورت پر اس کا استعمال مفید ہے۔
    وٹامن بی
    وٹامن بی کا بھی تندرستی سے گہر اتعلق ہے یہ جسم کے اعصاب‘ نروس سسٹم اور دل و دماغ کے لیے بہت ضروری ہے یہ اعضاء کو مضبوط کرتا ہے۔ قوتِ ہاضمہ کو تقویت پہنچاتا ہے اور بھوک بڑھاتا ہے دورانِ خون کا نظام درست رکھتا ہے اور دل کے افعال کو درست کرتا ہے۔ وٹامن بی میں شامل اجزا ترکاریاں‘ سبزیاں‘ دودھ‘ دہی‘ چھاچھ‘ پنیر‘ بادام‘ پستہ‘ کلیجی‘ گوشت اور انڈے کی زردی میں وٹامن بی بکثرت ہوتا ہے۔ وٹامن بی پھلوں‘ ساگ اور سبزیوں میں کافی مقدار میں پایا جاتا ہے۔
    وٹامن سی (حیاتین سی)
    طبی نقطہ نظر سے غذا میں وٹامن سی کی موجودگی آنکھوں‘ دانتوں اور مسوڑھوں کے امراض سے محفوظ رکھتی ہے۔ خون کی کمزوری اور جسم کی لاغری کو رفع کرتی ہے اس کے علاوہ جلدی بیماریاں‘ فشار خون وغیرہ سے محفوظ رکھتی ہے۔ ہڈیوں کی مضبوطی‘ نشوونما کی معاون اور بینائی کی محافظ ہے۔ غذا میں اس کی کمی یا غیر موجودگی بہت سے امراض کا پیش خیمہ
    ثابت ہوتی ہے۔ ہڈیوں کے جملہ امراض‘ دانتوں کی خرابی اور بیماریوں کا بھی باعث ہوتی ہے‘ یہ سب بیماریاں وٹامن سی کی کمی سے پیدا ہوتی ہیں۔ سبزیاں‘ ترکاریاں اور پھل وٹامن سی کا مخزن ہیں مگر یہ یاد رکھیں باسی‘ گلے سڑے اور خشک پھلوں‘ ترکاریوں اور سبزیوں کے وٹامن بالکل ضائع ہوجاتے ہیں اکثر زیادہ دھونے سے یا بھوننے سے اور کھلا رکھنے سے بھی وٹامنز ضائع ہوجاتے ہیں۔ کچی اشیاء کھانے میں زیادہ استعمال کریں مثلاً سلاد‘ گاجر‘ مولی‘ شلجم‘ ٹماٹر‘ پیاز‘ کھیرا‘ ککڑی وغیرہ۔ ہر قسم کے ساگ‘ پتے والی سبزیاں خصوصاً پالک‘ گاجر چقندر‘ پیاز‘ کرمکلہ‘ گوبھی‘ شلجم‘ لوبیا‘ مولی‘ آملہ‘ ٹماٹراور تمام تروتازہ اور موسمی پھل مثلاً سنگترہ‘ نارنگی‘ سیب‘ انگور‘ لیموں‘ پپیتا‘ آم‘ انناس میں وٹامن سی بہت زیادہ ہوتا ہے اس کے علاوہ گوشت اور دودھ میں وٹامن سی بہت کم ہوتا ہے۔
    وٹامن ڈی (حیاتین د)
    وٹامن ڈی کا فعل بھی کسی حد تک وٹامن اے کے مانند ہے‘ یہ جسمانی نشوونما ہڈیوں کی ساخت اور پرورش کے لیے ضروری ہے دانتوں کو مضبوط اور چمک دار بنانے کے لیے بہترین ہے۔ غذا میں اس کے نہ ہونے سے بہت سی خرابیوں کے پیدا ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ مچھلی کا تیل کارڈلیور آئل اس کا قدرتی معدن و مخزن ہے کھانے پینے کی اشیاء میں دودھ‘ مکھن‘ گھی‘ پنیر اور انڈے کی زردی میں وٹامن ڈی کے اجزا بہت پائے جاتے ہیں جو کہ شیر خوار اور نوعمر بچوں کی پرورش کے لیے بے حد اہم ہے۔ تھکان اور عضلاتی کمزوری کے لیے بے حد مفید ہے پولیو وغیرہ اس کی موجودگی یا کمی کے باعث بچوں کو لاحق ہوتا ہے۔ سوکھے کی بیماری اور ہڈی کا ٹیڑھا پن بہت لاغر اور کمزور ہونا اس کے نہ ہونے سے ہڈیاں نرم اور بدوضع ہوجاتی ہیں اور نشوونما بھی رک جاتی ہے۔ یہ شیر خوار بچوں کو ضرورت سے زیادہ نہیں دیا جاسکتا‘ دودھ کی مصنوعات مکھن‘ انڈوں اور چربی میں موجود ہوتی ہے اس کے علاوہ زیتون اور سرسوں کے روغن کو کچھ دیر دھوپ میں رکھ دیا جائے تو وٹامن ڈی کے اجزا بڑی حد تک پیدا ہوجائیں گے پھر اجزا کو سورج کی روشنی میں جسم پر اسی تیل یا گھی کی مالش کردیں تو جسم میں وٹامن پیدا ہوکر جسم کو طاقت بخشتی ہے وٹامن ڈی بعض روغنی غذائوں سے حاصل ہونے کے علاوہ سورج کی شعاعوں کے اثر سے بھی انسان کی جلد میں خودبخود پیدا ہوتا رہتا ہے۔
    وٹامن ای (حیاتین ای)
    وٹامن ای کا استعمال افزائش نسل کے لیے ضروری ہے مرد و عورت دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس سے جسم مضبوط اور وزن میں ترقی ہوتی ہے غذا میں اس کا باقاعدہ استعمال بہت سی اندرونی شکایتوں کو رفع کرتا ہے۔ وٹامن ای کی مقدار متواتر غذا میں مہیا ہو تو جسم میں فولاد اور چونے کے اجزا جذب کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ وٹامن ای میں شامل اجزا گیہوں‘ باجرہ‘ جو‘چنا اور مختلف دالوں اور انڈے کی زردی‘ مچھلی‘ گوشت‘ گردے‘ دہی‘ کاہو‘ پالک کا ساگ‘ گاجر‘ مچھلی کا تیل‘ تلوں کا تیل وغیرہ میں وٹامن ای کے اجزا عمدہ حالت میں پائے جاتے ہیں۔
    وٹامن ایچ(حیاتین ایچ)
    یہ گندم اور دودھ میں موجود ہوتا ہے‘ اس کے علاوہ وٹامنز کی اور بھی بہت سی قسمیں ہیں مگر ان کے لیے کسی خاص اہتمام کی ضرورت نہیں اگر غذا میں مذکورہ وٹامنز کا خیال رکھا جائے تو جس خوراک سے بدن کو حسب ضرورت مذکورہ وٹامنز حاصل ہوتے ہیں‘ اسی سے دوسرے وٹامنز بھی بدن کو مہیا ہوجاتے ہیں۔
    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


  2. #2
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Mideast
    Posts
    5,915
    Mentioned
    213 Post(s)
    Tagged
    5074 Thread(s)
    Thanked
    176
    Rep Power
    10

    Default

    Excellent

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •