Results 1 to 7 of 7

Thread: حضرت رابعہ بصری

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default حضرت رابعہ بصری


    حضرت رابعہ بصری
    ------------------------
    ایک سو پانچ ہجری میں بصرہ میں ایسا قحط پڑا کہ لوگ نہ صرف محبت کےلطیف و نازک جذبات کو بھول گئےبلکہ ان کےسینےنفسانی خواہشوں کےہجوم سےبھر گئےتھی۔ وہ اپنےشکم کی آگ بجھانےکیلئےاپنےہم جنسوں کو ارزاں داموں پر فروخت کرنےلگی۔ اولادیں‘ ماں‘باپ پرگراں تھیں اور اولادوں پر ماں باپ ایک بوجھ تھی۔ بیویاں شوہروں کیلئےباعث آزار تھیں۔۔۔۔ اور بہنیں بھائیوں کیلئےایک مستقل عذاب بن چکی تھیں۔ خاندانی اورعلاقائی رشتوں کا تو ذکر ہی کیا‘ خونی رشتےبھی بےاعتبارہو چکےتھی۔ عجیب نفسانفسی کاعالم تھا۔ ماں باپ اولادوں سےہاتھ چھڑا رہےتھی۔۔ بھائیوں نےبہنوں سےمنہ پھیر لیا تھا اور دوست ایک دوسرے کو پہنچاننےسےگریزاں تھے ۔ بھوک کاعفریت اپنا خونی دہن کھولےکھڑا تھا۔۔۔۔ اورتمام انسانی رشتی‘ احساسات و جذبات‘ عقائد و نظریات اس کی خوراک بنتےجارہےتھے۔

    اسی ہولناک فضاءمیں بصرہ کے ایک چھوٹےسے خاندان پر قیامت گزر گئی۔ یہاں چار بہنیں رہا کرتی تھیں ، جن کےماں باپ دنیا سےرخصت ہو گئےتھے۔ بظاہر کوئی نگراں اور کفیل نہیں تھا۔ یہ سب بہنیں مل کر محنت مزدوری کیا کرتی تھیں۔۔۔۔ مگر جب شہر بصرہ قحط کی لپیٹ میں آیا تو سارے کاروبار دم توڑ گئے اورمزدوریاں ختم ہو گئیں۔ نو عمر لڑکیوں نےدو تین فاقے تو برداشت کر لئےمگر جب بھوک حد سےگزری تو کسی کو اپنا ہوش نہ رہا۔ بھیک تک کی نوبت آگئی مگر کوئی کیسے بھیک دیتا کہ دینے والے کے پاس خود کچھ نہیں تھا۔ یہ تمام بہنیں زرد چہروں اورپتھرائی ہوئی آنکھوں سےآسمان کی طرف دیکھ رہی تھیں کہ بصرہ کا مشہور تاجر عتیق ادھر سے گزرا۔ فاقہ زدہ بہنوں نے آسودہ حال شخص کےسامنےدست سوال دراز کر دیا۔
    ”خدا کیلئےہمیں کچھ کھانےکو دو۔ ورنہ کچھ دیر بعد ہماری سانسوں کا رشتہ ہمارےجسموں سےمنقطع ہو جائے گا۔“

    تاجر عتیق نےسب سےچھوٹی بہن کی طرف دیکھا جو خاموش بیٹھی تھی۔ ”لڑکی! تجھےبھوک نہیں ہے۔“
    ”بہت بھوک ہے۔ “ سب سے چھوٹی بہن نے نقاہت زدہ لہجے میں جواب دیا۔ ”تو پھر کسی سےروٹی کیوں نہیں مانگتی؟“ تاجر نے سوال کیا۔
    ”جس سےمانگنا چاہئےاسی سے مانگ رہی ہوں۔“ لڑکی نےبڑا عجیب جواب دیا۔
    ”تو پھر تجھےابھی تک روٹی کیوں نہیں ملی؟“ تاجر عتیق نےحیران ہو کر دوسرا سوال کیا۔
    ”جب وقت آئےگا تو وہ بھی مل جائےگی۔“ لڑکی کا انداز گفتگو مبہم تھا مگر لہجےسےبڑی استقامت جھلک رہی تھی۔

    تینوں بڑی بہنیں چھوٹی بہن کی بےسروپا باتوں سےبیزار تھیں۔ اس لئےجھنجھلا کر بولیں۔ ”یہ ہم سب کا وقت برباد کر رہی ہے۔ آپ اسے یہاں سے لے جائیں۔“
    ”یہ لڑکی بڑے کام کی ہے۔ میں اسے لے کر ہی جائوں گا۔“ تاجر عتیق نے تینوں بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔ اور پھر ایک مخصوص رقم ان کےحوالےکر دی۔
    ”چلو! لڑکی“ تاجر نےچھوٹی بہن سے کہا۔ ”اب تم میری ملکیت ہو۔“
    لڑکی نےاپنی بہنوں کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھےمگر ہونٹوں پر حرف شکایت نہیں تھا۔ وہ تاجر عتیق کےساتھ چپ چاپ چلی گئی۔ اس نےکئی بار مڑ کر دیکھا۔ لڑکی کی آنکھوں میں بس ایک ہی سوال تھا۔
    ”کیا تم نےچند روٹیوں کیلئےاپنی چھوٹی بہن کو فروخت کر دیا ہے“۔
    تینوں بہنوں نےکوئی جواب نہیں دیا۔ انہیں بھوک کے عفریت سے نجات مل گئی تھی اور وہ تاجر کےدیئےہوئےسکے گننے میں مصروف تھیں۔ پھر انہیں اپنی چھوٹی بہن کی آنکھوں میں لرزنے والی معصوم حسرتیں اور کانپتے ہوئےسوالات کس طرح نظر آتے؟ آخر لڑکی نظروں سےاوجھل ہو گئی اور ضرورت کےبےرحم ہاتھ نےخونی رشتوں کو جدا کردیا۔

    نوعمر ہونےکے باوجود وہ لڑکی انتہائی مشقت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا کام پورا کرتی اور مالک کو کسی قسم کی شکایت کا موقع نہ دیتی۔ یہاں تک کہ اسی عالم میں کئی سال گزر گئے۔ اب اس لڑکی کی عمر بارہ تیرہ سال کےقریب تھی۔ جیسےجیسےعمر بڑھتی جارہی تھی‘ لڑکی کے ذوق عبادت میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ گھر کا کام کرنے کے بعد وہ رات رات بھر عبادت میں مصروف رہتی۔ پھر صبح ہوتے ہی اپنےآقا کی خوشنودی حاصل کرنےکیلئےگھر کےکاموں میں مشغول ہو جاتی۔ آخر شدید محنت نےاس معصوم جان کوتھکا ڈالا۔
    ”کیا تو بیمار ہے؟“ لڑکی کےچہرےپر تھکن کےآثار دیکھ کر ایک دن مالک نے پوچھا۔
    لڑکی نےنفی میں آقا کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔ ”کیا میں اپنےفرائض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی کی مرتکب ہو رہی ہوں۔“
    مالک نے اس کے کام کی تعریف کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھے۔
    لڑکی نےآقا کا حکم سنا اور سر جھکا دیا مگر اس کےمعمولات میں کوئی کمی نہ آئی۔ وہ اجالےمیں دنیاوی مالک کی خدمت انجام دیتی اور اندھیرےمی ںمالک حقیقی کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتی۔

    ایک دن اتفاق سے نصف شب کے قریب آقا کی آنکھ کھل گئی۔ وہ اپنے کمرے سے نکل کر ٹہلنےلگا۔ اچانک اس کی نظر کنیز کی کوٹھڑی پر پڑی۔ وہاں چراغ جل رہا تھا۔
    ”یہ کنیز ابھی تک جاگ رہی ہے؟“ آقا بڑی حیرت کے ساتھ کنیز کےجاگنے کا سبب جاننے کیلئےکوٹھڑی کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ مالک دبےقدموں اندر داخل ہوا۔ اب اس کی آنکھوں کےسامنے ایک ناقابل یقین منظر تھا۔ کنیز سجدے کی حالت میں تھی اور دبی دبی سسکیاں ابھر رہی تھیں۔ مالک کی حیرت میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔ وہ آہستہ آہستہ آگےبڑھا۔ پھر اس نےکان لگا کر سنا۔ کنیز انتہائی رقت آمیز لہجے میں دعا مانگ رہی تھی۔
    ”اےاللہ! تو میری مجبوریوں سےخوب واقف ہے۔ گھر کا کام کاج مجھےتیری طرف آنے سے روکتا ہےی۔ تو مجھے اپنی عبادت کیلئے پکارتا ہے مگر میں جب تک تیری بارگاہ میں حاضر ہوتی ہوں‘ نمازوں کا وقت گزر جاتا ہے۔ اس لئےمیری معذرت قبول فرما لےاورمیرےگناہوں کو معاف کردے۔“

    مالک نےکنیز کی گریہ و زاری سنی تو خوفِ خدا سے لرزنے لگا۔ روایت ہے کہ اس واقعے سے پہلے تاجر عتیق ایک ظالم شخص تھا۔ اپنےغلاموں اور کنیزوں سے بےپناہ مشقت لیتا تھا اور انہیں پیٹ بھر کر کھانا تک نہیں دیتا تھا۔ آج رات ایک کنیز کو اس طرح سجدہ ریز دیکھا تو پتھر دل پگھل گیا اور اسے اپنے ماضی پر ندامت ہونے لگی۔ الٹے قدموں واپس چلا آیا اور رات کا باقی حصہ جاگ کر گزار دیا۔ پھر صبح ہوتے ہی کنیز کی کوٹھری میں پہنچا اور کہنے لگا۔
    ”آج سےتم آزاد ہو‘جہاں چاہو چلی جائو۔“
    ”مگر میں تمہاری دی ہوئی قیمت ادا نہیں کر سکتی۔“ کنیز نےحیران ہو کر کہا۔
    ”میں تم سے کوئی قیمت نہیں مانگتا مگر ایک چیز کا سوال کرتا ہوں۔“ تاجر عتیق کے لہجے سے عاجزی کا اظہار ہو رہا تھا۔ ”میری طرف سےکی جانے والی تمام زیادتیوں کو اس ذات کےصدقے میں معاف کر دو جس کی عبادت تم راتوں کی تنہائی میں چھپ کر کرتی ہو۔“
    ”میں نےتمہیں معاف کیا۔ میرا مالک تمہیں ہدایت دے“ یہ کہہ کرکنیز چلی گئی۔
    یہ معصوم اور یتیم بچی اور شب بیدار کنیز مشہور عارفہ حضرت رابعہ بصری تھیں۔۔

    گلدستہءاولیاء

  2. #2
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    pakistan
    Posts
    9,092
    Mentioned
    95 Post(s)
    Tagged
    8378 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    429513

    Default

    bht umda sharing/up
    Jazak Allah Khair

  3. #3
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    125,914
    Mentioned
    836 Post(s)
    Tagged
    9270 Thread(s)
    Thanked
    1180
    Rep Power
    21474971

    Default

    Jazak Allah Khair

  4. #4
    Join Date
    Oct 2013
    Location
    Limits
    Posts
    5,976
    Mentioned
    667 Post(s)
    Tagged
    5699 Thread(s)
    Thanked
    544
    Rep Power
    1509699

    Default

    Jazak Allah Kaseera

  5. #5
    Join Date
    May 2013
    Location
    pakistan
    Posts
    5,720
    Mentioned
    128 Post(s)
    Tagged
    7184 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    644255

    Default

    mashallah bohat khubsoorat,Allah tala hamesha unlogon ko muqaam deta hai jo deserve kerte hen

  6. #6
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    SAb Kya Dil Mein
    Posts
    11,928
    Mentioned
    79 Post(s)
    Tagged
    2306 Thread(s)
    Thanked
    24
    Rep Power
    21474855

    Default


  7. #7
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default

    Jazak ALLAH Khair

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •