پیچیدہ تخلیق


ایک معصوم بچی اپنے گرد و پیش سے بے خبر پوری توجہ سے اپنے کام میں مصروف تھی۔ ہنڈیا پکا کر اب وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے آٹا گوندھنے میں مصروف تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی‘
کون ہے؟ بچی نے دروازہ کھولنے سے پہلے سوال کیا۔
دروازہ کھولو۔۔۔ باہر سے ایک کرخت آواز آئی۔ بچی نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا تو تین چار آدمی باہر تلواریں تانے کھڑے تھے۔
جی کیا بات ہے؟ بچی نے شائستہ لہجے میں پوچھا۔
اے لڑکی! تیرا باپ کہاں ہے؟ ایک آدمی نے بڑے غصے سے پوچھا۔ مجھے نہیں پتہ کہ میرا باپ کہاں ہے؟
تجھے پتہ ہے تو جھوٹ بکتی ہے‘ اس آدمی نے چلاتے ہوئے کہا۔
میں نے کہا نا مجھے نہیں پتہ۔۔۔ بچی بھی اپنی بات پر ڈٹی رہی‘
بچی بڑی ہمت والی تھی‘ اس کی جگہ اگر کوئی اور ہوتی تو خوف سے اُس کی آواز سن کر کانپ جاتی۔
دیکھا اُس کا جادو بچوں پر بھی چل گیا ہےاس آدمی نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور کہا دیکھو لڑکی سچ سچ بتادو ورنہ ہم تیرے ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے۔ دوسرے آدمی نے بچی سے مخاطب ہوکر خونخوار لہجے میں کہا۔
میں آپ کو دو دفعہ کہہ چکی ہوں کہ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ ابا کہاں گئے ہیں؟
تڑاخ۔۔۔۔ تڑاخ۔۔۔۔ بچی کے سیب جیسے رخسار پر ظالم نے پوری قوت سے دو تھپڑ رسید کردیئے۔ بچی اچھل کر گھر کی دہلیز پر آگئی اور اس کے کان کی لو سے خون بہنے لگا۔ جب وہ آدمی جاچکے تو بچی کوئی تاثر لیے بغیر اٹھی اور جاکر ننھے منے ہاتھوں سے روٹیاں پکانے لگی۔ اس نے روٹیاں پکا کر ایک رومال میں باندھ لیں اور اسے اپنے دوپٹے کے پیچھے چھپا لیا اور گھر سے باہر نکل کر اس نے چاروں طرف دیکھا اور ایک سمت چل پڑی۔ بچی کا سانس پھول رہا تھا لیکن وہ اپنی جسمانی حالت کی پروا کیے بغیر تیزی سے قدم بڑھا رہی تھی جہاں کہیں اسے پاؤں کی آہٹ سنائی دیتی تو فوراً اپنی رفتار آہستہ کرلیتی۔ ایک سمت مڑتے ہوئے اسے اپنے سامنے ایک غار دکھائی دی۔ غار کو دیکھ کر اس نے ایک مرتبہ پھر چاروں سمت دیکھا اور غار میں داخل ہوگئی۔
اس غار میں دو معزز ترین ہستیاں تشریف فرما تھیں‘ بچی کو دیکھتے ہی ایک آدمی اٹھ کھڑے ہوئے اوربڑے پیار سے فرمایا کہ بیٹی! تجھے آتے کسی نے دیکھا تو نہیں۔
نہیں اباجان۔۔۔! میں بڑی احتیاط سے آئی ہوں۔ شاباش۔۔۔ میری بیٹی بڑی بہادر ہے۔ لیں آپ کھانا کھالیں۔ بیٹی نے دوپٹہ سے کھانا نکال کر اُن کی طرف بڑھادیا اور خود چل پڑی۔
یہ بچی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں جو غار ثور میں تشریف فرما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے کھانا لے کر آئی تھی اور انہیں مارنے والا بدبخت ابو جہل تھا

بحوالہ کتاب اردو جماعت نہم پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ