Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 15

Thread: ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)

  1. #1
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)

    437687w0q6g8tfug - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)437687w0q6g8tfug - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)437687w0q6g8tfug - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)437687w0q6g8tfug - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)437687w0q6g8tfug - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)437687w0q6g8tfug - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)437687w0q6g8tfug - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)437687w0q6g8tfug - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)


    2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)




    animated doll - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)Asslam-o-alaikum 07 - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)animated doll - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)



    2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)


    طویل مدت سے اناطولیہ اور رومیلی میں فروغ پانے والی عثمانی ثقافت اور کھانوں کے رسم و رواج ایشیا ئی ترکوں کے قدیم سرمایوں سے وقوع پذیر ہوئے
    ایک دور میں ایشیا سے اناطولیہ کی جانب پیش قدمی کرنے والے ترک قبائل نے، قدیم تہذیبوں کے پروان چڑھنے والی اس سر زمین کو مشرق بعید کے کثیر ثقافتی ورثے کو بڑی مہارت سے اور سفر بھر کے دوران گزر ہونے والی مملکتوں کے رنگوں کو بھی اپنے اندر سماتے ہوئے قدم رکھا۔ اس کثرت میں کھانوں کی ثقافت نہ بھی نکھارحاصل کیا۔ مہاجر قافلے " بھوکے پیاسوں کی پیٹ پوجا کریں، برہنہ بدنوں پر لباس اوڑھیں، مسمار شدہ عمارتوں کی مرمت کریں، کم آبادی میں اضافے کریں" کی طرح کے مقدس اصولوں پر کار بند رہے۔ انہوں نے اپنے نئے وطن میں ان فرائض کو اپنی زندگیوں کا لازمی جزو بناتے ہوئے ان پر عمل در آمد کو جاری رکھا۔
    اس طرح طویل مدت سے اناطولیہ اور رومیلی میں فروغ پانے والی عثمانی ثقافت اور کھانوں کے رسم و رواج ایشیا ئی ترکوں کے قدیم سرمایوں سے وقوع پذیر ہوئے، اور انہوں نے شہرت حاصل کی۔ ان رسم و رواج نے نئے وطن میں مزید فروغ پایا چونکہ یہاں پر اس ضمن میں بنیادی ڈھانچہ اور معلوماتی خزانہ پہلے سے ہی موجود تھا۔


    نیا وطن تین سمندروں میں گھرا ہو ا تھا: یہ سمندر بحیرہ اسود، بحیرہ روم اور بحیرہ ایجین تھے۔ اور ان تینوں سمندروں کے ذخائر اناطولیہ آنے والے مہاجرین کے رحم و کرم پر تھے۔آبنائے چناق قلعے اور استنبول کی وساطت تمام تر علاقے ترک مہاجرین کی رسائی میں تھے۔ دوسری جانب اناطولیہ کی سر زمین منفرد برکتوں سے مالا مال تھی۔ مغربی اناطولیہ میں بیک وقت چاروں موسموں سے استفادہ کیا جانا ممکن تھا تو جنوبی علاقوں میں گرمیاں، بحیرہ اسود کے علاقے میں معتدل موسم خزاں کی آب و ہوا کے امکانات کے ساتھ ملک بھر میں تقریباً ہر موسم میں تازہ سبزیوں اور نواع و اقسام کے پھل کی پیداوار ممکن تھی۔ آج بھی قدرت کی ان نعمتوں سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔


    ہمارے اس سلسلے کا موضوع شاہی باورچی خانوں میں تیار کیے جانے والے کھانے ہے۔تا ہم اس سے قبل آئیے عثمانی باورچی خانے کے شیلفوں پر ایک نگاہ دوڑاتے ہیں۔


    عثمانی کھانوں کی ایک خصوصیت مختلف خطوں، علاقوں اور آب و ہوا کی بنا پر مختلف اقسام کے سازو سامان ، سبزیوں اور دیگر روز مرہ کی ضرورت کی اشیاء کی بہتات تھی۔ مزید برآں مختلف سمندروں اور جھیلوں سے بھی حاصل کردہ خوراک کو بھی اس میں شامل کیا جائے تو پھر اقسام میں مزید اضافہ ہونے کا مشاہدہ ہوتا ہے۔


    مختصراً اس چیز کا بڑے وثوق سے اظہار کیا جا سکتا ہے، کہ عثمانی کھانوں اور باورچی خانوں کی ثقافت دراصل دنیا بھر کے تین نمایاں باورچی خانوں کی ثقافت شامل تھی۔


    سلطان مہمت فاتح کے والد سلطان مراد دوئم کے دور میں عوام کے دستر خوان یا پھر سرائے کے دستر خوان پر کھانے پینے کا اہتمام بڑے سادہ طریقے سے کیا جاتا تھا۔ اور کھانوں کی چند ایک اقسام کو ہی دستر خوان پر پیش کیا جاتا تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے دور میں دستر خوان اور باورچی خانے کی ثقافت کو وسعت زیادہ تر سلطان مراد دوئم کے دور میں حاصل ہوئی تھی۔


    دور ِ عثمانیہ کے کھانوں میں موجودہ دور کی طرح شوربوں یعنی سوپس کو بڑا اہم مقام حاصل رہا ۔موجودہ دور میں بھی کم و بیش پرانے طریقوں سے سوپس تیار کیے جاتے ہیں۔جس طرح سلطنت عثمانیہ کے دور میں تیار کیے جاتے تھے۔ یہ سوپس زیادہ تر گوشت یا پھر مرغی کی یخنی سے تیار کیے جاتے ہیں۔ مچھلی سوپ بھی بعض علاقوں میں بڑے شوق سے نوش کیا جاتا ہے۔ چاول کے استعمال سے بھی تیار کیے جانے والے سوپ کی کئی اقسام موجود ہیں۔دہی کے سوپس کو بھی ترک لوگ بڑے شوق سے نوش کرتے ہیں۔


    دور عثمانیہ میں سوپس کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں ایک سو سے زائد سوپس کی اقسام موجود تھیں۔ عمر رسیدہ خواتین عام طور پر اپنی بیٹیوں کو بیانے سے قبل سوپ تیار کرنا سکھایا کرتی تھیں۔


    عثمانی دور میں بھیڑ، بکری ، گائے کے ساتھ ساتھ مرغی اور مچھلی کے گوشت کو ہمیشہ کھانوں میں اہم ترین عنصر کی حیثیت حاصل رہی ۔ گوشت کے کھانوں کی تیاری میں پیاز کا استعمال لازمی ہے۔ شاہی محل میں کباب بڑی مرغوب غذا رہی ہے۔ اور ترکی میں عصر حاضر میں کبابوں کو بڑا پسند کیا جاتا ہے۔ اور طرح طرح کے کبابوں کی تیاری میں مختلف طریقہ کار استعمال کیے جاتے ہیں۔


    عثمانی باورچی خانے میں لوبیہ کا بھی بکثرت استعمال رہا ہے۔ دور ِ حاضر میں بھی لوبیہ کے علاوہ چاول وغیرہ پیش کیے جاتے ہیں۔ چاول ترک کھانوں کی ثقافت کا ایک اہم جزو ہیں۔ترکی میں مختلف اقسام کے دلیوں سے بھی پلاؤ تیار کیے جاتے ہیں۔ سادے چاولوں کو لوبیے کے کھانے کے ساتھ بھی پیش کیا جاتا ہے۔ پلاؤ کے علاوہ ترک لوگ زردے نما پلاؤ کا بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔


    1013920trvvm564zf - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)1013920trvvm564zf - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)1013920trvvm564zf - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)1013920trvvm564zf - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)1013920trvvm564zf - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)
    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


  2. #2
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)

    2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)

    عثمانی پکوانوں میں گوشت والے یا پھر زیتون کے تیل میں پکائی گئی سبزیوں کے کھانوں کی متعدد اقسام موجود تھیں۔ لوبیا اور پھلیاں ان میں پیش پیش تھے۔ اور اس کے بعد طرح طرح کے کھانوں میں ہارس بینز، بھنڈی توری، لوبیہ، دال، چنا اور مٹر اہمیت رکھتے تھے۔ روغنِ زیتون میں پکائے جانے والے کھانوں کو دستر خوانوں کی زینت بنایا جاتا تھا۔


    ایک وسیع پیمانے کا موضوع ہونے والے عثمانی پکوانوں میں میدے سے تیار کردہ کھانوں کو بھی خاصی اہمیت حاصل تھی۔ پیٹیز اور میدے سے تیار کردہ مٹھائیاں اسی زمرے میں آتی ہیں۔ پیٹیز گرما گرم کھائے جاتے ہیں۔ جن کو اوون میں یا پھر فرائی پین میں پکایا جاتا ہے، میں قیمہ، پنیر کی مختلف اقسام اور پالک استعمال کی جاتی ہے۔ یہ خاصکر افطاری میں نمایاں طعام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قدیم دور میں ان کی تیاری کے لیے گھروں میں میدہ گُندھتے ہوئے چکلے بیلنے پر بڑی بڑی روٹیوں کی شکل میں اسے ڈھالا جاتا تھا، اور گھر کے اند ر ہی بنائے گئے تندور میں انہیں پکایا جاتا تھا۔ عثمانی پکوانوں میں رولز پٹیز کو خاصا پسند کیا جاتا تھا اور ان میں کدو کش کرتے ہوئے پنیر کو بھرا جاتا تھا اور پھر کڑاہی میں تلا جاتا تھا۔


    عام طور پر پنیر، پالک، قیمے وغیرہ سے تیار کردہ پیٹیز جن کو ترکی زبان میں بوریک کہا جاتا ہے کو ایک کھانے کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ لسی پیش کی جاتی تھی۔ ہوشاپ یعنی کومپوستو رمضان المبارک کے دستر خوانوں کا لازمی عنصر تھا۔ اور پیٹیز کے ہمراہ کومپوستو کو بھی پیش کیا جاتا تھا۔


    اب ہم عثمانی کھانوں کے ایک اہم جزو مٹھائیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ میدے، دودہ اور پھلوں سے تیار کردہ میٹھے ہیں۔ بکلاوا نامی مٹھائی کو خاص مقام حاصل تھا۔اس مٹھائی کا بنیادی سا مان گندھے ہوئے میدے کی بیلنے پر تیار کردہ باریک روٹی نما شکل، مکھن اور شہد تھے۔ علاوہ ازیں فندق ، مونگ پھلی، پستہ یا پھر اخروٹ اور دودھ کی بالائی بھی اس کی تیاری میں استعمال ہوتی تھی۔ اس طرز کی مٹھائی کو اوون میں پکایا جاتا تھا، اور بعض اوقات باریک روٹی کی ساٹھ تا ستر تہوں کو اوپر تلے ملاتے ہوئے بھی بکلاوا تیار کیا جاتا تھا۔


    دودہ سے تیار کی جانے والی مٹھائیوں میں سے بعض کھیر، فرنی، قذان دِبی، کشکول اور گلاچ وغیرہ ہیں۔ یہ میدے کی مٹھائیوں سے نسبتاً ہلکی ہوتی ہیں۔کشکول نامی مٹھائی کو عثمانی خصوصی ضیافتوں میں دستر خوانوں کی زینت بنایا جاتا تھا۔


    عثمانی دستر خوان ماہ رمضان میں مزید رنگ حاصل کرتے تھے۔ اور ان دستر خوانوں کی سرتاج گولاچ نامی مٹھائی تھی۔


    آج بھی اس مٹھائی کو خاص مقام حاصل ہے۔ خواتین عصر حاضر میں بھی خاصکر ماہ رمضان میں دستر خوانوں کو گولاچ مٹھائی سے ضرور سجاتی ہیں۔


    عثمانی کھانوں میں خاصی مقبول ایک دوسری مٹھائی آشورے ہے۔ اس مٹھائی کو آج بھی بڑا پسند کیا جاتا ہے۔ کہاوت کے مطابق طوفان نوح کے خاتمے پر کشتی پر سوار لوگوں کو بچھے کچھے اناج کو ملاتے ہوئے ایک میٹھا پیش کیا گیا۔ اور اس کے ساتھ طوفان سے بچنے کی خوشی منائی گئی۔


    قدیم دور میں دعائیں پڑھتے ہوئے دیگوں میں اس مٹھائی کو پکایا جاتا ہے۔ اور بعد میں اس کو ہمسائیوں میں بانٹا جاتا تھا۔


    ایک دوسرا خاص میٹھا حلوہ ہے۔ اس میٹھے کا سامان آٹا یا پھر سوجی ، چینی، تیل، دودہ اور بالائی ہے۔ حلوے کو پیدائش ، موت، حج سے واپسی، بچوں کےا سکول شروع کرنے پر، نیا مکان خریدنے پر، بارش کی دعاؤں وغیرہ کے موقع پر کھایا جاتا تھا۔ اور یہ عثمانی گھروں میں اکثر پکایا جاتا تھا۔


    اس میٹھے کی ترکیب تیاری کو آئندہ کی قسطوں میں پیش کیا جائیگا۔


    ترکوں میں 11 مہینوں کے سرتاج کہہ کر یاد کیے جانے والے ماہ رمضان میں کئی منفرد رسومات ادا کی جاتی تھیں۔ان رسومات میں دستر خوانوں سے متعلق بعض تفصیلات پیش کرتے ہوئے آپ سے اجازت طلب کریں گے۔


    رمضان میں سحری اور افطاری کے دستر خوان کا بڑے شوق سے اہتمام کیا جاتا تھا۔ ماضی میں قصبوں اور شہروں میں افطاری کے وقت توپ کا گولہ پھینکا جاتا تھا۔ اور روزہ دار اس کی آواز کو سنتے ہوئے افطاری کرتے تھے۔ روزہ زیتون یا پھر چند گھونٹ پانی نوش کرتے ہوئے کھولا جاتا تھا۔ سحری کے وقت پیاس نہ لگانے والے اور دن بھر بھوک محسوس نہ کروانے والے کھانوں کو ترجیح دی جاتی تھی۔ آج بھی یہی عمل جاری ہے۔ چاول ، میکرونیز اور پیٹیز سحری کے دستر خوانوں میں ضرور شامل ہوتے تھے۔ان کے ساتھ لسی پیش کی جاتی تھی۔ ہوشاپ یعنی کومپوستو رمضان المبارک کے دستر خوانوں کا لازمی عنصر ہے۔اور پیٹیز کے ہمراہ کومپوستو پیش کیا جاتا ہے


    sc7uxe - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)


    2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)
    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


  3. #3
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)

    2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)

    عثمانی کھانے سالما کی ترکیب تیاری


    2i0xczs - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)



    عثمانی محل کے باورچی خانوں میں پکائے جانے والے اس کھانے کا نام سالما ہے۔ اس کھانے کے ضروری سامان کو نوٹ فرما لیجیے



    بکرے کی ران کا گوشت 600 گرام، گھی 4 چمچ، ڈیڑہ سو گرام ابلے ہوئے چنے، سافران، باریک کاٹے ہوئے بادام، ایک مٹھی خشک پودینہ، ایک پوتھی لہسن، ایک چمچ سرکہ، 150 گرام میدہ، نمک حسبِِ ذائقہ۔۔ کھانے کے اجزا دوبارہ نوٹ فرما لیجیے۔


    بکرے کی ران کا گوشت 600 گرام، گھی 4 چمچ، ڈیڑہ سو گرام ابلے ہوئے چنے، سافران، باریک کاٹے ہوئے بادام، ایک مٹھی خشک پودینہ، ایک پوتھی لہسن، ایک چمچ سرکہ، 150 گرام میدہ، نمک حسبِِ ذائقہ۔۔


    آج ہم آپ کو عثمانی شاہی پکوان کے خصوصی کھانوں میں ایک سالما کی ترکیب تیاری سے آگاہی کروا رہیں ہیں۔


    گوشت کو چھوٹے چھوٹ ٹکروں میں کاٹتے ہوئے انہیں گرم زیتون کے تیل میں بھون لیں۔ 400 ملی گرام گرم پانی شامل کریں اور پکنے کے لیے چھوڑ دیں۔ اسی دوران پسہ ہوا لہسن، خشک پودینہ، سرکہ اور شہد کو ملاتے ہوئے اچھی طرح معجون کی شکل میں ملا لیں۔ گوشت پکنے کے بعد اس میں چنے ڈال لیں ۔سافران کو گوشت کی یخنی میں چھڑکتے ہوئے بادام بھی شامل کر لیں۔


    گرم پانی اور نمک ڈالتے ہوئے میدے کو گوندہ لیں۔اس کو ایک گیلے کپڑے سے ڈھانپتے ہوئے 20 منٹ تک انتطار کریں۔


    بعد میں گوندھے ہوئے آٹے کو چکلے بیلنے پر روٹی کی شکل دیں۔ ایک ڈونگے میں گرم پانی کو تیار رکھیں۔ فندق کے سائز میں آٹے کی گولیاں بناتے ہوئے گرم پانی میں ڈبو دیں اور کچھ دیر بعد نکالتے ہوئے پتیلی میں ڈالتے جائیں۔ اس بات کی تاکید ہے کہ یہ عمل تیزی سے ہونا چاہیے۔


    بعد میں انہیں پکنے کے لیے چھور دیں۔ ضرورت پڑنے پر گرم پانی ڈال لیں۔ پکنے کے بعد کھانے کے نمک کو چیک کریں ، شہد، سرکہ ، خشک پودینہ اور لہسن کے آمیزے کو شامل کرتے ہوئے پتیلی کو آگ سے اُتار لیں۔خشک پودینہ اوپر سے چھڑکتے ہوئے کچھ مدت کے لیے چھوڑ دیں۔

    اوپر ہم نے جس کھانے کی ترکیب پیش کی ہے۔ اس کا نام چمچ ہلانے کے عمل سے اخذ کیا گیا ہے۔ چونکہ میدے کی گولیوں کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈالا جاتا ہے۔ استنبول کے کھانوں میں سالما کا نام آج دو صمامی کے کھانے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اناطولیہ بھر میں اسی نام سے منسوب کئی دوسرے کھانوں کا بھی وجود ملتا ہے۔


    سلطان مہمت دوئم نے 16 جون سن 1469 کی صبح دہی والے سالما کو کھایا تھا۔ سن 1539 کی صبھ پاشا حضرات اور علماء کو دی گئی ضیافتوں میں پیش کردہ سالما کے لیے ایک کلو گرام میدے کے لیے 750 گرام شہد ڈالی جاتی تھی۔ جو کہ اہم ایام میں مٹھاس کی مقدار میں اضافے کا پتہ دیتی ہے۔ گندم کا سالما کھانا سولہویں صدی میں توپ کاپی محل میں سردیوں کے موسم میں تیار کیا جاتا تھا۔

    2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)

    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


  4. #4
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)

    2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)
    عثمانی پکوان مفدونے
    عثمانی شاہی پکوانوں میں سے آج آپ کو مفدونے نامی کھانے کے بارے میں معلومات کو پیش کریں گے۔ عربی زبان میں مفدونے کا مطلب دبا ہوا ہے۔


    اس کی ترکیبِ تیاری سے مذکورہ کھانے کے موسم گرما میں توپ کاپی محل میں بھرے ہوئے بینگن ہونے کا پتہ چلتا ہے۔


    شیروانی نے اس کا عرب زبان میں بھی ترجمعہ کرتے ہوئے اسے کتابی شکل دی۔ سن 1764 سے تعلق رکھنے والے کھانوں کے رسالے میں گوشت اور مصالحے کے بغیر اور محض بینگن والے کھانے کے طور پر اس کا ذکر آیا ہے۔


    سن 1844 میں ترکی زبان میں پہلی بار چھاپی گئی کتاب میں اس کا نام مدکونے کے طور پر آیا ہے۔


    مدفونے کھانے کے لیے ضروری اجزاء نوٹ فرما لیجیے۔


    500 سو گرام بکرے کی ران کا گوشت، تیل کھانے کا چار چمچ، 250 گرام قیمہ، چائے کےتین چمچ دھنیہ پاؤڈر، دار چینی اڑھائی چمچ، 50 گرام ابلے ہوئے چنے، 4 بینگن، 3 عدد پیاز، زعفران، عرقِ گلاب اور نمک حسبِ ضرورت


    اب ہم مدفونے کھانے کی ترکیبِ تیاری کو پیش کرتے ہیں۔


    چھوٹے چھوٹے ٹکروں میں کاٹے گئے اور نمک لگائے گئے گوشت کو تیل میں بھونیں۔ اور 200 ملی گرام ، گرم پانی کے ساتھ ایک چمچ دار چینی، چائے کے دو چمچ دھنیہ پوڈر ڈالتے ہوئے پکائیں۔ قیمے میں پسے ہوئے چنے، نصف چمچ، دھنیہ پوڈور، نمک ڈالتے ہوئے تھوڑے سے تیل میں بھونیں۔بینگن کے اندرونی حصوں کا خالی کرتے ہوئے چند منٹوں تک پانی میں چھوڑ دیں۔ اور تیار کردہ آمیزے کو اس میں بھر دیں۔


    ایک چمچ دھنیہ ، ایک چمچ دار چینی، اور زعفران کو گوشت کی یخنی میں پتلا کرنے کے بعد پتیلی میں ڈال لیں۔اور پکنے کے لیے چھوڑ دیں، پکنے کے قریب عرق گلاب پلیٹ میں ڈالنے کے بعد پتیلی کے پیندے میں موجود گوشت کو بینگنوں پر بکھیر دیں، اور تناول کے لیے پیش کرن سے قبل کچھ دیر تک اسی طرح چھوڑ دیں
    2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)
    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


  5. #5
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)

    2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)
    شہد کا حلوہ


    15 ویں اور سولہویں صدی سے تعلق رکھنے والی قدیم دستاویز میں 20 کے لگ بھگ حلووں کاذکر آیا ہے۔ جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ عثمانیوں میں حلوے کی کس قدر اقسام پائی جاتی تھیں۔حلوے کو پتیلی کی طرح فرائی پین میں بھی پکایا جا سکتا ہے۔ تا ہم ان کے بنیادی اجزاء میں زیادہ فرق نہیں پایا جاتا۔ یہ میدہ یا پھر نشاستہ ، چینی یا پھر شہد ، بادام ، پستہ، مونگ پھلی اور تل ہیں۔ آج کی اس قسط میں ہم جس حلوے کی ترکیب تیاری کو پیش کریں گے کو سن 1539 کے قدیم ریکارڈز میں زرد حلوے کے نام سے یاد کیا گیا۔ شہد سے تیار کیے جانے والے حلوے کے ضروری اجزاء نوٹ فرما لیجیے۔


    150 گرام مکھن، 125 گرام میدا، ایک لٹر پانی، عرقِ گلاب کھانے کا ایک چمچ، تھوڑا سا زعفران، 225 گرام شہد، آدھی مٹھی خشخاش، 50 گرام مونگ پھلی چھلکا اُتری ہوئی اور چینی۔






    تو آئیے اب عثمانی پکوانوں کے خاص میٹھوں میں سے ایک شہد کے حلوے کی ترکیبِ تیاری کو پیش کرتے ہیں۔ اسٹیل یا پھر تانبے کی پتیلی میں مکھن کو گرم کریں۔ اس میں میدہ ڈالتے ہوئے چمچ ہلاتے رہیں۔اس میں پانی اور پہلے سے گرم کی گئی شہد کو اس میں شامل کر دیں۔ عرقِ گلاب میں زعفران شامل کریں۔دھیمی آنچ پر لکڑی کے کفگیر کے ساتھ مسلسل ہلاتے رہیں۔اس عمل سے آٹا گھاڑا ہوتا جائیگا۔ کافی سخت پڑنے پر ایک چمچ کے ساتھ گوندیں۔اور اس کے بعد پسی مونگ پھلی اور خشخاش ڈالیں۔ آٹا سخت پڑنے پر چپکنے کی حالت شروع کر دیتا ہے۔ اسوقت آگ سے اُتارتے ہوئے ایک گہرے برتن میں تہوں کی صورت میں ڈالیں۔ اور ہر تہہ کے درمیان چینی پوڈر اور مونگ پھلی چھڑکیں۔ ٹھنڈا پڑنے پر اس کو ٹکروں کی شکل میں کاٹ لیں۔ لیجیے آپ کا حلوہ تیار ہے۔ آپ اس حلوے کو کافی عرصے تک محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

    2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)
    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


  6. #6
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)

    2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)
    ہم زروا نامی شاہی کھانے کی ترکیب تیاری کو پیش کر رہے ہیں۔
    زروا وقت کے ساتھ ساتھ کئی تبدیلیاں آنے والے کھانوں میں سے ایک ہے۔ اس کا ابتدائی نام ِزیریبا تھا۔ جس کا فارسی زبان میں مفہوم زیرے والا کھانا تھا۔ در اصل بغدادی کے زربائے نام کے ساتھ پیش کردہ کھانے کی ترکیب میں زیرہ کا ذکر نہ آیا تھا۔ بعد ازاں شروانی نے زروا نام کے ساتھ مزید دو کھانوں کی ترکیب کو پیش کیا۔ اور اس دور کے عثمانی ذوق کے مطابق پھلوں اور شکر کو ملاتے ہوئے ایک کھانے کو پیش کیا۔ یہ تبدیلی شروانی کی تحریروں سے زیادہ قدیم نہیں۔ چونکہ 15 ویں صدی کے اوائل تک قلمبند کردہ ایک عثمانی علم طب کی کتاب میں زربا یخنی کی ترکیبِ تیاری بغدادی کی ترکیب سے کافی حد تک مشابہت رکھتی ہے۔


    سن 1539 کی ضیافت نامی کتاب میں زروا اور زربا یخنی کا دو مختلف کھانوں کے طور پر ذکر آیا ہے۔ اب ہم جس کھانے کی ترکیب تیاری کو پیش کر رہے ہیںوہ 15 ویں اور 16 ویں صدی کا مقبول ترین کھانا ہے۔ اس کے مطابق زیرےباق نام کے ساتھ جمعے کی شام ، رمضان اور دونوں عیدوں کے تہوار کی شام ، استنبول میں فاتح اور سلیمانیے کمپلیکس اور ایدرنے میں سلطان بیاذت دوئم کمپلیکس میں پیش کیا گیا۔


    محل کی دستاویز میں اس کا کہیں بھی ذکر نہیں آیا۔سن 1890 کی اشاعت ریڈ ہاؤس ڈکشنری کے مطابق زروا ۔ زعفران اور لہسن کے ساتھ تیار کردہ بکرے کا کھانا ہے۔ ہم یہاں پر شروانی کی طرف سے بیان کردہ دو کھانوں میں سے ایک کو پیش کریں گے۔
    2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)
    Last edited by *jamshed*; 21-11-2013 at 04:55 PM.
    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


  7. #7
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)

    2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)
    زروا نامی شاہی کھانا






    زروا کھانے کے لازمی اجزا کو نوٹ فرما لیجیے۔


    500 گرام بکرے کی ران کا گوشت ، دو سو گرام بادام، انگوروں کا یک چھوٹے سائز کا گچھ، 200 سو گرام شہد، نمک زعفران، 5 کجھوریں، 10 عدد خشک خوبانی، 2 عدد انجیر، کھانے کا ڈیڑہ چمچ نشاستہ، 3 عدد آلو بخارے، ابالی گئی خشخاش


    ترکیب تیاری نوٹ فرما لیجیے۔


    گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر لیں۔تین چمچ پانی شامل کرتے ہوئے پتیلی کو آگ پر چڑھا دیں۔گوشت کا رنگ بدلنے پر ایک چائے کی پیالی کے مترادف پانی شامل کریں۔ پکنے کے بعد نمک ڈال لیں۔ گرم کی گئی شہد، چھلکا اُتارے گئے بادام، باریک باریک کاٹی گئی خوبانی، بیج نکالے گئے انگور، باریک کاٹی گئی کھجوروں، چھلکا اتارے گئے آلو بخارے اور زعفران نشاستے کے ساتھ گوشت میں شامل کریں۔ اور شوربے کے گھاڑا ہونے تک کفگیر ہلاتے رہیں۔آگ سے اتاریں اور اس پر خشخاژ چھڑک لیں، لیجیے آپ کا کھانا تیار ہے۔

    2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)2z3s11g - ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)
    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


  8. #8
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Karachi, Pakistan
    Posts
    7,416
    Mentioned
    507 Post(s)
    Tagged
    5438 Thread(s)
    Thanked
    359
    Rep Power
    874041

    Default Re: ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)

    Assaalaam-O-alaikum Jamshed

    bohat hi khoobsurat aur informative thread post ki hay aap nay, maza aagaya paRh kar...


    Main Istanbul, izmir, aur Antaliya gaya jaa chuka hoon, wahan kay pakwaan waisay hi jaisay aap nay paish ki hain, albatta ab uss main mazeed rang jaisay 'Doner', 'Turkish Shuwarma' waghaira add ho gayay hain jo 'fast food' khaanay waaloon main bohat maqbool hain.

    Sultan Mehmat ka naam MOHAMMAD tha, Turkish issay Mehmat keh kar pronounce kartay hain.

    anyways, thank you for the info, keeping adding to our knowledge, khush rahyeh

  9. #9
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)

    Quote Originally Posted by thefire1 View Post
    Assaalaam-O-alaikum Jamshed

    bohat hi khoobsurat aur informative thread post ki hay aap nay, maza aagaya paRh kar...


    Main Istanbul, izmir, aur Antaliya gaya jaa chuka hoon, wahan kay pakwaan waisay hi jaisay aap nay paish ki hain, albatta ab uss main mazeed rang jaisay 'Doner', 'Turkish Shuwarma' waghaira add ho gayay hain jo 'fast food' khaanay waaloon main bohat maqbool hain.

    Sultan Mehmat ka naam MOHAMMAD tha, Turkish issay Mehmat keh kar pronounce kartay hain.

    anyways, thank you for the info, keeping adding to our knowledge, khush rahyeh
    Jaan kar acha laga k ap ne Turkey dekha hua hai


    39) Basanti in kuton k samne maat nachna
    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


  10. #10
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Karachi, Pakistan
    Posts
    7,416
    Mentioned
    507 Post(s)
    Tagged
    5438 Thread(s)
    Thanked
    359
    Rep Power
    874041

    Default Re: ترکی تاریخ اور علاقائی کھانے (Dabbang Muqaabla 3)

    jee meray bhai mujhay TRAVELLING ka bohat shouq hay aur ALLAH kay karam say duniya kay 25 mumalik ki sair kar chuka hoon, jee haay Turkey bhi dekha hay ALHAMDLLILAH

    aap ka poora topic paRh ka uss ki tareef ki hay yaqeen manyeh mera.

    Quote Originally Posted by *jamshed* View Post


    Jaan kar acha laga k ap ne Turkey dekha hua hai


    39) Basanti in kuton k samne maat nachna

Page 1 of 2 12 LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •