Results 1 to 9 of 9

Thread: 18 Rabi-ul-Aakhir -Urs Hazrat Nizamuddin Auliya Rehmatullah Alaih

  1. #1
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    snow 18 Rabi-ul-Aakhir -Urs Hazrat Nizamuddin Auliya Rehmatullah Alaih

    Hazrat Nizamuddin Dargah - 18 Rabi-ul-Aakhir -Urs Hazrat Nizamuddin Auliya Rehmatullah Alaih

    سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیا محبوب الہی رحمتہ اللہ علیہ

    نام و نسب


    آپ کا اصل نام سید محمد نظام الدین، والد کا نام سید احمد بخاری ہے۔ آپ کے القابات 'نظام الاولیاء'، 'محبوب الہی'، 'سلطان المشائخ'، 'سلطان الاولیاء' اور 'زری زر بخش' وغیرہ ہیں۔

    برصغیر آمد


    آپ کے جدِ امجد سید علی بخاری اور نانا خواجہ عرب بخارا سے ہجرت کرکے بدایوں پہنچے۔

    تعلیم و تربیت


    ابھی بمشکل پانچ برس کے ہوئے کہ والد کا انتقال ہو گیا لیکن آپ کی نیک دل، پاک سیرت اور بلند ہمت والدہ حضرت بی بی زلیخا نے سوت کات کات کر اپنے یتیم بچے کی عمدہ پرورش کی۔ آپ نے قرآن کریم کا ایک پارہ مقری بدایونی سے پڑھا اس کے بعد مولانا علاؤالدین اصولی سے مختصر القدوری پڑھی۔ مشارق الانوار کی سند مولانا کمال الدین سے حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی آکر خواجہ نجیب الدین متوکل سے صحبت رہی۔ یہیں شمس الدین خوازمی سے تحصیل علم کی۔

    بیعت و خلافت

    ظاہری علوم کے حصول کے بعد آپ نے بیس سال کی عمر میں اجودھن موجودہ پاکپتن حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔آپ کو دیکھ کر حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے
    یہ شعر پڑھا:
    اے آتش فراغت دل ہا کباب کردہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سیلاب اشتیاقت جا نہا خراب کردہ

    پیر و مرشد سے بیعت ہو کر 6 سیپارے اور عوارف کے 6 باب تمہید ابو شکور سلمی اور بعض دوسری کتابیں پڑھیں اور باطنی علوم کے حصول کے بعد خلافت حاصل کی۔ پیر و مرشد کے حکم پر ہی دہلی آکر محلہ غیاث پورہ میں مستقل سکونت اختیار کی۔ سلوک و معرفت کی تمام منزلیں حاصل کرنے کے باوجود آپ نے تیس سال تک نہایت ہی سخت مجاہدہ کیا۔ ایک دن شیخ عبدالرحیم نے عرض کی: حضور آپ سحری میں کچھ نہیں کھاتے، افطاری کے وقت بھی کچھ نہیں کھاتے۔ ضعف و نقاہت سے کیا حال ہو گیا ہے۔ یہ سن کر آپ کر گریہ طاری ہو گیا۔ فرمایا: اے عبدالرحیم کتنے فقیر محتاج مسجدوں درسگاہوں اور چبوتروں پر بھوکے پڑے ہوتے ہیں، اس حالت میں میرے حلق سے نوالہ کیسے اتر سکتا ہے۔

    شہرت

    اللہ تعالٰی نے آپ کو کمال جذب و فیض عطا فرمایا۔ اہلِ دہلی کو آپ کی بزرگی کا علم ہوا تو آپ کی زیارت اور فیض و برکت کے حصول کی خاطر گروہ در گروہ آنے لگے اور ان کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہونے لگا۔ وقت کے بادشاہ اور امراء بھی آپ سے عقیدت کا اظہار کرتے لیکن آپ ان کی طرف التفات نہ فرماتے۔ سلطان غیاث الدین بلبن کا پوتا معز الدین کیقباد کو آپ سے اس قدر گہرا تعلق تھا کہ اس نے آپ کی خانقاہ کے قریب موضع کھیلوکری میں اپنا قصر تعمیر کروایا اور وہیں سکونت اختیار کی۔ خواجہ نظام الدین بھی اپنی خانقاہ سے سلطان کی نو تعمیر جامعہ مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے جاتے لیکن آپ سلطان سے ملاقات کے لیے کبھی نہ گئے۔

    خدمتِ خلق


    آپ کے لنگر خانہ میں ہزاروں من کھانا پکتا اور ہزاورں کی تعداد میں فقراء اور مساکین اس خانقاہ سے کھانا کھاتے۔ وصال سے قبل آپ علیل ہوئے تو آپ نے وصیت کی گھر اور خانقاہ کے اندر جس قدر اثاثہ ہے سارے کا سارا مساکین اور غرباء میں تقسیم کر دیا جائے۔ آپ کے حکم پر خواجہ محمد اقبال داروغہ لنگر نے ہزارہا من غلہ بانٹ دیا اور ایک دانہ بھی نہ چھوڑا۔
    ایک دن آپ نے محفل میں فرمایا کہ جتنا غم و اندوہ مجھے ہے اتنا اس دنیا میں اور کسی کو نہ ہو گا کیونکہ اتنے لوگ آتے ہیں اور صبح سے شام تک اپنے دکھ درد سناتے ہیں وہ سب میرے دل میں بیٹھ جاتے ہیں پھر فرمایا عجب دل ہو گا جو اپنے مسلمان بھائی کا دکھ سنے اور اس پر اثر نہ ہو۔ ایک مرتبہ غیاث پورہ میں آگ لگی، گرمی کا موسم تھا۔ آپ چلچلاتی دھوپ میں اپنے مکان کی چھت پر کھڑے یہ منظر اس وقت تک دیکھتے رہے کہ جب تک آگ ٹھنڈی نہ ہو گئی پھر خواجہ محمد اقبال کو فرمایا کہ جاؤ ہر متاثرہ گھر والے کو دو تنکے، دو دو روٹیاں اور ٹھنڈے پانی کی ایک ایک صراحی پہنچا کر آؤ کیونکہ آبادی کے لوگ اس حالت میں بہت پریشان ہوں گے۔ جب خواجہ محمد اقبال وہاں پہنچے تو لوگ خوشی سے آبدیدہ ہو گئے۔ ایک تنکہ کی قیمت اس وقت اتنی تھی کہ کئی چھپر ڈلوائے جا سکتے تھے۔

    کرامت

    سب حیران تھے کہ حضرت کا یہ فرمان کیسے پورا ہوگا کیونکہ مغل حملہ آور شہر کا محاصرہ کیے پڑے تھے۔ بغیر لڑے بھڑے اور اپنا مقصد حاصل کیے وہ واپس کیسے جا سکتے تھے؟ مگر دوسرے دن سب حضرت کی کرامت کے قائل ہو گئے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ساری مغل فوج راتوں رات محاصرہ اٹھا کر چلی گئی ہے، اس کا بڑا چرچا ہوا اور بادشاہ نے بھی کئی تھال موتیوں وغیرہ سے بھر کر بطور شکرانے کے حضرت کے پاس نذر بھیجے۔ آخری وار: بادشاہ غیاث الدین تغلق نے بنگال کی مہم کے دوران دہلی فرمان بھیجا کہ میں دہلی میں واپس آرہا ہوں حضرت میرے پہنچنے سے پہلے ہی شہر چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں۔ گویا یہ جلاوطنی کا حکم تھا۔ ابھی دلی دور ہی جلاوطنی کے اس حکم نامے کو حضرت نے اپنا وہ تاریخی فقرہ لکھوا کر واپس کرا دیا جو آج تک ضرب المثل ہے کہ ہنوز دلی دوراست یعنی ابھی تو دلی بہت دور ہے! اور واقعی بادشاہ دلی پہنچنے سے پہلے ہی افغان پور میں محل کے نیچے دب کر مر گیا اور اس کو دہلی آنا نصیب نہیں ہوا۔


    حضرت کا وصال

    حضرت نے اپنے وصال سے چالیس روز پہلے سے کھانا چھوڑ دیا تھا اور رونے کی یہ حالت تھی کہ ذرا سی دیر کو بھی آنسو نہ تھمتے تھے کمزوری بڑھتی رہی، ایک بزرگ نے عرض کیا، حضرت اگر آپ کھانا نوش نہیں فرمائیں گے تو طاقت کیسے قائم رہے گی؟ جواب دیا کہ جو شخص جناب سرور کائنات کا مشتاق ہو اس کو دنیا میں کھانا کیسے بھائے۔ حضرت شیخ رکن الدین سہروردی اپنے وقت کے زبردست بزرگ تھے وہ مزاج پرسی کو تشریف لائے اور کہا کہ اللہ تعالی اپنے محبوب بندوں کو اس بات اختیار دیتا ہے کہ وہ جب تک چاہیں دنیا میں رہیں آپ بھی اللہ کے محبوب ہیں۔ آپ سے اللہ کی مخلوق کو فائدہ پہنچ رہا ہے آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی آپ کو کچھ دن اور دنیا میں رکھے! حضرت یہ سن کر آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت رسالت مآب فرماتے ہیں کہ نظام ہم کو تمہارا بڑا اشتیاق ہے پس جس کا رسول اللہ انتظار فرمائیں وہ کیسے دنیا میں رہ سکتا ہے۔ حضرت پر غشی طاری ہو جاتی تھی۔ ہوشیار ہوتے تھے تو دریافت فرماتے تھے کوئی مہمان آیا؟ میں نے نماز پڑھ لی؟ لوگ کہتے تھے کہ سرکار نے ابھی نماز پڑھی ہے مگر حضرت دوبارہ نماز پڑھتے اس طرح ایک ایک نماز کو کئی کئی دفعہ ادا فرماتے اور کہتے : میردیم ومیردیم ومیردیمہم جاتے ہیں ہم جاتے ہیں ہم جاتے ہیں اسی حال میں تمام خدمت گاروں، مریدوں اور عزیزوں کو بلا کر فرمایا کہ تم گواہ رہنا۔ اقبال خادم کوئی چیز جماعت خانے میں بچا کر نہ رکھے۔ سب کچھ خیرات کر دیا جائے ورنہ قیامت کے دن حساب دینا ہو گا۔ عرض کیا گیا کہ خواجہ اقبال نے حکم کی تعمیل کی ہے اور سب کچھ تقسیم کر دیا ہے صرف درویشوں کے لیے چند دن کے لائق غلہ باقی رکھا ہے۔ حضرت اس پر ناراض ہو گئے اور فرمایا کہ زمین کی اس ریت کو کیوں باقی رکھا ہے گوادموں کے دروازے کھول دو اور غریبوں سے کہو کہ ان کو لوٹ لیں اور کچھ بھی باقی نہ چھوڑیں 18 ربیع الثانی 725ھ کو سورج نکلنے کے بعد یہ آفتاب طریقت غروب ہو گیا۔ حضرت کی وصیت کے موافق تدفین عمل میں آئی۔ جہاں آج کل حضرت کا روضہ ہے یہاں کسی زمانے میں جنگل ہی تھا۔ حضرت شیخ رکن الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ نے نماز جنازہ پڑھائی کہتے ہیں۔







    Last edited by shaikh_samee; 06-02-2015 at 03:37 PM.

  2. #2
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default

    jazak ALLAH khair ...

  3. #3
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    Default

    2ljtljd - 18 Rabi-ul-Aakhir -Urs Hazrat Nizamuddin Auliya Rehmatullah Alaih

  4. #4
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default

    Jazak Allah

  5. #5
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    Default

    حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں


    کہ مومن کے دل میں انبیاء اور اولیاء کی دوستی کا ہونا ہزار ہا سال کی عبادت سے بڑھ کر ہے ۔ پس لوگوں کو چاہئے کہ انہیں کا ذکر خیر کرتے رہا کریں ۔۔۔۔

    پھر فرمایا ۔
    کہ جب قارون زمین میں غرق کیا گیا تو جب چوتھے طبقے پر پہنچا اور وہاں لوگوں نے پوچھا تو کون ہے اور کس کی قوم سے ہے؟
    اس نے کہا موسی علیہ السلام کی قوم سے ہوں ۔
    اسی وقت حکم الہی ہوا کہ اسے یہیں رکھو کیونکہ اس نے ہمارے دوست کا نام لیا ہے ۔۔۔۔ ہم اب اسے اس سے نیچے نہیں لے جائیں گے ۔۔
    پھر خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے آبدیدھ ہو کر فرمایا ۔
    یہ اس شخص کا حال ہے جو خدا سے دشمنی رکھتا تھا اور جسے صرف موسی علیہ السلام کا نام لینے کی خاطر خلاصی نصیب ہوئی ۔
    مومن جو کہ قیامت تک ان کی محبت اپنے دل میں رکھتا ہے ۔ امید ہے کہ وہ دوزخ کی آگ میں نہیں جلایا جائیگا ۔۔
    (راحت المحبین , ملفوظات حضور محبوب الہی رح , فصل 13 , مرتبہ خواجہ امیر خسرو رح)



    Last edited by shaikh_samee; 06-02-2015 at 03:07 PM.

  6. #6
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    Default


    حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی رحمتہ اللہ علیہ کے ارشاداتِ



    خیرات کرنے میں پانچ شرطیں ہیں۔ جو کچھ خیرات کرے وہ مال حلال ہو۔ دوسرے مرد صالح کو دے۔ دیتے وقت شرط ہے کہ تواضع اور خوش دلی سے دے اور دوسرے سے چھپا کر دے اور دینے کے بعد کی شرط یہ ہے کہ اس کا ذکر کبھی زبان پر نہ لائے۔


    دنیا کے جمع و خرچ کے بارے میں فرمایا کہ حلال کا حساب ہوگا اور حرام پر عذاب۔


    سخی اور جواد کا فرق فرمایا کہ سخی وہ ہے جو زکوٰۃ سے زیادہ دے لیکن جو اد وہ ہے جس کی بخشش بہت زیادہ ہو۔ مثلاً دو سو درہم میں سے پانچ اپنے پاس رکھے اور باقی تقسیم کر دے ۔


    ہمت بلند رکھنی چاہیے اور دنیا کی آلائشوں میں نہیں پھنسنا چاہیے۔ حرص و شہوت چھوڑ دینی چاہیے۔

  7. #7
    Join Date
    Aug 2012
    Location
    Baazeecha E Atfaal
    Posts
    12,045
    Mentioned
    303 Post(s)
    Tagged
    208 Thread(s)
    Thanked
    219
    Rep Power
    18

    Default


  8. #8
    Join Date
    Mar 2009
    Location
    Dhundo :p
    Age
    26
    Posts
    24,442
    Mentioned
    279 Post(s)
    Tagged
    160 Thread(s)
    Thanked
    3489
    Rep Power
    21474869

    Default


  9. #9
    Join Date
    Aug 2012
    Location
    Baazeecha E Atfaal
    Posts
    12,045
    Mentioned
    303 Post(s)
    Tagged
    208 Thread(s)
    Thanked
    219
    Rep Power
    18

    Default

    :-)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •