Results 1 to 2 of 2

Thread: بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا

  1. #1
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا


    بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
    رکھیو یا رب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا

    شب ہوئی پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا
    اس تکلّف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا

    گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
    آستیں میں دشنہ پنہاں ہاتھ میں نشتر کھلا

    گو نہ سمجھوں اس کی باتیں گو نہ پاؤں اس کا بھید
    پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا

    ہے خیالِ حسن میں حسنِ عمل کا سا خیال
    خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا

    منہ نہ کھلنے پر وہ عالم ہے کہ دیکھا ہی نہیں
    زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا

    در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
    جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا

    کیوں اندھیری ہے شبِ غم ہے بلاؤں کا نزول
    آج ادھر ہی کو رہیگا دیدۂ اختر کھلا

    کیا رہوں غربت میں خوش جب ہو حوادث کا یہ حال
    نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا

    اس کی امّت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند
    واسطے جس شہ کے غالب گنبدِ بے در کھلا

    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


  2. #2
    Join Date
    Aug 2012
    Location
    Baazeecha E Atfaal
    Posts
    12,045
    Mentioned
    303 Post(s)
    Tagged
    208 Thread(s)
    Thanked
    219
    Rep Power
    18

    Default

    Vaah Bohat Khhoob :-)
    Zabardast, Nice Sharing .....
    Khush Rahai'n, Aabaad Rahai'n ;-)
    (-: Bol Kay Lab Aazaad Hai'n Teray :-)


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •