Results 1 to 6 of 6

Thread: چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت


    علامہ محمد اقبال نے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم شہادت کی تاریخی حقیقت کو انتہائی خوبصورت
    پیرائے میں بیان کیا ہے۔

    چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت
    حّریت را زہر اندر کام ریخت
    جب خلافت نے قرآن پاک سے اپنا رشتہ توڑ لیا تو اس نے حریت کے حلق کے اندر زہر انڈیل دیا‘‘

    خاست آں سر جلوۂ خیرالامم
    چوں صحاب قبلہ باراں در قدم
    ’یہ حالت دیکھ کر بہترین امت کا وہ بہترین جلوہ یوں اٹھا جیسے قبلہ کی جانب سے بارش سے بھرپور بادل‘‘

    بر زمینِ کربلا بارید و رفت
    لالہ در ویرانہ ہا کارید و رفت
    ’یہ بادل کربلا کی زمین پر برسا، اس ویرانہ میں گلہائے لالہ اگائے اور آگے بڑھ گیا‘‘

    تاقیامت قطع استبداد کرد
    موج خونِ او چمن ایجاد کرد
    ’اس نے قیامت تک کے لئے استبداد کی جڑ کاٹ دی، اس کی موج سے ایک نیا چمن پیدا ہوا‘‘

    بہر حق در خاک و خوں غلطیدہ است
    پس بنائے لا الہ گرویدہ است
    ’سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ حق کی خاطر خاک و خون میں لوٹے، اس لئے وہ لا الہ کی بنیاد بن گئے‘‘

    مدعا یس سلطنت بودے اگر
    خود نکردے باچنیں ساماں سفر
    ’’اگر ان کا مقصود سلطنت حاصل کرنا ہوتا تو اتنے تھوڑے ساز و سامان کے ساتھ یہ سفر اختیار نہ کرتے‘‘

    ماسوی اللہ را مسلماں بندہ نیست
    پیش فرعونے سرش افگندہ نیست
    ’’مسلماں غیراللہ کا بندہ نہیں وہ کسی فرعون کے سامنے اپنا سر نہیں جھکاتا‘‘

    خونِ او تفسیر ایں اسرار کرد
    ملت خوابیدہ را بیدار کرد
    ’’سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے خون نے اس راز کی تفسیر پیش کر دی اور (اپنے عمل سے) ملت خوابیدہ کو بیدار کر دیا‘

    رمز قرآن از حسین آموختیم
    ز آتشِ او شعلہ ہا اندوختیم
    ’ہم نے قرآن پاک کے رموز سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے سیکھے ہیں، ان کی روشن کی ہوئی آگ سے ہم نے آزادی کے شعلے اکٹھے کئے ہیں‘‘

    تارِ ما از زخمہ اش لرزاں ہنوز
    تازہ از تکبیرِ او ایماں ہنوز
    ’’ہماری زندگی کا تار ابھی تک سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے زخم سے لرزاں ہے انہوں نے میدان کربلا میں جو تکبیر بلند کی تھی وہ ہمارے ایمان کو زندہ کر رہی ہے ۔ ۔
    Photo: علامہ محمد اقبال نے امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم شہادت کی تاریخی حقیقت کو انتہائی خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے۔

    چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت
    حّریت را زہر اندر کام ریخت
    جب خلافت نے قرآن پاک سے اپنا رشتہ توڑ لیا تو اس نے حریت کے حلق کے اندر زہر انڈیل دیا‘‘

    خاست آں سر جلوۂ خیرالامم
    چوں صحاب قبلہ باراں در قدم
    ’یہ حالت دیکھ کر بہترین امت کا وہ بہترین جلوہ یوں اٹھا جیسے قبلہ کی جانب سے بارش سے بھرپور بادل‘‘

    بر زمینِ کربلا بارید و رفت
    لالہ در ویرانہ ہا کارید و رفت
    ’یہ بادل کربلا کی زمین پر برسا، اس ویرانہ میں گلہائے لالہ اگائے اور آگے بڑھ گیا‘‘

    تاقیامت قطع استبداد کرد
    موج خونِ او چمن ایجاد کرد
    ’اس نے قیامت تک کے لئے استبداد کی جڑ کاٹ دی، اس کی موج سے ایک نیا چمن پیدا ہوا‘‘

    بہر حق در خاک و خوں غلطیدہ است
    پس بنائے لا الہ گرویدہ است
    ’سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ حق کی خاطر خاک و خون میں لوٹے، اس لئے وہ لا الہ کی بنیاد بن گئے‘‘

    مدعا یس سلطنت بودے اگر
    خود نکردے باچنیں ساماں سفر
    ’’اگر ان کا مقصود سلطنت حاصل کرنا ہوتا تو اتنے تھوڑے ساز و سامان کے ساتھ یہ سفر اختیار نہ کرتے‘‘

    ماسوی اللہ را مسلماں بندہ نیست
    پیش فرعونے سرش افگندہ نیست
    ’’مسلماں غیراللہ کا بندہ نہیں وہ کسی فرعون کے سامنے اپنا سر نہیں جھکاتا‘‘

    خونِ او تفسیر ایں اسرار کرد
    ملت خوابیدہ را بیدار کرد
    ’’سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے خون نے اس راز کی تفسیر پیش کر دی اور (اپنے عمل سے) ملت خوابیدہ کو بیدار کر دیا‘

    رمز قرآن از حسین آموختیم
    ز آتشِ او شعلہ ہا اندوختیم
    ’ہم نے قرآن پاک کے رموز سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے سیکھے ہیں، ان کی روشن کی ہوئی آگ سے ہم نے آزادی کے شعلے اکٹھے کئے ہیں‘‘

    تارِ ما از زخمہ اش لرزاں ہنوز
    تازہ از تکبیرِ او ایماں ہنوز
    ’’ہماری زندگی کا تار ابھی تک سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے زخم سے لرزاں ہے انہوں نے میدان کربلا میں جو تکبیر بلند کی تھی وہ ہمارے ایمان کو زندہ کر رہی ہے





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Islamabad, UK
    Posts
    88,507
    Mentioned
    1031 Post(s)
    Tagged
    9706 Thread(s)
    Thanked
    603
    Rep Power
    21474934

    Default Re: چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت

    hmm nice par samaj koi itni khas ae nahi

  3. #3
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت

    umda
    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


  4. #4
    Join Date
    Feb 2009
    Location
    City Of Light
    Posts
    26,767
    Mentioned
    144 Post(s)
    Tagged
    10310 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474871

    Default Re: چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت

    Hard shairy hai is liye mushkil se samajh ati hai
    Nice



    3297731y763i7owcz zps9ed156a3 - چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت

    MAY OUR COUNTRY PROGRESS IN EVERYWHERE AND IN EVERYTHING SO THAT THE WHOLE WORLD SHOULD HAVE PROUD ON US
    PAKISTAN ZINDABAD











  5. #5
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت

    Quote Originally Posted by sheem View Post
    hmm nice par samaj koi itni khas ae nahi
    iqball kii smjhh aattay aattay hii aattii haiii





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  6. #6
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    pakistan
    Posts
    9,092
    Mentioned
    95 Post(s)
    Tagged
    8378 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    429513

    Default Re: چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت

    nice


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •