Results 1 to 2 of 2

Thread: (Daband Muqaabla 3) Ishtihaye Lazawal

  1. #1
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default (Daband Muqaabla 3) Ishtihaye Lazawal

    755007eo8cmgyzh1 - (Daband Muqaabla 3) Ishtihaye Lazawal755007eo8cmgyzh1 - (Daband Muqaabla 3) Ishtihaye Lazawal755007eo8cmgyzh1 - (Daband Muqaabla 3) Ishtihaye Lazawal755007eo8cmgyzh1 - (Daband Muqaabla 3) Ishtihaye Lazawal

    1330939jc5x43iznj - (Daband Muqaabla 3) Ishtihaye Lazawalsignature 4 - (Daband Muqaabla 3) Ishtihaye Lazawal800843xg1w6hb02i - (Daband Muqaabla 3) Ishtihaye Lazawal
    اشتہائے لازوال


    رشتہ لے لو۔۔رشتہ لے لو۔۔ڈاکٹر۔۔انجینیر۔۔افسر۔ ۔ہر قسم کا بہترین رشتہ لے لو۔۔۔''
    ''او رشتے والے۔۔۔ذرا کوئی اچھا سا رشتہ دکھانا۔۔''
    ''جی بی بی جی۔۔۔کہیے کیسے رشتے دکھاؤں ۔۔ایک سے بڑھ ایک رشتے ملیں گے آپکو میری دکان میں۔۔''
    ''بھئیا وہ والا رشتہ دکھانا ذرا۔۔۔ہاں ہاں اس ڈاکٹر کے بغل والا رشتہ۔۔۔''
    ''بھئی واہ ۔۔بی بی جی۔۔بڑی پارکھی نظر ہے آپکی۔۔۔کیا خوب رشتہ ڈھونڈا ہے۔۔یہ لیجیے بالکل نیا ترو تازہ رشتہ ہے ۔۔ نیا نیا آیا ہے ابھی ماررکیٹ میں۔۔۔اپنی قسم کا ایک ہی پیس ہے یہ''
    ''بھئیا خراب تو نہیں ہوگا جلدی نہ۔۔۔ٹکاؤ تو ہوگا نہ؟؟؟ ''
    ''کیسی باتیں کرتی ہیں بی بی جی۔۔۔ہماری یہاں کے رشتے جلدی خراب نہیں ہوتے۔۔۔سالہا سال چلتے ہیں۔۔''
    ''ارے بھئیا۔۔ابھی گزشتہ برس آپکے ہی یہاں سے میری پڑوسن رشتہ لے کر گئی تھیں۔۔ایک سال بھی نہ ٹکا وہ رشتہ۔۔''
    ''ضرور کم دام کا رشتہ لے گئی ہونگی۔۔۔اب سستی چیزوں کی گارنٹی کیا وارنٹی بھی نہیں ملتی۔۔''
    ''ارے نہیں بھئیا۔۔اچھا خاصہ مہنگا رشتہ تھا۔۔مگر ایک استعمال میں ہی رنگ اتر گیا اسکا سارا۔۔''
    ''دیکھیے بی بی جی۔۔۔اب آج کے ماڈرن زمانے میں لائف ٹائم گارنٹی کا مطالبہ نہ کریں۔۔ ''
    ''اچھا بھئیا۔۔۔اس رشتے کا دام اور دیگر تفصیل تو بتائیے؟؟؟ ''
    ''جی بی بی جی بس بیس لاکھ روپے دیگر لوازمات کے علاوہ۔۔''
    ''اوہ۔۔یہ تو بہت مہنگا ہے۔۔ذرا کچھ کم کرکے لگا لیجیے۔۔''
    ''دیکھیے بی بی جی۔۔اتنے بہترین رشتے میں مول جول نہ کریں۔۔ایک دام لگےگا رشتے کا۔۔لینا ہے تو لیجیے ورنہ چھوڑ دیجیے۔۔''
    ''اچھا بھئیا۔۔ذرا اس سے کم اور مناسب دام میں کوئی دوسرا اچھا رشتہ دکھاؤ۔۔''
    ''جی۔۔یہ دیکھیے محترمہ۔۔آپکے دام کے مطابق۔۔''
    ''ارے ارے۔۔۔یہ کیسے رشتے دکھا رہے ہو؟؟ ۔۔۔یہ تو۔۔۔''
    ''ارے بی بی جی۔۔اب اتنے کم دام میں تو ۔۔۔''
    ''صوبی۔۔صوبی۔۔کیا کر رہی ہو۔۔جلدی نیچے آؤ۔۔ناشتہ کرو۔۔'' صوبی کی اما اسے آوازیں دے رہی تھیں۔۔
    ''آئی اما۔۔۔بس دس منٹ۔۔۔۔ ایک پیراگراف پورا کرکے آتی ہوں۔۔''صوبی اپنے کمرے میں بیٹھی اپنا افسانہ تحریر کرنے میں مشغول تھی۔
    ''ارے ایک منٹ بھی نہیں۔۔۔جب دیکھو قصے کہانیوں میں الجھی رہتی ہے یہ لڑکی۔۔کوئی ہوش نہیں رہتا اسے۔۔'' اما کی خفگی میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔صوبی کی قلم برق سی تیزی سے کاغذ پر رقص کرنے لگیں۔اسے ایک ڈائیجیسٹ میں جلد ازجلد یہ افسانہ مکمل کرکے ارسال کرنا تھا۔افسانہ کیا تھا گویا اسکی اپنی ہی آپ بیتی کا ترجمان تھا۔وہ اپنی حیات کے کئی ابواب مکمل کر چکی تھی۔وقت اسکی عمر کے اوراق کو تیزی سے پلٹتا جا رہا تھا۔گزرتے وقت کے ساتھ اسکے والدین کی مشکلوں اور ذہنی اضطراب میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔صوبی شکل و شباہت کے اعتبار سے بہت حسین و جمیل کوئی پری پیکر تو نہ تھی مگر خالقِ حسن نے اتنا حسن اسکی مٹی میں ضرور گوندھ دیا تھا کہ کوئی بھی فہیم شخص اسکے رشتے سے انکار کا کوئی قابلِ قبول جواز پیش نہیں کر سکتا تھا۔اس کے علاوہ۔۔شوخ طبیعت۔۔مزاج میں نزاکت۔۔لہجوں میں لطافت۔۔گفتگو میں ذہانت۔۔دین سے رغبت ۔۔اخلاق میں حرارت ۔۔۔اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ یہ سب صفات بھی تو بدرجہ اتم موجود تھے اس میں۔۔مگر پھر کیا سبب تھا کہ اسکی عمر کے اوراق بےعبارت خالی اڑتے جا رہے تھے۔
    صوبی کے والد الیاس اختر بہت ہی مہذب اور دیندار شخصیت کے مالک تھے۔تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کی بہترین قابلِ تحسین پرورش کرکےربِ ذوالجلال کی رضا کا حقدار قرار پانے کی بھرپور سعی کی تھی انہوں نے۔صوبی سے بڑی دونوں بہنیں مناسب عمر میں شریف اور دیندار گھر انے میں بنا جہیز سنت طریقے سے بیاہ دی گئی تھیں۔صوبی تمام بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی مگر شاید کاتبِ تقدیر نے اسکی قسمت میں انتطار کی لکیر بہت طویل کھینچ دی تھی۔وہ انتظار جو ہر روایتی مشرقی لڑکی اپنے ممکنہ شریکِ حیات کی آمد میں گزرتی سانس کے ہمراہ جیتی ہے۔صوبی نے جب سے ہوش اور بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھا تھا تب سے ہی اسکے تصور کی دیواروں پر ہر روز ایک نیا رنگ چڑھتا کہ اسکا شریکِ زیست ایسا ہوگا۔یا پھر ویسا ہوگا۔۔۔۔رفتہ رفتہ اسکے تصور کی دیواریں مختلف رنگوں سے آراستہ ہوچکی تھیں۔اسکے فصیلِ خیال پر بہتا ہر رنگ اسکے خوابوں میں ضم ہو کر ایک من موہنی سی شکل اختیار کر لیتا اور اسکی منتظر اور بیقرار آنکھیں اس مصنوعی اور ناپائیدار شکل کے سراب میں محو ہوکر آرزوؤں کے کتنے غنچے اپنے دل کے کمرے میں سجانے لگی تھیں۔اس دوران اسکے درِ حیات پر کتنی دستکیں ابھریں ۔۔وہ ہر بار پُر امید نگاہوں سے دروازہ کھولتی مگر وہ منموہنی سی صورت تو کیا اسکا عکس بھی اسکی چوکھٹ پر نہیں اترتا تھا۔۔بس ایک خالی کاسہ اسے اپنی چوکھٹ پر رکھا ہوا دکھتا۔۔وہ پہلے اپنے خوابوں کے اس عکس کو یہاں وہاں نگاہیں دوڑا کر تلاشتی پھر اس خالی کاسے کو دیکھ تذبذب میں پڑ جاتی۔پھر کچھ لمحہ سوچتی اور اسے ربِ کریم کی رضا جان کر اپنا ہاتھ اس کاسے میں ڈال دیتی۔۔مگر جانے کون نہایت بےدردی سے اسکا ہاتھ اس کاسے سے جھٹک دیتا جیسے اسکا ہاتھ اس کاسے کے لیے بےمول ہو۔مگر اسکی ماں اس کاسے کا مول شاید جانتی تھی۔وہ اپنی بیٹی کے معصوم خوابوں سے باخبر تھی مگر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اسکی معصوم بیٹی دنیا کے بےرحم رواجوں اور مکر انگیز اصولوں سے ناآشنا تھی کہ نادان یہ بھی نہیں جانتی کہ آج کی دنیا میں خوابوں کی بھی قیمت ہوتی ہے۔اسکی ماں اسکے والد سے چھپا کر ایک بھری ہوئی تھیلی اس کاسے میں رکھ دیتی۔مگر کاسہ پھر بھی اپنی پہلی صورت پر قائم خالی رہتا۔وہ مزید تھیلیاں رکھتی جاتی مگر کاسہ پھر بھی نہ بھرتا۔یہاں تک کہ اسکی ماں کے ہاتھ شرمندہ ہوجاتے مگر کاسہ اپنا منھ کھولے تکتا رہتا۔بالاآخر وہ کاسہ کسی دوسرے در وازے کی جانب رُخ کر جاتا اور اسکی ماں اشکبار آنکھوں سے اپنی بیٹی کے رُخ پر بڑھتی عمر کی شکن دیکھتی اور اپنے تہی دامن پر ماتم کرنے بیٹھ جاتی۔
    الیاس اختر شرعی احکام اور اپنے اصولوں کے پابند انسان تھے۔بقول صوبی کی والدہ اور اقرباء انکے یہی اصول صوبی کے تابندہ مستقبل کی راہ میں مزاحم تھے۔صوبی کے لیے کئی رشتے آتے اور اکژ و بیشتر معاشرے میں پھیلی جہیز نامی مہلک وبا کی چپیٹ میں آکر دم توڑ دیتے۔صوبی کی ماں ہمیشہ اپنی بیٹی کی بڑھتی عمر اور اس باعث مستقبل میں ہونے والی ممکنہ مصائب سے انھیں خبردار کرتی رہتی۔مگر الیاس اختر جہیز سے انحراف کیے اپنے اصولوں پر چٹان کی مانند ثابت رہے۔
    وقتِ رفتہ کی زد میں صوبی کی عمر کے ہمراہ اسکے خوابوں کا محل بھی منہدم ہو نے لگا تھا۔اسکے تصور کی رنگین دیوار پھیکی پڑنے لگی تھی۔دل کے گلزار کمرے میں جگہہ جگہہ یاس کی پھپھوندیاں آشیانہ بنا رہی تھیں۔ مگر اسکی اذیت ناک ذلت کا سلسلہ اب تک قائم تھا۔آئے دن اسے کسی گڑیا کی مانند سجا دیا جاتا۔۔اس کھلونے کی مثل گڑیا کو چابی دی جاتی کہ ۔۔گڑیا ذرا بول کے دکھاؤ۔۔گڑیا بولنے لگتی۔۔پھر چابی دی جاتی۔گڑیا ذرا کھڑی ہو جاؤ۔۔گڑیا کھڑی ہو جاتی۔۔پھر چابی دیتی۔۔گڑیا چل کے دکھاؤ۔۔گڑیا چلنے لگتی۔۔چابی دینا بند ہوتا۔۔گڑیا پھر بت بن جاتی۔۔۔کسی مجسمے کی مانند اسکی نقاب کشائی کی جاتی۔جانے کتنی ہی عمیق بین نقاد نگاہیں اسکے سراپا کا تفصیلی جائزہ لیتیں۔بےشمار گھورتی آنکھوں کی تمازت اسکے وجود کو جھلسانے لگتی ۔۔ان آنکھوں کی سیاہی اسکے چہرے پر نقش ہوگئیں تھیں کہ جب تنہائی میں وہ اشکوں سے اپنا چہرہ دھلتی تو ساری کرچیاں ساری سیاہی اسکے رُخ سے پھسلتی ہوئی اسکی روح پر جم جاتیں۔
    صوبی آج ناشتے کی میز پر بیٹھی تھی کہ اسے مہمان خانے سے کچھ الگ قسم کی گفتگو سنائی دی۔اس نے دیکھا کہ اما مہمان خانے کے دروازے سے کان لگائے کھڑی ہیں اور انکے چہرے پر مختلف اور متفرق قسم کے تائثرات رونما ہو رہے ہیں۔کبھی انکے لبوں پر ہلالی تبسم رقصاں ہوتا تو کبھی ان کے چہرے کی جھریاں مزیدسکڑ جاتیں۔صوبی ہمہ تن گوش ہو کر مہمان خانے میں ہونے والےسارے مکالمے اپنی قوتِ حافظہ کے سپرد کرنے لگی۔
    ''دیکھیے الیاس صاحب۔۔اب چت بھی میری اور پٹ بھی میری والی باتیں بھول جائیے۔۔لڑکا اچھے گھرانے کا ہے۔۔اچھا کماتا ہے۔۔۔اب زیادہ سوچیے مت۔۔ایسے رشتے روز روز نہیں ملتے۔۔۔اب اتنا سازو سامان دینا تو شگن ہوتا ہے۔۔''رشتہ لگانے والا جہیز کا مطالبہ نہ ہونے کے باعث قیمتی سازو سامان دینے کا مشورہ دے رہا تھا۔۔بلکہ مشورہ کیا لوازمات کے نام پرقیمت نہ لینے کی قیمت وصول کر رہا تھا۔سوداگری کا نیا اصول رائج ہو چلا تھا۔
    ''ہاں بھائی۔۔ٹھیک ہے۔۔مگر اتنے سارے سازوسامان کا انتظام میں ریٹائیرڈ پروفیسر اپنی پینشن سے کیسے کرونگا۔۔اگر کچھ رعایت ہو جاتی تو۔۔۔۔''الیاس اختر کی غیرت مند چشم میں آج بےبسی کی ہلکی سی نمی جھلکنے لگی تھی۔۔
    ''جناب۔۔آپ رشتہ کرنے چلے ہیں بیٹی کا۔۔کوئی سبزی بازار میں آلو ٹماٹر نہیں خرید رہے۔۔جو بھاؤ میں مول جول کر رہے ہیں۔۔۔۔ورنہ اس سے بھی بہتر رشتے ہیں میرے پاس مگر آپ انکے معیار پر نہیں اتر پائینگے۔۔'' رشتہ لگانے والے نے بالواسطہ انکے التماس کی نفی کر دی۔
    بالاآخر صوبی کا رشتہ ایک بہت ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانے میں قرار پا گیا اور الیاس اختر پوری طرح سے مطمئن تھے اس رشتے سے کیونکہ لڑکے والوں کی جانب سے کوئی ناروا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا۔اسکا نام عاصم اقبال تھا۔۔ اسکے اندازِ تکلم میں بلا کا سحر تھا لہجوں میں شیرینی اور لفظوں میں روح کو موہ لینے والا حسن تھا جو صوبی کو مسحور کیے رہتا ۔۔صوبی کے تصور کی دیواروں پر پھر سے نئےرنگ ابھرنے لگے تھے۔۔دہلیزِ مرگ پر بیٹھی آرزوئیں پھر سے بزم زیست میں لوٹ آئی تھیں ۔۔صوبی کو عاصم کے روپ میں وہ من موہنی شکل مل گئی تھی جس کےدید ار کے خیال میں وہ شب و روز محو رہتی۔اسکی آنکھوں میں ہر لمحہ رجائیت کا چاند کھلا رہتا۔صوبی کے تعبیرِ خواب کی منزل تک بس ایک ہفتے کی مسافت باقی تھی۔عزیزو اقارب کو مدعو کیا جا چکا تھا کہ ایک دن صوبی کے پڑوس کی ریحانہ پھوپھی اسکے گھر تشریف لائیں۔۔اور آتے ہی صوبی کی اما سے مخاطب ہوتے ہوئے کہنے لگیں۔۔
    ''صوبی کی اما !!! یہ میں کیا سن رہی ہوں۔۔لڑکا میرے میکے کے علاقے کا ہے اور تم نے ہم سے مشورہ لینا بھی مناسب نہ سمجھا۔۔تمہاری بیٹی میں کوئی نقص آگیا ہے کیا۔۔۔یا اسکا بوجھ اتنا بڑھ گیا ہے کہ تم اسے کسی بھی کوڑے دان میں ڈال کر فرصت پانا چاہتی ہو۔۔''
    ''توبہ توبہ۔۔۔ریحانہ بی۔۔کیسی باتیں کر رہی ہیں۔۔اتنے شریف لوگ ہیں۔جہیز کا کوئی مطالبہ نہیں کیا ۔۔۔اور۔۔۔''
    ''ارے وہ موئے جہیز کس منھ سے مانگینگے۔۔۔ارے صوبی کی اما۔۔۔کس جہنم میں ڈھکیل رہی ہو اپنی بیٹی کو۔۔۔ایک تو وہ طلاق شدہ مرد ہے۔۔تیری بیٹی سے دوگنی عمر کا۔۔تاہم اس کی ایک چھوٹی بچی بھی ہے۔۔اسکی پہلی بیوی نے اس پر مقدمہ دائر کیا ہوا ہے۔۔۔''ریحانہ صوبی کی اما کی بات کاٹتی ہوئی ساری سچائی ایک سانس میں انڈیل گئی۔۔مگر سچ کیا تھا گویا زلزلہ تھا جس نے الیاس اختر کی عزت انکے غرور سب کو مسمار کر دیا۔صوبی کی معصوم امیدیں زندہ درگور ہوگئیں۔صوبی کی اما کے سارے ارمان ملبوں کی صورت اختیار کرگئے کہ شناخت بھی ممکن نہ ہوسکے۔۔۔پورے گھر میں کہرام مچ چکا تھا۔۔
    ''یہ کیسا مذاق کیا ہے آپ نے ؟؟ ہم نے آپ پر بھروسہ کرکے کوئی چھان بین نہیں کی۔۔بس لڑکے کی تصویر پر اکتفا کر لیا۔۔اور آپ نے ہم سے اتنا بڑا دھوکہ کیا۔۔؟؟ ۔۔ہم نے تو دیگر لوازمات کی شرائط بھی مان لی تھی۔۔۔پھر یہ دغا کیوں؟؟"الیاس اختر چیختے ہوئے رشتہ لگانے والے سے جواب طلب کر رہے تھے۔۔
    ''ارے الیاس صاحب۔۔اتنا جلال میں آنے کی ضرورت نہیں۔۔ہم نے کوئی دغا نہیں دیا۔۔۔اور کیسے سازو سامان اور لوازمات؟؟ ۔۔جناب اتنی واضح بات آپکو پہلے ہی سمجھنی چاہیے تھی کہ اتنے کم دام میں تو کوئی سیکنڈ ہینڈ یا ڈیفیکٹید پیس ہی ملے گا۔۔۔'' رشتے لگانے والے کے اس آخری جملے کا دھواں صوبی کے گھر کے پر فرد کی آنکھوں میں کئی دن تک چبھتا رہا۔
    پھر ایک دن ایک جانی پہچانی وہی پرانی آواز پھر سے صوبی کی سماعت کو مخاطب کرنے لگیں۔۔''رشتہ لے لو۔۔۔ رشتہ لے لو۔۔'' اور وہ سمجھ گئی کہ ذرا وقفے کے بعد پھر سے اسکی اذیت کے سفرکی ابتداء کا بگل بجنے لگا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔مگر آج صوبی کے قدم بےنیازی اور بےحسی کی زنجیر میں جکڑے ہوئے تھے سو ا س نے دروازہ نہیں کھولا۔مگر دروازا کھلا تو ضرور تھا اس بار بھی۔۔اس نے آہستہ سے دریچے سے جھانکاتو حسبِ توقع اسکی اما پھر بھری ہوئی تھیلیاں لیے کاسے کی جانب گامزن تھیں۔مگر ایک سایہ انکے تعاقب میں مزید بھری ہوئی تھیلیاں لیے اس کاسے کا میزبان بنا تھا۔یہ سایا اسکے والد الیاس اختر کا تھا۔جو نگاہیں جھکائے ہوئے کاسے میں تھیلیاں ڈالتے جا رہے تھے۔صوبی کی پتھرائی آنکھیں دریچے سے دیکھ رہی تھیں کہ ان تھیلیوں میں اسکے والد کے اصول،،انکا غرور ۔۔انکی غیرت بھری ہوئی تھی۔۔اسکے خوابوں کا نچوڑا ہوا لہو بھی تھا۔۔کچلی ہوئی اسکی عزت نفس بھی تھی۔۔۔ اپنے ہاتھوں میں قلم لیے وہ سوچنے لگی کہ ۔۔اس زہریلے موضوع کو قلم بند کرتے کرتے کتنے قلم کاروں کی قلمیں بوڑھی ہو گئیں۔کتنے بےگناہ خواب اپنے ہی وجود کے مقتل میں لہو لہو کر دیے گئے۔۔۔کتنے ارمان جرمِ افلاس کے آتشکدے میں جل کر راکھ ہوگئے۔۔۔مگر یہ کاسہ آج بھی زندہ جاوید ہے۔۔اسکی تشنگی امر ہے۔۔۔اسکی اشتہا لازوال ہے۔۔۔مگر کیوں۔۔؟؟؟

    14934 - (Daband Muqaabla 3) Ishtihaye Lazawal14934 - (Daband Muqaabla 3) Ishtihaye Lazawal14934 - (Daband Muqaabla 3) Ishtihaye Lazawal14934 - (Daband Muqaabla 3) Ishtihaye Lazawal14934 - (Daband Muqaabla 3) Ishtihaye Lazawal14934 - (Daband Muqaabla 3) Ishtihaye Lazawal
    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


  2. #2
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Mideast
    Posts
    5,915
    Mentioned
    213 Post(s)
    Tagged
    5074 Thread(s)
    Thanked
    176
    Rep Power
    10

    Default

    Khoob

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •