کراچی میں ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم پر حملے کا شبہ نعیم اللہ نامی نوجوان پر ظاہر کیا جارہا ہے۔ تفتیش میں شامل ایس پی نیاز کھوسو کا کہنا ہے کہ جائے وقوع سے ملنے والے ہاتھ کا فنگر پرنٹس لیکر نادرا کا ریکارڈ چیک کیا، جس کی مدد سے نعیم اللہ کی شناخت ہوئی ہے۔
پاکستان کے قومی رجسٹریشن کے ادارے نادرا کے ریکارڈ کے مطابق نعیم اللہ ولد رفیع اللہ پیرآباد قصبہ کالونی کے رہائشی تھے اور ان کے والد رفیع اللہ مدرسہ کے مہتمم ہیں۔
تفتیش میں شامل ایک افسر نے بتایا کہ نعیم اللہ کا ایک بھائی بھی خودکش حملے کے لیے ساتھی کے ساتھ خیبرپختونخواہ گیا تھا، جہاں ساتھی نے تو خود کش حملہ کرلیا لیکن نعیم اللہ کا بھائی خوفزدہ ہوگیا اور واپس کراچی آ گیا۔ کراچی میں ہی کچھ عرصے کے بعد پولیس کے ساتھ مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ بڑے بھائی کا بدلہ لینے کے ہی رفیع اللہ نے یہ حملہ کیا۔
سی آئی ڈی پولیس کے ایک افسر کے مطابق رفیع اللہ عباس ٹاؤن میں بم حملے میں ملوث گروہ کے ساتھ کام کرتا تھا۔ پولیس نے کچھ قریبی رشتے داروں کو حراست میں لیکر ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کیے ہیں، جس سے حتمی تصدیق کی جائےگی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے وفاقی وزیر چوہدری نثار نے کہا تھا کہ چوہدری اسلم پر حملے میں ملوث ملزم کی شناخت ہوگئی ہے، جس کا نام اور پتہ صوبائی حکومت کے حوالے کیا جارہا ہے۔