ڈاکٹر انصاری خاموش بیٹھے سرخ ہوتے رہے مگر بولنے سے پہلے انہوں نے اپنے آپ پر قابو پا لیا ۔ " میں مذہب کی اس زاویے سے تشریح کر رہا تھا جس زاویے سے تم نے اسے دیکھا ، یہ مذہب کی ہمہ گیری ھے کہ ہم اس سے مادی فوائد بھی حاصل کر سکتے ہیں ، ورنہ مذہب تو ہمیں اس دنیا میں لے جاتا ھے جہاں اس کا تصور بھی محال ھے ، یوں مادی فوائد سے کوئی مذہب کسی کو منع نہیں کرتا لیکن اگر آپ اسے محض روحانی رہنمائی کی خاطر استعمال کرنا چاہیں تو آپ کی خوش بختی ھے ، مذہب کا سب سے بڑا آلہ عبادت ھے ، عبادت جو انسان کی شخصیت سے ہم آہنگ ہو کر ایک جذبہ بن جاتی ھے ، جو انسان کو اپنے اندر جھانکنے کی استطاعت بخشتی ھے ، آج تک جس کسی نے اپنے آپ کو جانا اور پہچانا ھے اس کی بساط عبادت نے اس کے اندر پیدا کی ھے ، یہ وہ راستہ ھے جس پر چلتا ہوا آدمی ساری دنیا میں گھوم گھام کر پھر اپنے آپ تک آپہنچتا ھے ، وہ خفیہ اور تنگ راستہ جو انسان کی اپنی ذات تک آکر ختم ہوتا ھے اور پھر اندر اتر جاتا ھے اور جب آدمی ڈرتا ہوا ، جھجکتا ہوا اپنی ذات میں داخل ہوتا ھے تو راستہ روشن اور کشادہ ہوتا جاتا ھے اور اس مقدّس روشنی تک پہنچنے کا جذبہ ، جو راستے کے اختتام پر نظر آتی ھے ، اسے پا لینے کی دیوانی خواہش انسان کو آگے چلاتی جاتی ھے اور اسے ایک مقصد عطا کرتی ھے اور جب وہ مقصد شخصیت کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ھے تو انسان اپنی ذات میں گم ہو جاتا ھے ،

پہلے شعور کے پردے اٹھتے ہیں ، پھر آہستہ آہستہ لاشعور کے در وا ہوتے ہیں اور جب وہ آفاقی سطحپر پہنچ جاتا ھے تو ماوراء میں دیکھنے اور اسے جاننے لگتا ھے پھر وہ سلیمانی ٹوپی پہن کر بازاروں میں پھرتا ھے ، دنیا کے ہنگاموں میں منزل منزل گھومتا ھے اور لوگ صرف ایک گمنام اور قناعت پسند آدمی کو جانتے ہیں ، کیونکہ جو کچھ وہ دیکھتا ھے اور کوئی نہیں دیکھتا اور جو کچھ وہ جانتا ھے اور کوئی نہیں جانتا ، اسطرح چپکے چپکے وہ زندگی کی سچائی اور اصلیت کی کھوج میں لگا رہتا ھے اور اسی کھوج میں اسے سکون مل جاتا ھے ، سکون ۔ ۔ جو دنیا کی تمام آفتوں کے مقابلے میں ڈھال ھے ۔