Results 1 to 4 of 4

Thread: قرآن کا پیغام

  1. #1
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default قرآن کا پیغام

    قرآن کا پیغام

    اسلام دینِ فطرت ہے، انسانیت کی رہنمائی کے لیے قرآن کریم کتاب ہدایت ہے۔ اسلام میں اعمال کی بنیاد کلیۃ ایمان پر رکھی گئی ہے۔ اللہ، اُس کی کتاب اور رسول اللہ ؐ پر ایمان رکھنے والے پر فرض ہے کہ ہر اُس عمل سے رک جائے جس سے اللہ ناراض ہوتاہے۔ جب صاحبِ ایمان کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ فحش، بدکلامی اور بدکاری و حرام کاری سے منع کرتاہے تواُس کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ان ممنوعات سے رک جائے۔ مومن عورت کو جب یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ اوراس کے رسول ؐ نے معاشرے میں اُس کا کیامقام اور حیثیت مقرر کی ہے تو اُس کے ایمان کا تقاضا ہے کہ برضا ورغبت اپنی اس حیثیت کو قبول کرے اور ان حدود سے تجاوز نہ کرے جو شریعت نے اُس کے لیے مقرر کردی ہیں۔

    ماہ رمضان میں روزہ تقویٰ اختیارکرنے کا بہترین ذریعہ ہے، قرآن کریم کتاب انقلاب ہے، ماہ فرقان میں حق اور باطل، خیر اور شرکے درمیان فرق سمجھا کر تربیت دینا نظام تربیت کا اصل مقصود ہے۔ اصلاح باطن وہ بنیادی ذریعہ ہے جس سے اللہ کی رضا کا حصول اور صراط مستقیم پر استقامت سے چلتے رہنا ممکن ہوجاتاہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے تعلق باللہ انتہائی ضروری ہے۔ اسی لیے انبیائ، صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم نے رضائے الٰہی کی خاطر ہمیشہ تعلق باللہ کا سہارا لیا۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق انسان کے دل کو ماسوا اللہ سے خالی کردیتا ہے۔ اس بندے کا ہر سانس اور ہر عمل خالقِ حقیقی کے لیے ہوتا ہے، اُن کا کلام کرنا، سننا، دیکھنا اور جینا مرنا فقط اللہ تعالیٰ کی خاطر ہوجاتا ہے۔ جو بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق قائم کرنا چاہتا ہے اُسے چاہیے کہ وہ اعمالِ صالح، اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کے ساتھ کرے اور بُرے کاموں سے اجتناب کرے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوجائے تو ہر قسم کے کٹھن حالات بھی آسان محسوس ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    ’’مومنوں کو چاہیے کہ ایمان والوںکو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی حمایت میں نہیں، مگر یہ کہ اُن کے شر سے کسی طرح بچائو مقصود ہو، اور اللہ تمھیں اپنے نفس سے ڈرا رہاہے‘‘۔ (آل عمران :۲۸)
    گناہ کا ارتکاب انسان کو بربادی کی طرف دھکیل دیتاہے، وہ اسباب ووجوہ جن کی وجہ سے انسان گناہوں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے اور اُسی دلدل میں پھنسے ہوئے آخر کار ہمیشہ کے لیے تباہ وبرباد ہوجاتا ہے۔ عام طور پر گناہوں کا ارتکاب تین اسباب عورت، مال و دولت، ملکیت زمین کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ گناہ کی مذمت میں رسول اللہ ؐ کے چند ارشادات:۔
    ’’اے مہاجرین کی جماعت! پانچ خصلتوں سے بچنے کے لیے میں تمھارے حق میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں (1) جس قوم میں فحاشی پھیل جائے اور اس کا ارتکاب علانیہ طور پر ہو تو اللہ تعالیٰ اُن میں طاعون اور ایسی دوسری بیماریاں بھیج دیتا ہے جو اُن کے اسلاف میں نہیں پائی جاتی تھیں۔ (2) جو لوگ پیمائش، تول میں کمی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انھیں قحط سالی اور معاشی پریشانی میں مبتلا کردیتا ہے اور ظالم حکمران اُن پر مسلط کردیتاہے۔ (3) جو لوگ اپنے اموال کی زکوٰۃ دینا بند کردیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسانا روک دیتاہے اور اگرچوپائے نہ ہوتے تو اُن کے لیے بارش کبھی نہ برستی۔ (4) جو لوگ خلاف عہد کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اُن پر باہر سے کوئی دشمن مسلط کردیتا ہے جو اُن کی مملوکہ چیزوں میں سے بعض چیزوں کو چھین لیتاہے۔ (5) ایسے لوگوں کے آئمہ، دین الٰہی اور کتاب الٰہی پر عمل پیرا ہونا ترک کر دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن کے درمیان نزاع پیدا کردیتا ہے۔
    گناہ انسان کے لیے انتہائی مُضر اور خطرناک ہے بلکہ انسان کی تباہی اور بربادی کا سب سے بڑا اور قریبی راستہ ہے لہٰذا جو شخص گناہ اور نافرمانی کا ارتکاب کرتا ہے اُسے معاشرتی، معاشی، عملی اور سماجی نقصانات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ گناہوں کے نقصانات میں سے ایک نقصان یہ ہے کہ گناہ گار آدمی علم سے محروم ہوجاتا ہے۔ علم ایک روشنی ہے جو گناہ کی وجہ سے انسان کے دل سے ختم ہوجاتی ہے، گناہ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دل سے رفتہ رفتہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور عظمت وتوقیر قطعاً ختم کردیتا ہے اورآخرکار اُسے ہمیشہ کے لیے ناکام اور نامراد بنادیتا ہے۔ گناہوں کے نقصانات میں سے ایک نقصان یہ بھی ہے کہ گناہ گار آدمی کا دل و جان گناہوں کے سبب کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایمان کی حرکت عمل صالح کی قوت برقرار رکھنے کے لیے اصلاح باطن تربیت کا پہلا مرحلہ ہے۔ روزہ میں بندہ مومن بھوک، پیاس، مشقت ومحنت برداشت کرتاہے۔ سحری سے افطار تک کھانے پینے سے رک جاتاہے۔ اُس کا ایمان پختہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ ایمان کی یہ قوت بندے کے اندر سے پیدا ہوتی ہے۔
    حیا اصلاح باطن کے لیے جامع لفظ ہے۔ حیا کے معنی شرم کے ہیں۔ برائی کے ارتکاب کے لیے انسان میں شرم ہی سدباب کا اہم ذریعہ ہے۔ زنا، چوری، قتل، شراب، جوا، ڈاکہ زنی ایسے جرائم ہیں جو قانون کی زد میں آتے ہیں لیکن انسان کے اندر سے پھوٹنے والے جرائم بظاہر کسی قانون کی زد میں نہیں آتے لیکن یہ خرابیاں انسان کو بڑے گناہوں اور بڑے جرائم کی طرف لے جاتی ہیں۔ حقیقت میں اندرکی خرابیوں پر گرفت سے بڑی خرابیوں اور بربادیوں کا راستہ رک سکتاہے، ان خرابیوں سے بندہ خود ہی آگاہ ہے، خود احساس کر سکتا ہے اور انھیں دبانے کے لیے خود ہی اقدامات کرسکتا ہے۔ انسان کے اندر سے چھوٹی چھوٹی نازک نازک چوریاں کیا ہیں، ان پر گرفت ہی اصلاح باطن ہے۔

    دل کا چور:۔

    قانون کی نظر میں زنا کا اطلاق صرف جسمانی افعال پر ہوتا ہے مگر اخلاق کی نظر میں دائرہ ازدواج کے باہر صنف مقابل کی جانب میلان، ارادے اور نیت کے اعتبار سے زناہے، اجنبی کے حسن سے آنکھ کا لطف لینا، اُس کی آواز سے کانوں کا لذت لینا، اُس سے گفتگو کرنے میں زبان کا لطف اندوز ہونا اور اُس کے کوچے کی خاک چھاننے کے لیے قدموں کا بار بار اٹھنا، یہ سب زنا کے مقدمات اور خود معنوی حیثیت سے زنا ہیں۔ قانون اس زنا کو نہیں پکڑ سکتا، یہ دل کا چور ہے اور صرف دل کا کوتوال ہی اس کو گرفتار کرسکتاہے۔ رسول اللہ ؐ کا فرمان ہے:
    ’’آنکھیں زنا کرتی ہیں ان کا زنا نظر ہے، اور ہاتھ زنا کرتے ہیں ان کا زنا دست درازی ہے اور پائوں زناکرتے ہیں اور ان کا زنا اسی راہ پر چلنا ہے اور زبان کا زنا گفتگو ہے اور دل کا زنا تمنا اور خواہش ہے، آخر میں صنفی اعضا یا تو ان سب کی تصدیق کردیتے ہیں یا تکذیب۔‘‘
    دل کے چور کو چوریوں سے روکنے کے لیے اندر کے ایمان کی مضبوطی ناگزیر ہے۔ مفکر اسلام مفسر قرآن مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اصلاح باطن کے حوالے سے اپنی مدلل تحریروں میں بہت ہی شاندار طریقے سے بعض اُمور کی نشان دہی کی ہے، جو اصلاح باطن کے لیے حروفِ ہدایت ہیں ان کا مفہوم یہ ہے۔

    فتنہ نظر:۔

    نفس کا سب سے بڑا چور نگاہ ہے اس لیے قرآن و حدیث سب سے پہلے اس کی گرفت کرتے ہیں۔ قرآن کہتاہے:
    "اے نبی ؐ، مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں، اللہ اُس سے باخبر رہتا ہے اور اے نبی ؐ ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بنائو سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ وہ اپنا بنائو سنگھار ظاہرنہ کریں مگر ان لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، اپنے لونڈی غلام، وہ زیر دست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ وہ اپنے پائوں زمین پر نہ مارتی ہوئی چلا کریں کہ اپنی جو زینت انھوںنے چھپا کر رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہوجائے۔‘‘(النور۳۰۔۳۱)۔
    "اے مومنو! تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پائو گے۔"
    رسول اللہ ؐ کا فرمان ہے کہ ’’آدم زادے تیری پہلی نظر تو معاف ہے مگر خبردار دوسری نظر نہ ڈالنا۔‘‘ حضرت علی ؓ سے رسول اللہ ؐ نے فرمایا: اے علیؓ ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو، پہلی نظر تو معاف ہے، دوسری نظر نہیں۔ حضرت جابر ؓ نے دریافت کیا: اچانک نظر پڑ جائے تو کیا کروں، تو رسول اللہ ؐ نے فرمایا: فوراً نظر پھیر لو۔‘‘

    جذبہ نمائش حسن:۔

    فتنہ نظر کا ایک شاخسانہ وہ بھی ہے جو عورت کے دل میں یہ خواہش پیداکرتاہے کہ اُس کا حسن دیکھاجائے۔ یہ خواہش ہمیشہ جلی اور نمایاں ہی نہیں ہوتی دل کے پردوں میںکہیں نہ کہیں نمایش حُسن کا جذبہ چھپا ہوتا ہے اور وہی لباس کی زینت میں، بالوں کی آرایش میں، باریک اور شوخ کپڑوں کے انتخاب میں اور ایسی ایسی جزئیات تک میں اپنا اثر ظاہر کرتا ہے جن کا احاطہ ممکن نہیں۔ قرآن ان سب کے لیے تبرجِ جاہلیت کی جامع اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ ہر وہ زینت اور ہر وہ آرائش جس کا مقصد شوہر کے سوا دوسروں کے لیے لذت نظر بننا ہوتبرج جاہلیت کی تعریف میں آجاتی ہے۔ اگر برقع بھی اس غرض کے لیے خوبصورت اور خوش رنگ انتخاب کیا جائے کہ نگاہیں اس سے لذت یاب ہو ں تو یہ بھی تبرج جاہلیت ہے۔ اس کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا ۔اس کا تعلق عورت کے اپنے ضمیر سے ہے۔ اس کا خود ہی اپنے دل کا حساب لینا چاہیے کہ اس میں کہیں یہ ناپاک جذبہ تو چھپا ہوا نہیں ہے۔ اس کا تدارک مومنہ عورت خود ہی کرسکتی ہے۔
    فتنہ زبان:
    شیطان نفس کا اہم ترین ایجنٹ زبان ہے۔ کتنے ہی فتنے ہیں جو زبان کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں اور پھیلتے جاتے ہیں۔ مرد اور عورت بات کر رہے ہوں تو کوئی بُرا جذبہ نمایاں نہیں ہوتا مگر دل میں چھپا چور زبان میں حلاوت اور باتوں میں گھلاوٹ پیدا کیے جارہا ہے۔ قرآن اس چور کو پکڑ لیتا ہے۔ (سورۃ الاحزاب ۳۲۔۳۳)۔
    ’’اگر تمھارے دل میں خوف ہے تو دبی زبان میں بات نہ کرو کہ جس شخص کے دل میں بدنیتی کی بیماری ہو تو وہ تم سے کچھ اُمیدیں وابستہ کرے گا۔ بات کرو تو سیدھے سادے طریقے سے کرو(جس طرح انسان، انسان سے بات کیا کرتاہے)۔
    یہی دل کا چو ر ہے جو جائز ناجائز بنیادوں پر صنفی تعلقات کا حال بیان کرنے میں بھی مزے لیتا ہے اور سننے میں بھی۔ یہ دل کا چور معاشرے میں ناجائز اعمال کے ذریعے کو عام کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔ فتنہ زبان کے کئی شعبے ہیں اور ہر شعبے میں دل کا ایک نہ ایک چور اپنا کام کرتا ہے۔ اسلام نے ان سب کا سراغ لگایا ہے اور ان سے خبرد ار کیا ہے۔ عورت کو اجازت نہیںکہ اپنے شوہر سے دوسری عورتوں کی کیفیات بیان کرے۔ عورت اور مرد کو اس سے منع کیا گیاہے کہ اپنے پوشیدہ ازدواجی معاملات کاحال دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کریں کیوں کہ اس سے بھی فحش کی اشاعت ہوتی ہے اور دلوں میں شوق پیدا ہوتاہے۔

    فتنہ خوشبو:۔
    خوشبو بھی ایسا فتنہ ہے جو ایک نفسِ شریرکا پیغام دوسرے نفس شریر تک پہنچاتا ہے۔ جسے جتنا بھی خفیف جانا جائے مگر اسلامی حیا اتنی حساس ہے کہ اس کی طبع پر یہ لطیف تحریک بھی گراںگزرتی ہے۔ مسلمان عورت کے لیے جائز نہیں کہ خوشبو میں بسے کپڑے پہن کر راستوں سے گزرے یا محفلوں میں شرکت کرے کیوں کہ اُس کا حسن اور زینت پوشیدہ بھی رہی تو کیا فائدہ ہوا۔ اُس کی عطریت تو فضا میں پھیل کر جذبات کو متحرک کر رہی ہے۔ رسول اللہ ؐ کا فرمان ہے کہ جو عورت عطر لگا کرلوگوں کے درمیان سے گزرتی ہے وہ آوارہ قسم کی عورت ہے۔ جب کوئی عورت مسجدوں میں جائے تو خوشبو نہ لگائے۔ ’’مردوں کے لیے وہ عطر مناسب ہے جس کی خوشبو نمایاں اور رنگ مخفی ہو اور عورتوں کے لیے وہ عطر مناسب ہے جس کا رنگ نمایاں اور خوشبو مخفی ہو۔‘‘

    فتنہ عریانی:۔

    عریانی ایسی ناشایستگی ہے جس کو اسلامی حیا کسی حال میں بھی برداشت نہیں کرتی۔ غیر تو غیر اسلام اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ میاں اور بیوی ایک دوسرے کے سامنے برہنہ ہوں۔ اسلام نے انسانی شرم وحیا کی صحیح اور مکمل نفسیاتی تعبیر کی ہے جس کی مثال کسی تہذیب کے بس میں نہیں۔ اُم المؤمنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ’’میں نے رسول اللہ ؐ کو کبھی برہنہ نہیںدیکھا۔‘‘ اس سے بڑھ کر شرم و حیا یہ ہے کہ تنہائی میں بھی عریاں رہنا اسلام کو گوارا نہیں۔ حدیث میں آتاہے کہ ’’خبردار کبھی برہنہ نہ رہو کیونکہ تمھارے ساتھ خدا کے فرشتے لگے ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے۔‘‘ اسلام کی نگاہ میں وہ لباس ہی نہیں ہے جس سے بدن جھلکے اور ستر نمایاں ہو۔ اس کی روشنی میں دیکھیں تو اسلام کا معیار اخلاق اور اخلاقی اقدار کی اہمیت کا احساس ہوجاتاہے۔ اسلام معاشرے کے ماحول کو فحش اور منکر کی تمام تحریکات سے پاک کردینا چاہتا ہے۔ ان تحریکات کا سرچشمہ انسان کے باطن میں ہے۔
    اسلام کی تعلیم ِاخلاق، باطن میں ہی حیا کا اتنا زبردست احساس پیدا کردینا چاہتی ہے کہ انسان خود اپنے نفس کا احتساب کرتا رہے۔ اور برائی کی جانب ادنیٰ سے ادنیٰ میلان بھی اگر پایا جائے تواُس کو محسوس کرکے وہ آپ ہی اپنی قوت ارادی سے اس کا خاتمہ کردے۔ روزہ اور قرآن تقویٰ کی صفت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ اصلاح ِباطن ہی سے تقویٰ اور رب کی رضا کے تقاضے پورے ہوسکتے ہیں۔


  2. #2
    Join Date
    Nov 2013
    Location
    Mama ki Agoosh
    Age
    23
    Posts
    92
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    1346 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: قرآن کا پیغام

    Quote Originally Posted by *jamshed* View Post
    قرآن کا پیغام

    اسلام دینِ فطرت ہے، انسانیت کی رہنمائی کے لیے قرآن کریم کتاب ہدایت ہے۔ اسلام میں اعمال کی بنیاد کلیۃ ایمان پر رکھی گئی ہے۔ اللہ، اُس کی کتاب اور رسول اللہ ؐ پر ایمان رکھنے والے پر فرض ہے کہ ہر اُس عمل سے رک جائے جس سے اللہ ناراض ہوتاہے۔ جب صاحبِ ایمان کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ فحش، بدکلامی اور بدکاری و حرام کاری سے منع کرتاہے تواُس کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ان ممنوعات سے رک جائے۔ مومن عورت کو جب یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ اوراس کے رسول ؐ نے معاشرے میں اُس کا کیامقام اور حیثیت مقرر کی ہے تو اُس کے ایمان کا تقاضا ہے کہ برضا ورغبت اپنی اس حیثیت کو قبول کرے اور ان حدود سے تجاوز نہ کرے جو شریعت نے اُس کے لیے مقرر کردی ہیں۔

    ماہ رمضان میں روزہ تقویٰ اختیارکرنے کا بہترین ذریعہ ہے، قرآن کریم کتاب انقلاب ہے، ماہ فرقان میں حق اور باطل، خیر اور شرکے درمیان فرق سمجھا کر تربیت دینا نظام تربیت کا اصل مقصود ہے۔ اصلاح باطن وہ بنیادی ذریعہ ہے جس سے اللہ کی رضا کا حصول اور صراط مستقیم پر استقامت سے چلتے رہنا ممکن ہوجاتاہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے تعلق باللہ انتہائی ضروری ہے۔ اسی لیے انبیائ، صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم نے رضائے الٰہی کی خاطر ہمیشہ تعلق باللہ کا سہارا لیا۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق انسان کے دل کو ماسوا اللہ سے خالی کردیتا ہے۔ اس بندے کا ہر سانس اور ہر عمل خالقِ حقیقی کے لیے ہوتا ہے، اُن کا کلام کرنا، سننا، دیکھنا اور جینا مرنا فقط اللہ تعالیٰ کی خاطر ہوجاتا ہے۔ جو بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق قائم کرنا چاہتا ہے اُسے چاہیے کہ وہ اعمالِ صالح، اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کے ساتھ کرے اور بُرے کاموں سے اجتناب کرے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوجائے تو ہر قسم کے کٹھن حالات بھی آسان محسوس ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    ’’مومنوں کو چاہیے کہ ایمان والوںکو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی حمایت میں نہیں، مگر یہ کہ اُن کے شر سے کسی طرح بچائو مقصود ہو، اور اللہ تمھیں اپنے نفس سے ڈرا رہاہے‘‘۔ (آل عمران :۲۸)
    گناہ کا ارتکاب انسان کو بربادی کی طرف دھکیل دیتاہے، وہ اسباب ووجوہ جن کی وجہ سے انسان گناہوں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے اور اُسی دلدل میں پھنسے ہوئے آخر کار ہمیشہ کے لیے تباہ وبرباد ہوجاتا ہے۔ عام طور پر گناہوں کا ارتکاب تین اسباب عورت، مال و دولت، ملکیت زمین کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ گناہ کی مذمت میں رسول اللہ ؐ کے چند ارشادات:۔
    ’’اے مہاجرین کی جماعت! پانچ خصلتوں سے بچنے کے لیے میں تمھارے حق میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں (1) جس قوم میں فحاشی پھیل جائے اور اس کا ارتکاب علانیہ طور پر ہو تو اللہ تعالیٰ اُن میں طاعون اور ایسی دوسری بیماریاں بھیج دیتا ہے جو اُن کے اسلاف میں نہیں پائی جاتی تھیں۔ (2) جو لوگ پیمائش، تول میں کمی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انھیں قحط سالی اور معاشی پریشانی میں مبتلا کردیتا ہے اور ظالم حکمران اُن پر مسلط کردیتاہے۔ (3) جو لوگ اپنے اموال کی زکوٰۃ دینا بند کردیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسانا روک دیتاہے اور اگرچوپائے نہ ہوتے تو اُن کے لیے بارش کبھی نہ برستی۔ (4) جو لوگ خلاف عہد کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اُن پر باہر سے کوئی دشمن مسلط کردیتا ہے جو اُن کی مملوکہ چیزوں میں سے بعض چیزوں کو چھین لیتاہے۔ (5) ایسے لوگوں کے آئمہ، دین الٰہی اور کتاب الٰہی پر عمل پیرا ہونا ترک کر دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن کے درمیان نزاع پیدا کردیتا ہے۔
    گناہ انسان کے لیے انتہائی مُضر اور خطرناک ہے بلکہ انسان کی تباہی اور بربادی کا سب سے بڑا اور قریبی راستہ ہے لہٰذا جو شخص گناہ اور نافرمانی کا ارتکاب کرتا ہے اُسے معاشرتی، معاشی، عملی اور سماجی نقصانات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ گناہوں کے نقصانات میں سے ایک نقصان یہ ہے کہ گناہ گار آدمی علم سے محروم ہوجاتا ہے۔ علم ایک روشنی ہے جو گناہ کی وجہ سے انسان کے دل سے ختم ہوجاتی ہے، گناہ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دل سے رفتہ رفتہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور عظمت وتوقیر قطعاً ختم کردیتا ہے اورآخرکار اُسے ہمیشہ کے لیے ناکام اور نامراد بنادیتا ہے۔ گناہوں کے نقصانات میں سے ایک نقصان یہ بھی ہے کہ گناہ گار آدمی کا دل و جان گناہوں کے سبب کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایمان کی حرکت عمل صالح کی قوت برقرار رکھنے کے لیے اصلاح باطن تربیت کا پہلا مرحلہ ہے۔ روزہ میں بندہ مومن بھوک، پیاس، مشقت ومحنت برداشت کرتاہے۔ سحری سے افطار تک کھانے پینے سے رک جاتاہے۔ اُس کا ایمان پختہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ ایمان کی یہ قوت بندے کے اندر سے پیدا ہوتی ہے۔
    حیا اصلاح باطن کے لیے جامع لفظ ہے۔ حیا کے معنی شرم کے ہیں۔ برائی کے ارتکاب کے لیے انسان میں شرم ہی سدباب کا اہم ذریعہ ہے۔ زنا، چوری، قتل، شراب، جوا، ڈاکہ زنی ایسے جرائم ہیں جو قانون کی زد میں آتے ہیں لیکن انسان کے اندر سے پھوٹنے والے جرائم بظاہر کسی قانون کی زد میں نہیں آتے لیکن یہ خرابیاں انسان کو بڑے گناہوں اور بڑے جرائم کی طرف لے جاتی ہیں۔ حقیقت میں اندرکی خرابیوں پر گرفت سے بڑی خرابیوں اور بربادیوں کا راستہ رک سکتاہے، ان خرابیوں سے بندہ خود ہی آگاہ ہے، خود احساس کر سکتا ہے اور انھیں دبانے کے لیے خود ہی اقدامات کرسکتا ہے۔ انسان کے اندر سے چھوٹی چھوٹی نازک نازک چوریاں کیا ہیں، ان پر گرفت ہی اصلاح باطن ہے۔

    دل کا چور:۔

    قانون کی نظر میں زنا کا اطلاق صرف جسمانی افعال پر ہوتا ہے مگر اخلاق کی نظر میں دائرہ ازدواج کے باہر صنف مقابل کی جانب میلان، ارادے اور نیت کے اعتبار سے زناہے، اجنبی کے حسن سے آنکھ کا لطف لینا، اُس کی آواز سے کانوں کا لذت لینا، اُس سے گفتگو کرنے میں زبان کا لطف اندوز ہونا اور اُس کے کوچے کی خاک چھاننے کے لیے قدموں کا بار بار اٹھنا، یہ سب زنا کے مقدمات اور خود معنوی حیثیت سے زنا ہیں۔ قانون اس زنا کو نہیں پکڑ سکتا، یہ دل کا چور ہے اور صرف دل کا کوتوال ہی اس کو گرفتار کرسکتاہے۔ رسول اللہ ؐ کا فرمان ہے:
    ’’آنکھیں زنا کرتی ہیں ان کا زنا نظر ہے، اور ہاتھ زنا کرتے ہیں ان کا زنا دست درازی ہے اور پائوں زناکرتے ہیں اور ان کا زنا اسی راہ پر چلنا ہے اور زبان کا زنا گفتگو ہے اور دل کا زنا تمنا اور خواہش ہے، آخر میں صنفی اعضا یا تو ان سب کی تصدیق کردیتے ہیں یا تکذیب۔‘‘
    دل کے چور کو چوریوں سے روکنے کے لیے اندر کے ایمان کی مضبوطی ناگزیر ہے۔ مفکر اسلام مفسر قرآن مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اصلاح باطن کے حوالے سے اپنی مدلل تحریروں میں بہت ہی شاندار طریقے سے بعض اُمور کی نشان دہی کی ہے، جو اصلاح باطن کے لیے حروفِ ہدایت ہیں ان کا مفہوم یہ ہے۔

    فتنہ نظر:۔

    نفس کا سب سے بڑا چور نگاہ ہے اس لیے قرآن و حدیث سب سے پہلے اس کی گرفت کرتے ہیں۔ قرآن کہتاہے:
    "اے نبی ؐ، مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں، اللہ اُس سے باخبر رہتا ہے اور اے نبی ؐ ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بنائو سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ وہ اپنا بنائو سنگھار ظاہرنہ کریں مگر ان لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، اپنے لونڈی غلام، وہ زیر دست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ وہ اپنے پائوں زمین پر نہ مارتی ہوئی چلا کریں کہ اپنی جو زینت انھوںنے چھپا کر رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہوجائے۔‘‘(النور۳۰۔۳۱)۔
    "اے مومنو! تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پائو گے۔"
    رسول اللہ ؐ کا فرمان ہے کہ ’’آدم زادے تیری پہلی نظر تو معاف ہے مگر خبردار دوسری نظر نہ ڈالنا۔‘‘ حضرت علی ؓ سے رسول اللہ ؐ نے فرمایا: اے علیؓ ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو، پہلی نظر تو معاف ہے، دوسری نظر نہیں۔ حضرت جابر ؓ نے دریافت کیا: اچانک نظر پڑ جائے تو کیا کروں، تو رسول اللہ ؐ نے فرمایا: فوراً نظر پھیر لو۔‘‘

    جذبہ نمائش حسن:۔

    فتنہ نظر کا ایک شاخسانہ وہ بھی ہے جو عورت کے دل میں یہ خواہش پیداکرتاہے کہ اُس کا حسن دیکھاجائے۔ یہ خواہش ہمیشہ جلی اور نمایاں ہی نہیں ہوتی دل کے پردوں میںکہیں نہ کہیں نمایش حُسن کا جذبہ چھپا ہوتا ہے اور وہی لباس کی زینت میں، بالوں کی آرایش میں، باریک اور شوخ کپڑوں کے انتخاب میں اور ایسی ایسی جزئیات تک میں اپنا اثر ظاہر کرتا ہے جن کا احاطہ ممکن نہیں۔ قرآن ان سب کے لیے تبرجِ جاہلیت کی جامع اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ ہر وہ زینت اور ہر وہ آرائش جس کا مقصد شوہر کے سوا دوسروں کے لیے لذت نظر بننا ہوتبرج جاہلیت کی تعریف میں آجاتی ہے۔ اگر برقع بھی اس غرض کے لیے خوبصورت اور خوش رنگ انتخاب کیا جائے کہ نگاہیں اس سے لذت یاب ہو ں تو یہ بھی تبرج جاہلیت ہے۔ اس کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا ۔اس کا تعلق عورت کے اپنے ضمیر سے ہے۔ اس کا خود ہی اپنے دل کا حساب لینا چاہیے کہ اس میں کہیں یہ ناپاک جذبہ تو چھپا ہوا نہیں ہے۔ اس کا تدارک مومنہ عورت خود ہی کرسکتی ہے۔
    فتنہ زبان:
    شیطان نفس کا اہم ترین ایجنٹ زبان ہے۔ کتنے ہی فتنے ہیں جو زبان کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں اور پھیلتے جاتے ہیں۔ مرد اور عورت بات کر رہے ہوں تو کوئی بُرا جذبہ نمایاں نہیں ہوتا مگر دل میں چھپا چور زبان میں حلاوت اور باتوں میں گھلاوٹ پیدا کیے جارہا ہے۔ قرآن اس چور کو پکڑ لیتا ہے۔ (سورۃ الاحزاب ۳۲۔۳۳)۔
    ’’اگر تمھارے دل میں خوف ہے تو دبی زبان میں بات نہ کرو کہ جس شخص کے دل میں بدنیتی کی بیماری ہو تو وہ تم سے کچھ اُمیدیں وابستہ کرے گا۔ بات کرو تو سیدھے سادے طریقے سے کرو(جس طرح انسان، انسان سے بات کیا کرتاہے)۔
    یہی دل کا چو ر ہے جو جائز ناجائز بنیادوں پر صنفی تعلقات کا حال بیان کرنے میں بھی مزے لیتا ہے اور سننے میں بھی۔ یہ دل کا چور معاشرے میں ناجائز اعمال کے ذریعے کو عام کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔ فتنہ زبان کے کئی شعبے ہیں اور ہر شعبے میں دل کا ایک نہ ایک چور اپنا کام کرتا ہے۔ اسلام نے ان سب کا سراغ لگایا ہے اور ان سے خبرد ار کیا ہے۔ عورت کو اجازت نہیںکہ اپنے شوہر سے دوسری عورتوں کی کیفیات بیان کرے۔ عورت اور مرد کو اس سے منع کیا گیاہے کہ اپنے پوشیدہ ازدواجی معاملات کاحال دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کریں کیوں کہ اس سے بھی فحش کی اشاعت ہوتی ہے اور دلوں میں شوق پیدا ہوتاہے۔

    فتنہ خوشبو:۔
    خوشبو بھی ایسا فتنہ ہے جو ایک نفسِ شریرکا پیغام دوسرے نفس شریر تک پہنچاتا ہے۔ جسے جتنا بھی خفیف جانا جائے مگر اسلامی حیا اتنی حساس ہے کہ اس کی طبع پر یہ لطیف تحریک بھی گراںگزرتی ہے۔ مسلمان عورت کے لیے جائز نہیں کہ خوشبو میں بسے کپڑے پہن کر راستوں سے گزرے یا محفلوں میں شرکت کرے کیوں کہ اُس کا حسن اور زینت پوشیدہ بھی رہی تو کیا فائدہ ہوا۔ اُس کی عطریت تو فضا میں پھیل کر جذبات کو متحرک کر رہی ہے۔ رسول اللہ ؐ کا فرمان ہے کہ جو عورت عطر لگا کرلوگوں کے درمیان سے گزرتی ہے وہ آوارہ قسم کی عورت ہے۔ جب کوئی عورت مسجدوں میں جائے تو خوشبو نہ لگائے۔ ’’مردوں کے لیے وہ عطر مناسب ہے جس کی خوشبو نمایاں اور رنگ مخفی ہو اور عورتوں کے لیے وہ عطر مناسب ہے جس کا رنگ نمایاں اور خوشبو مخفی ہو۔‘‘

    فتنہ عریانی:۔

    عریانی ایسی ناشایستگی ہے جس کو اسلامی حیا کسی حال میں بھی برداشت نہیں کرتی۔ غیر تو غیر اسلام اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ میاں اور بیوی ایک دوسرے کے سامنے برہنہ ہوں۔ اسلام نے انسانی شرم وحیا کی صحیح اور مکمل نفسیاتی تعبیر کی ہے جس کی مثال کسی تہذیب کے بس میں نہیں۔ اُم المؤمنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ’’میں نے رسول اللہ ؐ کو کبھی برہنہ نہیںدیکھا۔‘‘ اس سے بڑھ کر شرم و حیا یہ ہے کہ تنہائی میں بھی عریاں رہنا اسلام کو گوارا نہیں۔ حدیث میں آتاہے کہ ’’خبردار کبھی برہنہ نہ رہو کیونکہ تمھارے ساتھ خدا کے فرشتے لگے ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے۔‘‘ اسلام کی نگاہ میں وہ لباس ہی نہیں ہے جس سے بدن جھلکے اور ستر نمایاں ہو۔ اس کی روشنی میں دیکھیں تو اسلام کا معیار اخلاق اور اخلاقی اقدار کی اہمیت کا احساس ہوجاتاہے۔ اسلام معاشرے کے ماحول کو فحش اور منکر کی تمام تحریکات سے پاک کردینا چاہتا ہے۔ ان تحریکات کا سرچشمہ انسان کے باطن میں ہے۔
    اسلام کی تعلیم ِاخلاق، باطن میں ہی حیا کا اتنا زبردست احساس پیدا کردینا چاہتی ہے کہ انسان خود اپنے نفس کا احتساب کرتا رہے۔ اور برائی کی جانب ادنیٰ سے ادنیٰ میلان بھی اگر پایا جائے تواُس کو محسوس کرکے وہ آپ ہی اپنی قوت ارادی سے اس کا خاتمہ کردے۔ روزہ اور قرآن تقویٰ کی صفت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ اصلاح ِباطن ہی سے تقویٰ اور رب کی رضا کے تقاضے پورے ہوسکتے ہیں۔

    very nice

  3. #3
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Mideast
    Posts
    5,905
    Mentioned
    210 Post(s)
    Tagged
    5074 Thread(s)
    Thanked
    176
    Rep Power
    10

    Default Re: قرآن کا پیغام

    Umda share...............

  4. #4
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    pakistan
    Posts
    9,092
    Mentioned
    95 Post(s)
    Tagged
    8378 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    429513

    Default Re: قرآن کا پیغام

    Jazak Allah Khair

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •