Results 1 to 3 of 3

Thread: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خلفائے ثلاثہ سے تعلق کیسا تھا؟

  1. #1
    Join Date
    Oct 2013
    Location
    Limits
    Posts
    5,975
    Mentioned
    667 Post(s)
    Tagged
    5699 Thread(s)
    Thanked
    543
    Rep Power
    1509699

    candel حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خلفائے ثلاثہ سے تعلق کیسا تھا؟


    حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خلفائے ثلاثہ سے تعلق کیسا تھا؟


    اس حالت کو صحیح انداز میں پرکھنے سے پہلے یہ اچھی طرح جاننا ضروری ہے کہ حضرت علی اور خلفائے ثلاثہ (رضی اللہ عنہم اجمعین) تھے کون ۔

    سنہری سلسلے کے تاج کا موتی

    علی رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی تربیت میں سب سے زیادہ وقت گزارا خواہ وہ بعثت سے قبل ہو یا بعد میں۔ آپ کی فاطمہ رضی اللہ عنہما سے شادی ہوئی جن کے بارے میں رسول الله ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’

    ’ فاطمہ میرا ایک ٹکڑاہے ،جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔‘‘ (الاخ ری ،فضائل الصحابہ:12)

    ۔ اس شادی کے بعد آپ کے اور نبی کریم ﷺ درمیان ایک اور رشتہ بھی قائم ہو گیا۔ رسول الله ﷺبار بار فاطمہ کے گھر تشریف لے جاتے تھے اور رات کو بھی چلے جاتے تھے یہاں تک کہ رسول الله ﷺ علی اور فاطمہ کے درمیان ان کے بستر پر تشریف فرما ہوئے، اپنے نواسوں کو سینے سے لگایا اور ان سے ہنسی مذاق کیا۔ اس سب کا مطلب یہ نکلا کہ علی کو ہمیشہ یہ موقع ملتا رہا کہ آپ حضور اکرم ﷺ جذبات اور احساسات کے درمیان سانس لیں ۔

    علاوہ ازیں نبی اکرمﷺ کے نواسوں کی ولادت اس خوش قسمت گھر میں ہو ئی اور انہی دونوں سے رسول الله ﷺ کی نسل آگے چلی جس کی وجہ سے علی رضی اللہ عنہ کا ایک منفرد مقام ہے۔

    ’’اگر ابوبکر نہ ہوتے تو اسلام مٹ جاتا‘‘

    ابو بکر رضی اللہ عنہ کا رسول الله ﷺ پر سب سے پہلے ایمان لانا ،ہجرت کے دوران سخت اور مشکل رستے پر خطرات سے دوچار ہونے کے باوجود رسول الله ﷺ کی رفاقت، کئی بار رسول اللہ ﷺ پر حملے کے وقت لوگوں سے فرعون کی قوم کے مومن کی طرح یہ کہنا: ((أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ)) (المومن:28) ( کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ھے کہ میرا پروردگار اللہ ہے ) یہ سب حادثات اور واقعات نہایت اہم ہیں جبکہ مثال ہے کہ ’’ قدر زرگر زرگر بداند یاکہ داند جوہری۔‘‘ اس لئے علی رضی اللہ عنہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی قدر پہچاننے میں سب سے آگے تھے کیونکہ آپ کا قول ہے:’’ اگر ابو بکر نہ ہوتے تو اسلام مٹ جاتا‘‘ (الدیلمی، الفردوس بماثورالخطاب:358/3)۔ اسی طرح ایک اور موقع پر ان کی عظمت کا اظہار ان الفاظ سے فرمایا:’’ اس امت کے نبی کے بعد سب سے بہترین لوگ ابو بکر اور عمر ہیں ۔‘‘ (احمد بن حنبل، فضائل الصحابہ:76/1)

    فاروق: حق و باطل کو جدا کرنے والی سیسہ پلائی دیوار

    عمر رضی اللہ عنہ کی ایسی خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے آ پ کو دیگر حضرات پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ آپ نفاق اور اختلاف کی ان تمام تحریکوں کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار تھے جن سے آپ کی خلافت کے دوران اسلامی وحدت کو خطرہ تھا، علاوہ ازیں آپ ہی نے اس زمانے کی دو بین الااقوامی قوتوں روم اور فارس کو خاک میں ملایا اور یہ بات بہت سے لوگوں کا ا سلام لانے کا سبب بنی۔ جب ایران معرکہ قادسہ’ میں شکست سے دوچار ہونے کے بعد جھک گیا تو اس کے دل میں عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف بغض اور کینہ پیدا ہوگیا۔ بدیع الزمان سعید نورسی نے ان کے مسلک کے ارادے کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:’’ حضرت علی کی محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ حضرت عمر کے بغض کی وجہ سے ۔‘‘

    چونکہ علی رضی اللہ عنہ ان دونوں عظیم خلفاء کے فضائل جانتے تھے اس لئے ان کی خلافت کے دوران وہ اہم ذمہ داری سنبھالی جس کوبعد میں ’’شیخ الاسلام‘‘ کا نام دیا گیا۔ یعنی یہ دونوں خلفا ضرورت کے وقت فقہی مسائل میں آپ سے بہت زیادہ مشورے کیا کرتے تھے اور خاص طور پر بہت سے مسائل ایسے ہیں جو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے پوچھ کر ان کا حکم معلوم کیا۔ احادیث کی کتابوں میں مذکور وہ واقعہ قابل ذکر ہے کیونکہ یہ علی رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان تعلقات کو واضح کرتا ہے کہ جب عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے یہ فرمایا کہ: ’’ میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے ، تو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے اور اگر میں نے نبی کریم ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا۔‘‘ (مسلم) تو علی رضی اللہ عنہ نے نہایت سادگی سے فرمایا: ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: قیامت کے دن حجر اسود میں اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کی تیز زبان ہو گی اور وہ اس شخص کی توحید کی گواہی دے گا جس نے اس کا استلام کیا ہوگا‘‘ اس لئے اے امیر المومنین وہ نفع اور نقصان دیتا ہے‘‘۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ ابو الحسن میں ایسے لوگوں میں زندہ رہنے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جن میں آپ موجود نہ ہوں ‘‘۔ (الحاکم، المستدرک:628/1) یہ ایسے لوگ ہیں جو ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کی خوب قدر کرتا ہے جیسے کہ اس واقعے سے ظاہر ہے۔

    ’’اگر میرے پاس تیسری بیٹی بھی ہوتی تو میں اس کا نکاح اس سے کردیتا‘‘

    عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک اور منفرد رخ اور نرمی ہے کیونکہ آپ ﷺ نے اپنی ایک دختر نیک اختر کا آپ سے نکاح کرایا۔ جب ان کا انتقال ہوگیا تو دوسری بیٹی بیاہ دی اور ارشاد فرمایا: ’’اگر میرے پاس تیسری بیٹی ہوتی تو اس کا نکاح بھی اس سے کردیتا جبکہ میں نے اس کا نکاح اللہ کی وحی کے سبب کیا ہے۔‘‘ (الطرﷺانی، العجم الکبیر:184/17) اسی طرح عثمان رضی اللہ عنہ کا امن و امان کے ساتھ حکمرانی کرنا ا ور امور مملکت کو چلانا بھی آپ کی عظمت کو سمجھنے کے لئے بہت اہم ہے اور خصوصاً اس وقت جب عالم اسلام میں خارجی نظرئے نے جنم لیا۔
    منفرد رخ، منفرد فضائل

    ان میں سے ہر ایک کے ایسے رخ ہیں جن کی وجہ سے دوسروں پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ (جیسے کہ سب جانتے ہیں ) بعض اوقات کچھ چیزوں میں مرجوح، راجح پر فضیلت حاصل کرلیتا ہے۔ اس لئے صحیح بات یہ ہے کہ ان حضرات میں سے ہر ایک کو اپنی شخصیت اور ذاتی اہمیت اور اللہ کے ہاں مرتبے کے لحاظ سے دیکھای چاہئے اور یہ عقیدہ ہو کہ ان میں سے ہر ایک نبی کریم ﷺ کی مختلف خصوصیات کا حامل ہے۔ اسی وجہ سے ابو بکرکو صدیق ،حضرت عمر کو فاروق، حضرت عثمان کو’’ذوالنورین‘‘ اور حضرت علی کو ’’ الاسد الغالب‘‘ باب مدینۃ العلم اور سلطان الاولیاء جیسے کئی القاب دئے گئے۔ ان حضرات میں سے ہر ایک منفرد حیثیت کا مالک ہے اور اس کی مخصوص خصوصیات کی وجہ سے اس کے مرتبے تک پہنچنا ناممکن ہے ۔ہمارے لئے بس یہی کافی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ان چاروں کو عشرہ مبشرہ میں سرفہرست ذکر فرمایا ہے۔

    متضاد دعوے اور بے سروپا جھوٹ

    جب ہم ان تمام امور کو کلی اور شمولی نظر سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کو خصوصاً حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کے ایک مخالف کے طور پر پیش کرنا اور یہ دعویٰ کرنا کہ آپ حق اور دیگر باطل کے نمائندے تھے۔ دراصل کسی اور سے قبل خود علی رضی اللہ عنہ کی توہین ہے کیونکہ علی رضی اللہ عنہ جیسا بطل شجاعت و جرأت جو کسی خطرے کو کام میں نہیں لاتا ، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے کسی ایسے معاملے میں نہیں جھک سکتا جسے وہ حق نہ سمجھتا ہو کیونکہ آپ ایسے مہم جو ہیں جو کھلے دل اور اطمینان قلب کے ساتھ موت کی جانب بڑھتے ہیں جیسے کہ واقعہ خیبر میں ہوا۔ یہ روایترسول اکرم ﷺ کی جانب منسوب کی جاتی ہے کہ جبریل نے آگر آپ سے فرمایا :’’ ذوالفقار جیسی کوئی تلوار اور علی جیسا کوئی جوان نہیں ‘‘ (ابن عسا کر، تاریخ دمشق: 201/39، 71/42)۔ اس لئے ایسے شخص کے بارے میں یہ دعوی کرنا کہ اس نے ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ سے مجاملہ اور مدارات سے کام لیا، خود علی رضی اللہ عنہ کی توہین اور تحقیر ہے۔

    دوسری جانب اس مسئلے کو اس رخ سے دیکھا جائے کہ رسول اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر ،عمر،اور عثمان (رضی اللہ عنہم) کو شرف قربت بخشا، تو ان حضرات کے بارے میں منفی آراء خود رسول اکرم ﷺ کی توہین ہیں کیونکہ اس دعوے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ رسول اکرم ﷺ کبھی بھی ان حضرات کو نہیں آزمایا اور کبھی بھی رسول اکرم ﷺ کو ان سازشوں کا علم ہی نہیں ہوا جو (نعوذ باللہ) ان حضرات نے کیں اور یہ بات رسول اکرم ﷺ کی ذہانت اور فطانت کی توہین ہے کیونکہ رسول اکرم ﷺ کا اپنے ساتھیوں کو خوب اچھی طرح پہچاننا اور اسی بنیاد پر آپ ان کو مختلف جگہوں پر لگانا ، رسول اکرم ﷺ کی عظیم فطانت کا ایک نہایت اہم رخ ہے کیونکہ رسول اکرم ﷺ جب کسی انسان کے چہرے پر ایک نظر ڈالتے تھے تو اپنی انتہائی ذہانت سے معلوم کرلیتے تھے کہ یہ شخص کس مقام پر کس کام کے لائق ہے اور اس کے مطابق اس کی ذمہ داری لگاتے تھے۔

    جی ہاں ، نبی کریم ﷺ کے پاس وحی آنے کے باوجود یہ دعویٰ کرنا کہ رسول اکرم ﷺ آغاز سے لے کر اس دنیا سے کوچ کرنے تک ان لوگوں کوپہچان ہی نہ پائے جن کے ساتھ رہے اور ان کے حالات اور برتاؤ سے صحیح مطلب کا استنباط ہی نہ کرسکے، یقینا یہ ایک نہایت زبردست منطقی غلطی کا نتیجہ ہے جبکہ عقل و منطق اور درست سوچ اور فکر کا تقاضایہ ہے کہ جن لوگوں کو رسول اکرم ﷺ نے پسند فرمایا ان کو قبول کیا جائے اور ان کا احترام کیا جائے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ حدیث کی کتابوں میں اس بارے میں خصوصی ابواب ہیں ، چنانچہ نبی کریمﷺ نے صحابہ کرام کے اس مرتبے کی جانب یوں اشارہ فرمایا ہے جس کو کسی بھی طرح حاصل نہیں کیا جاسکتا : ’’ میرے صحابہ آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں ۔ اس لئے تم جس کے پیچھے بھی چلو گے رستہ پالو گے۔‘‘(البہقین، المدخل: 162/1 ، الدیلمی،الفردوس بما ثور الخطاب:160/4)

    خصوصی طور پر ان دو حضرات کے بارے میں منفی رائے رکھنا جن کے ہاتھ پکڑ کر آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ’’ ہمیں قیامت میں اس طرح اٹھایا جائے گا ۔‘‘ (الترمذی، النا قب:38) اور ایک اور موقع پر فرمایا: ’’ کوئی بھی نبی ایسا نہیں جس کے دو وزیر آسمان والوں میں سے اور دو زمین والوں میں سے نہ ہوں ۔ اس لئے آسمان والوں میں سے میرے وزیر جبرائیل اور میکائیل ہیں اور زمین والوں میں سے ابو بکر اور عمر۔‘‘(الترمذی، المناقب:47) یہ بات معرھض کی ان حضرات سے اور آنحضرت ﷺ سے ناواقفی کا نتیجہ ہے ۔ علاوہ ازیں آپ علیہ السلام نے ان حضرات کو جنت کی بشارت دی۔ اسی طرح آپ نے حضرت ابو بکر اور عمر کی بیٹی کواپنے عقد میں لیا اور اپنی دو بیٹیاں حضرت عثمان اور ایک بیٹی حضرت علی کے نکاح میں دی۔ اس طرح آپ علیہ السلام نے اپنے اور ان حضرات کے درمیان ایک اور منفرد رشتہ بھی قائم فرمایا۔

    اس سب کے باوجود ایک خاص زمانے میں بعض لوگ خلفائے راشدین کی قدر جاننے میں جادۂ حق سے بھٹک گئے۔ چونکہ دائرے کے مرکز میں ایسے امور کا زیادہ پتہ نہیں چلتا اس لئے آغاز میں اس کا اندازہ نہیں ہوا لیکن مرکز کا یہ معمولی انحراف خط محیط میں بہت زیادہ ہوگیا یہاں تک کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک مرحلہ ایسا بھی آگیا جب بعض لوگوں نے حضرت علی رضی ا للہ عنہ کی مخالفت کی اور (نعوذ باللہ) ان پر کفر کی تہمت لگا دی جبکہ بعض دیگر لوگوں نے حضرت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا دعوی کرتے ہوئے اپنی زندگیاں حضرت ابوبکر و عمر رضی ا للہ عنہما کی دشمنی میں کھپا دیں اور اپنی دشمنی کو ایک بنیاد فراہم کرنے کے لئے علی رضی ا للہ عنہ کا نام استعمال کیا ، بلکہ اس بارے میں حد سے گزر گئے اور آپ کو ایسی ایسی صفات سے مصفے قرار دیا جن کو آپ کبھی قبول نہ کرتے۔ اس کے نتیجے میں بہت سے باطنی مذاہب وجود میں آئے جنہوں نے اس مسئلے کو حلول اور اتحاد پہچام دیا۔ علی رضی ا للہ عنہ کے بارے میں اس قسم کے باطل اور خود ساختہ دعوے ’’ مہدیت‘‘ کے ان دعوؤں کی بنیاد بنے جو دنیا کے مختلف مقامات پر ظاہر ہوئے اور یہ بات شروع سے حسن بن صباح، قرامطہ ، اسماعیلیہ اور نصرہیوں جیسے باطل مذاہب کے وجود میں آنے کا باعث بنی۔

    اس موضوع سے متعلق ایک حدیث شریف بھی ہے۔ ( اگرچہ احادیث کے معیار کے مطابق اس پر کلام ہے) جس میں آپ علیہ السلام بتا رہے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دو فرقے ہلاک ہو جائیں گے ایک (نعوذ باللہ ) ان کو خدا کے درجے تک پہنچا دے گا اور دوسرا (نعوذ باللہ) ایک معمولی سے مسئلے کی وجہ سے کافر قرار دے کر ان سے دشمنی کرے گا اور ان کو قتل کرنے کی کوشش کرے گا اور وہ دن آگیا جب فارسیوں نے اسلام میں فتنہ برپا کرنے کے لئے ابو بکر و عمرکی توہین کی،بلکہ عداوت میں اس قدر آگے بڑھ گئے کہ دونوں کو ’’جبت اور طاغوت‘‘ (بت اور شیطان) قرار دیا اور ہماری ماں عائشہ رضی اللہ عنہا پر بھی بہتان تراشی کی۔

    حسد اور بعض کو ہوا دینے والی علمی قیادت

    دور حاضر میں اس انحراف کے شکار لوگ ان باتوں کے بارے میں ہر جگہ اور سب کے سامنے کھل کر تذکرہ نہیں کرتے ۔ لیکن اس کے باوجود جب ان کے ان بغض وعداوت والے الفاظ کو دیکھا جائے جن کو وہ نہیں چھپا سکے اور بعض واقعات کی وجہ سے وہ ان کی زبانوں پر آگئے ، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ لوگ اپنے دلوں سے ان گندگیوں کو دور نہیں کرسکے اور جس ثقافتی ماحول میں وہ پلے بڑھے ہیں







    1463074 681047065248756 1354212743 n - حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خلفائے ثلاثہ سے تعلق کیسا تھا؟

  2. #2
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default

    jazak1 - حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خلفائے ثلاثہ سے تعلق کیسا تھا؟

  3. #3
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Behti Zameen
    Posts
    3,853
    Mentioned
    5 Post(s)
    Tagged
    4937 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    429506

    Default

    Nice sharing
    JazakAllah

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •