Results 1 to 6 of 6

Thread: گوریلا تربیت سے امن کے انعام تک

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default گوریلا تربیت سے امن کے انعام تک

    گوریلا تربیت سے امن کے انعام تک

    سنہ انیس سو باسٹھ میں کرنل فیکادو واکنے نے جنوبی افریقہ کے سیاسی کارکن نیلسن مینڈیلا کو گوریلا جنگ کی تربیت دی تھی جس میں دھماکہ خیز مواد نصب کرکے خاموشی سے فرار ہونے کے طریقے بھی شامل تھے۔
    بعد میں امن کا نوبل انعام پانے والے نیلسن مینڈیلا اپنی آزادی کی جدوجہد میں اس وقت ایتھوپیا میں تھے جہاں وہ افریقن نیشنل کانگریس کے مسلح بازو یومکنتو وی سوازی کو چلانے کی تربیت حاصل کر رہے تھے

    افریقن نیشنل کانگریس کی اس مسلح تنظیم نے سنہ انیس سو اکسٹھ میں جنوبی افریقہ میں متعدد مقامات پر بجلی کے کھمبوں کو تباہ کرکے اپنے وجود میں آنے کا اعلان کیا تھا۔نیلسن مینڈیلا گیارہ جنوری سنہ انیس سو باسٹھ کو غیر قانونی اور خفیہ طریقے سے جنوبی افریقہ سے چلے گئے تھے۔وہ افریقن نیشنل کانگریس اور اس کی مسلح تنظیم کے لیے افریقی ملکوں سے سیاسی، مالی اور عملی حمایت حاصل کرنے کے لیے نکلے تھے۔اس کے ساتھ ہی خود بھی گوریلا جنگ کی تربیت حاصل کرنا تھا۔اس دوران وہ دو مرتبہ ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا گئے جہاں وہ جن لوگوں سے ملے انھیں متاثر کیا۔کرنل فیکادو نے کہا کہ :’نیلسن مینڈیلا ایک صابر اور مضبوط طالب علم تھے۔ وہ بڑی توجہ سے احکامات سنتے تھے اور وہ دل پسند شخصیت تھے۔‘

    کرنل فیکادو اس وقت سپاہی تھے جب انھوں نے مینڈیلا کو گوریلا جنگ کی تربیت دی تھی۔ اس وقت وہ خصوصی پولیس فورس کے ہنگاموں سے نمٹنے والے دستوں میں شامل تھے اور ادیس ابابا کے قریب تعینات تھے۔وہ نیلسن میڈیلا کو ایک ایسے شاگرد کے طور پر یاد کرتے ہیں جو ہمیشہ خوش رہتے تھے اور ہمیشہ اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھتے تھے۔نیلسن مینڈیلا نے انیس سو باسٹھ میں تنزانیہ کا بھی دورہ کیا اور انھوں نے آنجہانی وزیر سلو سوائی کے ساتھ قیام کیا۔ان کی بیوی وکی سلو سوائی نے بتایا کہ نیلسن مینڈیلا جب جانے لگے تو ان کا سامان زیادہ ہو گیا تھا اور انھیں ایک سوٹ کیس چھوڑنا پڑا جس میں چمڑے کے براؤن رنگ کے جوتے تھے جو انھوں نے تینتیس برس تک سنبھال کر رکھے۔

    نھوں نے کہا کہ اپنے شوہر کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ درالسلام منتقل ہو گئے اور وہ یہ جوتے بھی اپنے ساتھ لے گئے۔اس کے بعد ان کے شوہر کو اقوام متحدہ میں نوکری مل گئی اور وہ نیو یارک منتقل ہو گئے اور نیلسن مینڈیلا کے جوتے بھی وہ اپنے ساتھ ہی لے گئے۔ پندرہ سال تک انھوں نے نیویارک میں بھی یہ جوتے سنبھال کر رکھے۔انھوں نے کہا کہ :’ہم نے اپنی خواب گاہ کی ایک الماری میں یہ جوتے سنبھال کر رکھے۔ میں نے انھیں کبھی پالش اور صاف نہیں کیا لیکن میں نے ان کے اندر اخبار ٹھونس کر رکھے تاکہ یہ خراب نہ ہوں۔‘انھوں نے کہا کہ یہ جوتے بڑے اعلیٰ چمڑے کے بنے ہوئے تھے اور بڑے مضبوط تھے۔ جب یہ جوتے انیس سو پچانوے میں مینڈیلا کو واپس پہنچائے گئے تو وہ اس وقت بھی بالکل نئے لگ رہے تھے۔

    س وقت بھی مینڈیلا کو یہ جوتے بالکل ٹھیک آئے اور انھوں نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ ان جوتوں نے اُن سے زیادہ سفر کر لیا ہے۔وکی نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ اس بات پر حیران تھے کہ یہ جوتے اتنے عرصے تک کیوں سنبھال کر رکھے۔ انھوں نے کہا کہ: ’میں چاہتی تھی کہ جو شخص اپنے ملک کے ساتھ اس قدر محبت کرتا ہے اس کو یہ جوتے مل جائیں۔‘سنہ انیس سو باسٹھ میں کرنل فیکادو کو یہ احساس نہیں تھا کہ جنوبی افریقہ کے جس شخص کو انھیں تربیت دینے کے لیے کہا گیا ہے اس کی جنوبی افریقہ میں کیا سیاسی اہمیت ہے۔’ہمیں صرف اتنا معلوم تھا کہ وہ ایک مہمان ہے جو کچھ دن تک ہمارے ساتھ رہیں گے اور پھر واپس چلے جائیں گے۔‘فیکادو نے کہا کہ ہر چیز کو خفیہ رکھا گیا اور وہ بالکل اندھیرے میں تھے۔

    مینڈیلا ایتھوپیا کے بادشاہ کی دعوت پر آئے تھے جو افریقہ سے نوآبادیات کے خاتمے اور آزادی کے سخت حمایتی تھے۔اس وقت براعظم افریقہ میں ایتھوپیا کی فوج سب سے طاقت ور فوج تھی۔اس کے فوجی انیس سو ساٹھ میں کانگو میں اقوام متحدہ کے امن دستوں میں بھی شامل تھے اور اس سے ایک دہائی قبل ایتھوپیا کے دستوں نے کوریائی جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔بادشاہ نے کئی افریقی ملک میں چلنے والے تحریکوں کے سرگرم کارکنوں کو فوجی تربیت کے لیے ایتھوپیا مدعو کیا تھا۔گوریلا جنگ کے علاوہ نیلسن مینڈیلا کو فوج کی قیادت کرنے اور دفاعی سائنس کی تعلیم بھی دی گئی۔انھیں اس تربیت کے دوران پیدل سفر پر بھی لے جایا جاتا تھا جہاں انھیں اپنے سامان اور اپنی بندوق خود کمر پر اٹھا کر چلنا پڑتا تھا۔مینڈیلا کو تربیت کا یہ حصہ بہت پسند تھا اور وہ اس بارے میں اپنی کتاب ’لانگ واک ٹو فریڈیم میں بھی ذکر کرتے ہیں۔‘مینڈیلا کی ایتھوپیا میں تربیت چھ ماہ تک جاری رہنی تھی لیکن انھیں دو ہفتے بعد ہی جنوبی افریقہ جانا پڑا۔ وہ سات ماہ ملک سے باہر گزار چکے تھے۔جب مینڈیلا ایتھوپیا چھوڑنے لگے تو جنرل ٹیڈیسی نے انھیں ایک پستول اور دو سو گولیاں پیش کیں۔ یہ پستول للی لیوز فارم پر جہاں سے انیس سو تریسٹھ میں افریقن نیشنل کانگریس کے رہنما گرفتار کیے گئے تھے اور اسی فارم کی زمین میں کہیں یہ پستول دفن ہے۔مینڈیلا کو بھی پانچ اگست سنہ انیس سو باسٹھ میں گرفتار کیاگیا تھا جب وہ ملک واپس لوٹے ہیں تھے اور وہ اس وقت بھی فوجی وردی پہنے ہوئے تھے۔

    131209111621 mandela fekadu  624x351 mayibuyearchives nocredit zps1293cda1 - گوریلا تربیت سے امن کے انعام تک

    131209160239 mandela boots 304x171 bbc nocredit zps32aea78b - گوریلا تربیت سے امن کے انعام تک





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Karachi
    Age
    28
    Posts
    32,907
    Mentioned
    46 Post(s)
    Tagged
    5939 Thread(s)
    Thanked
    3
    Rep Power
    21474878

    Default

    great leader tha waqai
    Last edited by LoViNg IrFaN; 10-12-2013 at 02:23 PM.

    8bffd51cd2705b99335ce635a13dbb09 zps81c9bfed - گوریلا تربیت سے امن کے انعام تک

    ..!!


  3. #3
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Karachi, Pakistan
    Posts
    7,419
    Mentioned
    507 Post(s)
    Tagged
    5438 Thread(s)
    Thanked
    359
    Rep Power
    874041

    Default

    Thank you for the detailed information Sarfraz Qamar/ he has done good work for securing the right of blackmen in his country.... !!

  4. #4
    Join Date
    May 2013
    Location
    pakistan
    Posts
    5,720
    Mentioned
    128 Post(s)
    Tagged
    7184 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    644255

    Default

    2 ku din de den parrhne k liye
    badakhuwar2 zps199b7191 - گوریلا تربیت سے امن کے انعام تک

  5. #5
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    k, s, a
    Posts
    14,631
    Mentioned
    215 Post(s)
    Tagged
    10286 Thread(s)
    Thanked
    84
    Rep Power
    1503265

    Default

    Insaan janwar ban rahe hain aur yahan janwaron ko sudharne ki baat ho rahi hai Allah ki shan hai

  6. #6
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default

    great leader
    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •