Results 1 to 6 of 6

Thread: Hadsa Ya Qatal ?

  1. #1
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    Dubai, United Arab Emirates, United Arab Emirates
    Posts
    477
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    206 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474845

    Default Hadsa Ya Qatal ?

    حادثہ یا قتل؟ اور فتویٰء دل


    وصی شاہ




    آج کل اخبارات میں دو فتووں کا بہت چرچہ ہے ایک سعودی عالم کا فتویٰ ہے جس میں فرمایا گیا کہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال حرام ہے اور دوسرا ایران کے مذہبی راہنما کا فتویٰ ہے جس میں کہا گیا ہے انٹرنیٹ پر غیر محرم مرد وزن سے چیٹنگ حرام ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہمارے ہی اخبار ”دنیا“ میں اسی ایرانی مذہبی راہنما کے فتوےٰ کے ساتھ جو خبر لگی ہے وہ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے کہ فیس بک پر دوستی کا انجام ملتان کی دو طالبات کے اغواء کی صورت میں سامنے آیا۔فیس بک والے فتویٰ پر تو بات ہوتی رہی گی لیکن سعودی عالم کے فتوی نے کم ازکم میری روح کو سرشار کر دیا۔ اس لیے کہ اسلام جو دین ہی سلامتی کا ہے اور آپ جوں جوں اس کی تہہ میں اترتے چلے جائیں اور اسلامی فلسفے کے مطابق جس قدر اسلام میں داخل ہوتے چلے جائیں یہاں تک پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جائیں آپ اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اسلام صرف سلامتی ہے ۔سلامتی ہے۔ سلامتی ہے۔۔ خیر ہی خیر ہے… امن ہی امن ہے معاشرہ ہو کہ فرد قوم ہو کہ مملکت اسلام ہر سو ظاہری وباطنی امن کے پھول کھلا دینا چاہتا ہے۔ روحانی وجسمانی تطہیر کے باعث ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی خواہش رکھتا ہے جس میں کسی کی زبان اور ہاتھ سے کسی دوسرے کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے جس میں ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھنا بھی ثواب کا باعث ہو تو جس دین میں راستے سے کانٹا اور پتھر صرف اس غرض سے ہٹا دینا ثواب میں شامل ہو کہ اس سے کسی دوسرے انسان کو تکلیف نہ پہنچے اس دین کی خاطر سو بار قربان ہونے کا جی چاہتا ہے۔ اسی لیے سعودی عالم کا یہ فتویٰ کہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال حرام ہے نے کم ازکم میری روح کو سرشار کر دیا۔۔ گو کہ اس فتوےٰ پر کچھ علماء کی مختلف رائے بھی سامنے آئی ہے۔ مگر بیشتر علماء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر حرام نہیں بھی ہے تو کم ازکم یہ گناہ ضرور ہے۔
    مجھے لگتا ہے کہ محراب ومنبر نے پچھلے کچھ عرصے سے معاشرے اور زمانے میں ہونے والی جدید تبدیلیوں کے ان پہلوؤں کو نظر انداز کیا ہوا ہے اور ان حوالوں سے مذہب کی روشنی میں جوراہنمائی مسلمانوں کو فراہم کی گئی اس سے کہیں زیادہ اس پر کام کرنے کی ضرورت تھی اور ہے کیونکہ مومن ہمیشہ اپنے عصر سے ہم آہنگ ہوتا ہے اس فتوے کے حوالے سے بھی نہ صرف عوام الناس کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ کیوں گناہ ہے بلکہ یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ کس نوعیت کا گناہ ہے کبیرہ ہے یا صغیرہ۔۔؟صغیرہ ہے تو صغیرہ کیوں ہے کبیرہ ہے تو گناہِ کبیرہ کیوں ہے؟ ایک سوال یہاں چھوڑے جا رہا ہوں کہ جب ریسرچ یہ ثابت کر چکی ہے کہ ٹریفک حادثات کی ایک بڑی وجہ آج کے دور میں دورانِ ڈرائیونگ موبائل کا استعمال بن چکا ہے ۔ تو اس طے شدہ امر کے جاننے کے باوجود بھی کوئی شخص دورانِ ڈرائیونگ فون پر کسی دوست سے ٹھٹھا کرتے ہوئے یا اپنی اہلیہ سے دل لگی کرتے ہوئے یا اپنے بچوں سے گپ شپ کرتے ہوئے یا آفس کے بارے میں کوئی ہدایت دیتے ہوئے ہی سہی اگر کسی شخص کو ہٹ کر دیتا ہے اور شخص وہ ساری عمر کے لیے معذور ہو جاتا ہے یا اس کی جان چلی جاتی ہے۔ ایک گھرانہ ایک پورا خاندان اجڑ جاتا ہے یا ایک انسان ساری زندگی کیلئے بستر سے لگ جاتا ہے چلنے پھرنے کے لائق نہیں رہتا تو کیا یہ صغیر گناہ ہو گا یا کبیرہ۔؟ اور کیا یہ جاننے کے باوجود بھی کہ دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال کے باعث ایکسیڈنٹ کا خطرہ کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے اگر دوران ڈرائیونگ موبائل سنتے ہوئے ایکسیڈنٹ سے کسی کی جان چلی جائے تو یہ حادثہ ہو گا یا قتل۔؟
    محراب و منبر کو لوگوں کویہ بھی بتانا چاہیے کہ ہسپتال کے آگے ہارن بجانے سے لے کر گھر میں کم سن ملازم رکھنے تک، وہ ڈور جس سے بچوں کی گردنیں کٹ کر باپوں کی گودوں میں گر جاتی ہوں اور ہوائی فائرنگ سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں اسلام کی تعلیمات ہمیں کیا سکھاتی ہیں۔
    محترم مفتیانِ دین کی راہنمائی کے ساتھ ساتھ ایک فتویٰ قارئین جب چاہیں میرے آقا سرکارِ دوعالم ﷺکی ایک حدیث کی روشنی میں اپنے دل سے بھی لے سکتے ہیں اور اسلام کی روشنی میں ہر دل کا فتویٰ وہی ہو گا کہ مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا محفوظ رہے ۔ چلتے چلے ہمیشہ قائم رہنے والی کتابِ ہدایت پھر یاد آئی کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا پوری انسانیت کی جان بچائی جس نے ایک انسان کوقتل کیا گویا پوری انسانیت کو قتل کیا۔ تو اس آیت کی روشنی میں کم ازکم میرے نزدیک موبائل فون سنتے ہوئے دوران ڈرائیونگ کسی کو مار دینا حادثہ نہیں ہے قتل ہی ہے۔ باقی افضل وہی ہے جو مفتیانِ دین فرمائیں۔


    By Thanx Urdu Point


  2. #2
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    k, s, a
    Posts
    14,631
    Mentioned
    215 Post(s)
    Tagged
    10286 Thread(s)
    Thanked
    84
    Rep Power
    1503265

    Default

    Quote Originally Posted by kami2233 View Post
    حادثہ یا قتل؟ اور فتویٰء دل


    وصی شاہ




    آج کل اخبارات میں دو فتووں کا بہت چرچہ ہے ایک سعودی عالم کا فتویٰ ہے جس میں فرمایا گیا کہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال حرام ہے اور دوسرا ایران کے مذہبی راہنما کا فتویٰ ہے جس میں کہا گیا ہے انٹرنیٹ پر غیر محرم مرد وزن سے چیٹنگ حرام ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہمارے ہی اخبار ”دنیا“ میں اسی ایرانی مذہبی راہنما کے فتوےٰ کے ساتھ جو خبر لگی ہے وہ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے کہ فیس بک پر دوستی کا انجام ملتان کی دو طالبات کے اغواء کی صورت میں سامنے آیا۔فیس بک والے فتویٰ پر تو بات ہوتی رہی گی لیکن سعودی عالم کے فتوی نے کم ازکم میری روح کو سرشار کر دیا۔ اس لیے کہ اسلام جو دین ہی سلامتی کا ہے اور آپ جوں جوں اس کی تہہ میں اترتے چلے جائیں اور اسلامی فلسفے کے مطابق جس قدر اسلام میں داخل ہوتے چلے جائیں یہاں تک پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جائیں آپ اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اسلام صرف سلامتی ہے ۔سلامتی ہے۔ سلامتی ہے۔۔ خیر ہی خیر ہے… امن ہی امن ہے معاشرہ ہو کہ فرد قوم ہو کہ مملکت اسلام ہر سو ظاہری وباطنی امن کے پھول کھلا دینا چاہتا ہے۔ روحانی وجسمانی تطہیر کے باعث ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی خواہش رکھتا ہے جس میں کسی کی زبان اور ہاتھ سے کسی دوسرے کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے جس میں ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھنا بھی ثواب کا باعث ہو تو جس دین میں راستے سے کانٹا اور پتھر صرف اس غرض سے ہٹا دینا ثواب میں شامل ہو کہ اس سے کسی دوسرے انسان کو تکلیف نہ پہنچے اس دین کی خاطر سو بار قربان ہونے کا جی چاہتا ہے۔ اسی لیے سعودی عالم کا یہ فتویٰ کہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال حرام ہے نے کم ازکم میری روح کو سرشار کر دیا۔۔ گو کہ اس فتوےٰ پر کچھ علماء کی مختلف رائے بھی سامنے آئی ہے۔ مگر بیشتر علماء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر حرام نہیں بھی ہے تو کم ازکم یہ گناہ ضرور ہے۔
    مجھے لگتا ہے کہ محراب ومنبر نے پچھلے کچھ عرصے سے معاشرے اور زمانے میں ہونے والی جدید تبدیلیوں کے ان پہلوؤں کو نظر انداز کیا ہوا ہے اور ان حوالوں سے مذہب کی روشنی میں جوراہنمائی مسلمانوں کو فراہم کی گئی اس سے کہیں زیادہ اس پر کام کرنے کی ضرورت تھی اور ہے کیونکہ مومن ہمیشہ اپنے عصر سے ہم آہنگ ہوتا ہے اس فتوے کے حوالے سے بھی نہ صرف عوام الناس کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ کیوں گناہ ہے بلکہ یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ کس نوعیت کا گناہ ہے کبیرہ ہے یا صغیرہ۔۔؟صغیرہ ہے تو صغیرہ کیوں ہے کبیرہ ہے تو گناہِ کبیرہ کیوں ہے؟ ایک سوال یہاں چھوڑے جا رہا ہوں کہ جب ریسرچ یہ ثابت کر چکی ہے کہ ٹریفک حادثات کی ایک بڑی وجہ آج کے دور میں دورانِ ڈرائیونگ موبائل کا استعمال بن چکا ہے ۔ تو اس طے شدہ امر کے جاننے کے باوجود بھی کوئی شخص دورانِ ڈرائیونگ فون پر کسی دوست سے ٹھٹھا کرتے ہوئے یا اپنی اہلیہ سے دل لگی کرتے ہوئے یا اپنے بچوں سے گپ شپ کرتے ہوئے یا آفس کے بارے میں کوئی ہدایت دیتے ہوئے ہی سہی اگر کسی شخص کو ہٹ کر دیتا ہے اور شخص وہ ساری عمر کے لیے معذور ہو جاتا ہے یا اس کی جان چلی جاتی ہے۔ ایک گھرانہ ایک پورا خاندان اجڑ جاتا ہے یا ایک انسان ساری زندگی کیلئے بستر سے لگ جاتا ہے چلنے پھرنے کے لائق نہیں رہتا تو کیا یہ صغیر گناہ ہو گا یا کبیرہ۔؟ اور کیا یہ جاننے کے باوجود بھی کہ دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال کے باعث ایکسیڈنٹ کا خطرہ کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے اگر دوران ڈرائیونگ موبائل سنتے ہوئے ایکسیڈنٹ سے کسی کی جان چلی جائے تو یہ حادثہ ہو گا یا قتل۔؟
    محراب و منبر کو لوگوں کویہ بھی بتانا چاہیے کہ ہسپتال کے آگے ہارن بجانے سے لے کر گھر میں کم سن ملازم رکھنے تک، وہ ڈور جس سے بچوں کی گردنیں کٹ کر باپوں کی گودوں میں گر جاتی ہوں اور ہوائی فائرنگ سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں اسلام کی تعلیمات ہمیں کیا سکھاتی ہیں۔
    محترم مفتیانِ دین کی راہنمائی کے ساتھ ساتھ ایک فتویٰ قارئین جب چاہیں میرے آقا سرکارِ دوعالم ﷺکی ایک حدیث کی روشنی میں اپنے دل سے بھی لے سکتے ہیں اور اسلام کی روشنی میں ہر دل کا فتویٰ وہی ہو گا کہ مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا محفوظ رہے ۔ چلتے چلے ہمیشہ قائم رہنے والی کتابِ ہدایت پھر یاد آئی کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا پوری انسانیت کی جان بچائی جس نے ایک انسان کوقتل کیا گویا پوری انسانیت کو قتل کیا۔ تو اس آیت کی روشنی میں کم ازکم میرے نزدیک موبائل فون سنتے ہوئے دوران ڈرائیونگ کسی کو مار دینا حادثہ نہیں ہے قتل ہی ہے۔ باقی افضل وہی ہے جو مفتیانِ دین فرمائیں۔


    By Thanx Urdu Point

    yeh wasi shah ka aaj ka colum hai iss liye iss ko news section mai move kar rahe hain

  3. #3
    Join Date
    Nov 2013
    Location
    Dream Land
    Age
    21
    Posts
    3,220
    Mentioned
    97 Post(s)
    Tagged
    2597 Thread(s)
    Thanked
    3
    Rep Power
    429507

    Default

    /up

  4. #4
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Karachi, Pakistan
    Posts
    7,416
    Mentioned
    504 Post(s)
    Tagged
    5438 Thread(s)
    Thanked
    359
    Rep Power
    874041

    Default

    bohat khoobsurat column likha hay...!! ALLAH hum sab ko naik hidayat ata karay AMEEN

  5. #5
    Join Date
    Oct 2013
    Location
    Limits
    Posts
    5,975
    Mentioned
    667 Post(s)
    Tagged
    5699 Thread(s)
    Thanked
    544
    Rep Power
    1509699

    Default

    thanks for sharing....rightly said!

    animals1 - Hadsa Ya Qatal ?

  6. #6
    Join Date
    Aug 2014
    Location
    Karachi
    Posts
    126
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    12 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    4

    Default

    حادثہ یا قتل ایک اچھا اور بہترین موضوع ہے اور رہی بات فتویٰ کی تو ٹھیک ہے اور کیسے ٹھیک ہے اس کی وجہ ہے کہ گناہ کبیرہ میں تو کم سے کم نہیں آتا ہوگا یہ صرف اور صرف گناہ صغیرہ میں آتا ہوگا یہ میری اپنی رائے ہے دوران ڈرائیونگ موبائل کا استعمال انہتائی خطرناک حدود کو گزرجاتا ہے یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سگنل کو توڑنا اور اس پر رف ڈرائیونگ کرنا ۔دوران سفر موبائل استعمال کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے اور "اللہ پاک کا ارشا د ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت مت ڈالو" لیکن ہم کس بات پر ٹھہرتے ہیں اور ان تمام باتوں کو ہوا میں اڑادیتے ہیں ہماری یہ بداحتیاطی ہم سے کیا کچھ نہیں چھین لیتی

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •