Results 1 to 2 of 2

Thread: خلوت میں کھلا ہم پہ کہ بیباک تھی وہ بھی

  1. #1
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    SAb Kya Dil Mein
    Posts
    11,928
    Mentioned
    79 Post(s)
    Tagged
    2306 Thread(s)
    Thanked
    24
    Rep Power
    21474855

    Default خلوت میں کھلا ہم پہ کہ بیباک تھی وہ بھی


    خلوت میں کھلا ہم پہ کہ بیباک تھی وہ بھی
    محتاط تھے ہم لوگ بھی، چالاک تھی وہ بھی

    افکار میں ہم لوگ بھی ٹھہرے تھے قد آور
    پندار میں "ہم قامتِ افلاک" تھی وہ بھی

    اسے پاس ِادب، سنگِ صفت عزم تھا اس کا
    اسے سیل طلب، صورتِ خاشاک تھی وہ بھی

    جس شب کا گریباں تیرے ہاتھوں سے ہوا چاک
    اے صبح کے سورج، میری پوشاک تھی وہ بھی

    اک شوخ کرن چومنے اتری تھی گلوں کو
    کچھ دیر میں پیوستِ رگِ خاک تھی وہ بھی

    جس آنکھ کی جنبش پہ ہوئیں نصب صلیبیں
    مقتل میں ہمیں دیکھ کے نمناک تھی وہ بھی

    دیکھا جو اسے، کوئی کشش ہی نہ تھی اس میں
    سوچا جو اسے، حاصل اور ادراک تھی وہ بھی

    جو حرف میرے لب پہ رہا زہر تھا محسن
    جو سانس میرے تن میں تھی سفّاک تھی وہ بھی

    محسن نقوی



  2. #2
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default

    umda
    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •