Results 1 to 6 of 6

Thread: Ghalib Zabaan Or Lehje Ki Chabuk Dast Fankar

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Ghalib Zabaan Or Lehje Ki Chabuk Dast Fankar


    آج دنیا ئے سخن وری کے مہتاب اور لازوال شاعر "مرزا اسد اللہ خان غالب" کا یوم ولادت ہے۔

    آیئے اہل ذوق اس بزم میں اس عظیم اور لازوال شاعر کے یوم ولادت پر ان کا کلام شریک کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کریں ۔

    پیدائشی نام : اسد اللہ بیگ خاں
    قلمی نام : مرزا غالب
    تخلص : اسد ، غالب
    ولادت : 27 دسمبر 1797ء، آگرہ
    وفات : 15 فروری 1869ء

    ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
    کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

    مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ 27 دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ءمیں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔
    شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے ۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ءمیں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا ، اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔
    غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ءکے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرت شراب نوشی کی بدولت ان
    کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو انتقال فرمایا



    غالب کے بارے میں عبادت بریلوی لکھتے ہیں، ”غالب زبان اور لہجے کے چابک دست فنکار ہیں۔ اردو روزمرہ اور محاورے کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اس کی سادگی دل میں اتر جاتی ہے۔“

    عبدالرحمن بجنوری لکھتے ہیں کہ، ”ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں ”وید مقدس“ اور ”دیوان غالب“ ۔“

    اردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک ررخشاں ستارے کی سی ہے۔ انہوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی ۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ غالب ایک فلسفی ذہن کے مالک تھے۔ انہوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیل کی بلندی اور شوخی فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشدت سے محسوس کرتے ہیں۔
    غالب انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں ۔ اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھا دیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں ۔ اور نظام کائنات میں اس کونئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔ غالب کی شاعری اس اعتبار سے بہت بلند ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ان کی شاعر ی کے انہیں عناصر نے اُن کو عظمت سے ہمکنار کیا ہے۔ لیکن جس طرح ان کی شاعری میں ان سب کا اظہار و ابلاغ ہوا ہے۔ وہ بھی اس کو عظیم بنانے میں برابر کے شریک ہیں۔

    غالب کی شاعری کا اثرحواس پر شدت سے ہوتا ہے وہ ان میں غیر شعوری طور پرایک ارتعاش کی سی کیفیت پیدا کرتی ہے اور اسی ارتعاش کی وجہ سے اس کے پڑھنے اور سننے والے کے ذہن پر اس قسم کی تصویریں ابھرتی ہیں ۔ ان کے موضوع میں جووسعتیں اور گہرائیاں ہیں اس کا عکس ان کے اظہار و ابلاغ میں بھی نظرآتا ہے۔ ان گنت عناصر کے امتزاج سے اس کی تشکیل ہوتی ہے۔





    پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
    دل، جگر تشنۂ فریاد آیا

    دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
    پھر ترا وقتِ سفر یاد آیا

    سادگی ہائے تمنا، یعنی
    پھر وہ نیرنگِ نظر یاد آیا

    عذرِ واماندگی، اے حسرتِ دل!
    نالہ کرتا تھا، جگر یاد آیا

    زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
    کیوں ترا راہ گزر یاد آیا

    کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی
    گھر ترا خلد میں گر یاد آیا

    آہ وہ جرأتِ فریاد کہاں
    دل سے تنگ آکے جگر یاد آیا

    پھر تیرے کوچے کو جاتا ہے خیال
    دلِ گم گشتہ، مگر، یاد آیا

    کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
    دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

    میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد
    سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
    ..............................



    گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو
    کہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیوں کر ہو

    ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصال
    کہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں؟ ہو تو کیوں کر ہو

    ادب ہے اور یہی کشمکش، تو کیا کیجے
    حیا ہے اور یہی گومگو تو کیوں کر ہو

    تمہیں کہو کہ گزارا صنم پرستوں کا
    بتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیوں کر ہو

    الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہ
    جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیوں کر ہو

    جسے نصیب ہو روزِ سیاہ میرا سا
    وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیوں کر ہو

    ہمیں پھر ان سے امید، اور انہیں ہماری قدر
    ہماری بات ہی پوچھیں نہ وو تو کیوں کر ہو

    غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلّی کا
    نہ مانے دیدۂ دیدار جو، تو کیوں کر ہو

    بتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قرار
    یہ نیش ہو رگِ جاں میں فِرو تو کیوں کر ہو

    مجھے جنوں نہیں غالبؔ ولے بہ قولِ حضور
    "فراقِ یار میں تسکین ہو تو کیوں کر ہو"

    غالب
    ............................................








    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Cute PaRi's Avatar
    Cute PaRi is offline ♥Häppïnëss ïs Süċċëss♥
    Join Date
    Sep 2012
    Location
    ♥ündër möthër's fëët♥
    Posts
    9,560
    Mentioned
    132 Post(s)
    Tagged
    9855 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    1533321

    Default

    bhot umda sharing apko milta star
    Last edited by Cute PaRi; 27-12-2013 at 07:29 AM.

    paspayi2 zps86d6ac40 - Ghalib Zabaan Or Lehje Ki Chabuk Dast Fankar

  3. #3
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Karachi, Pakistan
    Posts
    7,416
    Mentioned
    507 Post(s)
    Tagged
    5438 Thread(s)
    Thanked
    359
    Rep Power
    874041

    Default

    Happy birthday Ghalib

    Thank you Sarfraz for sharing this informative post.

  4. #4
    Hidden words's Avatar
    Hidden words is offline "-•(-• sтαү мιηε •-)•-"
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Kisi ki Ankhon Aur Dil Mein .......:P
    Posts
    56,915
    Mentioned
    322 Post(s)
    Tagged
    10949 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474899

    Default

    Happy Birthday Mirza Ghalib
    suno hworiginal - Ghalib Zabaan Or Lehje Ki Chabuk Dast Fankar
    575280tvjrzkx7ho zps19409030 - Ghalib Zabaan Or Lehje Ki Chabuk Dast Fankarღ∞ ι ωιll αlωαуѕ ¢нσσѕє уσυ ∞ღ 575280tvjrzkx7ho zps19409030 - Ghalib Zabaan Or Lehje Ki Chabuk Dast Fankar

  5. #5
    Join Date
    Nov 2008
    Location
    اسلامی جمہوریہ پاکستان
    Posts
    3,460
    Mentioned
    276 Post(s)
    Tagged
    8176 Thread(s)
    Thanked
    90
    Rep Power
    1073759

    Default

    cacha galib ko salgirah mubarak
    2v1u8md - Ghalib Zabaan Or Lehje Ki Chabuk Dast Fankar

  6. #6
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default

    umda
    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •