Results 1 to 5 of 5

Thread: 7 Fazool Kahaniyan (Wusat Ullah Khan)

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default 7 Fazool Kahaniyan (Wusat Ullah Khan)

    سات فضول کہانیاں

    وسعت اللہ خان



    کوے

    سڑک کے اس جانب بلدیہ کے خاکروب ایک وی آئی پی قافلہ گذرنے سے پہلے عارضی جانفشانی کے ساتھ راستے کی صفائی کر رہے تھے اور سڑک کے دوسری جانب اسی بلدیہ کا کچرے سے لبالب کھلا ٹرک آلائشیں گراتا گذر گیا۔ پسماندگان میں حلوائی کے کڑھاؤ، پان کے کھوکھے، قصائی کی دکان اور راہ گیروں کے منہ پر ٹرک والے کے لیے ماں کی گالی کے علاوہ وہ ہوا بھی شامل تھی جو ایک گھنٹے بعد تک بدبو سے حواس باختہ رہی کیونکہ کووں کو گری ہوئی الائشوں کی چھینا جھپٹی کا کھیل ہاتھ آ گیا تھا۔
    کباڑی


    یبوں کے مفت علاج کے جذبے سے سرشار جواں سال ڈاکٹر وہاب نے چار منزلہ جدید ترین ہسپتال کی افتتاحی تقریب میں قصبے کی ہر اہم سیاسی و سماجی شخصیت اور سرکردہ ڈاکٹروں کو بطورِ خاص بلوایا۔ سب نے ہی ڈاکٹر وہاب کے خوب قصیدے پڑھے۔ مریضوں کے ٹھٹھ لگ گئے۔ ہر کوئی ڈاکٹر وہاب کو جھولیاں بھر بھر کے دعائیں دے رہا تھا۔چوتھے مہینے جانے کیا ہوا کہ پولیس ڈاکٹر وہاب کو پکڑ کے لے گئی۔ ہسپتال سیل کردیا گیا اور علاقہ ایس پی نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ مفت علاج کے پردے میں انسانی اعضا کا کاروبار ہورہا تھا۔ پریس کانفرنس میں چار چادر پوش متاثرین بھی پیش کئے گئے جن کے گردے نکال لیے گئے تھے۔ البتہ صحافیوں کو ان متاثرین سے سوال و جواب کی اجازت نہیں دی گئی۔ایک ہفتے بعد ڈاکٹر وہاب کی خاموشی سے ضمانت ہوگئی اور وہ واپس کینیڈا چلے گئے۔ ان کا ہسپتال قصبے کے ایک مشہور سرجن نے خرید لیا اور مفت علاج کا بورڈ ایک کباڑی گدھا گاڑی پے لاد کے لے گیا۔
    عالی جاہ

    ’عالی جاہ میرے کلائنٹ کو بس سات دن کے پیرول پر رہا کردیں۔ بچی کی رخصتی کرواتے ہی فوراً حاضر ہوجائے گا۔‘’مگر وکیل صاحب آپ ماشااللہ پچھلے بیس برس سے پریکٹس کررہے ہیں آپ کو بھی اندازہ ہے کہ اس جرم میں پیرول کی گنجائش نہیں۔ کیوں اپنا اور عدالت کا وقت ضائع کررہے ہیں۔‘پیشکار نے پرچی پر لکھا ’گن لیے۔ پورے ہیں‘ اور پرچی عالی جاہ کے روبرو رکھ دی۔ عالی جاہ نے عینک کے پیچھے سے پرچی کو سرسری سا دیکھا۔’ٹھیک ہے وکیل صاحب میں صرف آپ کی وجہ سے ملزم کا ایک ہفتے کا پیرول منظور کررہا ہوں۔ اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ پانچ جنوری کو صبح نو بجے ملزم پیش ہو جائے ورنہ ۔۔۔‘
    ضبط۔

    مولانا صاحب سڑک پر لاش رکھ کے سرکاری بے حسی سے جاں بلب مجمع کو صبر و نظم و ضبط کی تلقین کررہے ہیں اور عین مولانا کے پیچھے کھڑے چند سرفروش اسی سڑک پر واقع ایک عبادت گاہ کو جہنم رسید کرنے کی حکمتِ عملی کو آنکھوں ہی آنکھوں میں آخری شکل دیتے ہوئے چل پڑے۔ مولانا کی صبریلی ضبطیلی تقریر جاری ہے ۔۔۔
    کلمہ


    منسٹر صاحب کی زیرِ صدارت اجلاس میں صوبے کو بھتہ مافیا سے پاک کرنے کے منصوبے کو آخری شکل دی جارہی ہے۔ اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران اپنی اپنی کارکردگی سے آگاہ کررہے ہیں۔منسٹر صاحب کا کہنا ہے کہ کارکردگی کا راگ مت دیں مجھے پراگریس چاہیے اسلام آباد والوں کو کیا جواب دوں۔ اگلے ایک ہفتے میں اگر ٹھوس نتائج سامنے نہ آئے تو پھر مجھے مجبوراً دوسری ٹیم لانی پڑے گی۔ آئی وانٹ کوئیک رزلٹس ۔۔۔پرسنل اسسٹنٹ نے منسٹر صاحب کو موبائل فون لا کے دیا اور کچھ کھسر پھسر کی۔ منسٹر صاحب اجلاس کے شرکا سے معذرت کرکے بغلی کمرے میں آگئے۔’یار میں اس وقت میٹنگ کررہا ہوں بعد میں بات کرنا ۔۔۔ اوکے ۔۔۔ نہیں بالکل نہیں۔ پہلے ہی دس سے کم کرتے کرتے پانچ پرآگئے ہیں۔ اس نے کیا مجھے بالکل ہی چ سمجھ لیا ہے ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ اچھا اب سنو اگر وہ پانچ کروڑ بھی نہیں دے رہا تو پھر کلمہ پڑھوا دو ۔۔۔ اور آئندہ مجھے ڈائریکٹ فون نہ کرنا ۔۔۔ تمہیں کتنی دفعہ بتایا ہے شبلی کے ذریعے میسج کیا کرو ۔۔۔ جاہل سالا بات ہی نہیں سمجھتا۔‘سوری گھر سے فون آیا گیا تھا ۔۔۔ ہاں تو میں آخری وارننگ دے رہا ہوں کہ اگر اگلے ایک ہفتے میں بھتہ مافیا کا صفایا نہیں ہوا تو آپ لوگ پھر کوئی اور نوکری ڈھونڈھ لیں۔
    غیرت

    ’اب آپ کو ڈالر یا قومی غیرت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے۔ ہم امریکی امداد کا کشکول اور اس ملک کے مفادات کا سودا کرنے والوں کے ہاتھ توڑ دیں گے۔ آپ اسی طرح تحمل کا مظاہرہ کریں میں آپ کی جانب سے امریکی سفیر کو احتجاجی یاد داشت پیش کرکے آتا ہوں۔‘خوش آمدید مسٹر پالیٹیشن کیسے ہیں آپ؟ آج تو بہت غصے میں لگ رہے ہیں ۔۔۔ جی نہیں ہز ایکسیلنسی ایمبیسڈر میری یا میری پارٹی کی کیا مجال کہ غصے میں آئیں۔ آپ تو سمجھتے ہی ہیں کہ سیاست کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ ہم تو پرانے نمک خوار ہیں ہا ہا ہا ہا۔
    مہلت

    ذرا دھیان سے سنو۔ ان چاروں کو پوائنٹ بلینک پر نہیں بلکہ دوڑا دوڑا کے گولیاں مارنی ہیں۔ ایک آدھ گولی اپنی ٹانگ یا ہاتھ پر بھی مار لینا۔ اور ہاں مارنے کے بعد ان کی جیب میں ناموں کی پرچی رکھنا مت بھولنا۔ پچھلی دفعہ تم لوگ بھول گئے تھے تو لاشیں اٹھانے والے ایس ایچ او کو شناخت میں بڑی دقت ہوئی تھی۔ ٹھیک سے سنبھال لینا اور کام مکمل ہونے کے بعد مجھے عید مبارک کا ایس ایم ایس کردینا۔ میں عدالت جارہا ہوں آج تیسرا سمن آیا ہے۔۔۔’مائی لارڈ یقین کیجیے ہمارے پاس عمران، جاوید، نور محمد اور مہربان میں سے کوئی لڑکا نہیں۔۔۔ پھر بھی ہم پوری کوشش کریں گے کہ کل صبح تک ان کو بازیاب کرا کے پیش کرسکیں۔ بس ایک دن کی مہلت اور دے دیجیے مائی لارڈ ۔۔۔ بس ایک دن کی۔‘


    Last edited by sarfraz_qamar; 29-12-2013 at 11:54 PM.





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Karachi, Pakistan
    Posts
    7,416
    Mentioned
    504 Post(s)
    Tagged
    5438 Thread(s)
    Thanked
    359
    Rep Power
    874041

    Default

    amazing............... kia likha hay, lutf aaya paRh kar, aur afsoos apni haalaaat per!

  3. #3
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    SAb Kya Dil Mein
    Posts
    11,928
    Mentioned
    79 Post(s)
    Tagged
    2306 Thread(s)
    Thanked
    24
    Rep Power
    21474855

    Default

    /up


  4. #4
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Beyond The Sky
    Posts
    1,478
    Mentioned
    55 Post(s)
    Tagged
    3259 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    214755

    Default

    Hmmmm Baat To Sach Hai Magar!!



    دل اگر بے نقاب ھوتے

    تو سوچو..! کتنے فساد ھوتے




  5. #5
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default

    bu - 7 Fazool Kahaniyan (Wusat Ullah Khan)
    کہاں اتنی سزائیں تھیں بھلا اس زندگانی میں
    ہزاروں گھر ہوئے روشن جو میرا دل جلا محسنؔ


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •