Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 16

Thread: مُسکراہٹِ رسولُ

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default مُسکراہٹِ رسولُ


    مُسکراہٹِ رسولُ

    حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ
    وآلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی ، اور نماز پڑھا کر چاشت کے وقت تک اپنے مصلے پر ہی
    بیٹھے رہے ، چاشت کے وقت آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور پر مسکراہٹ
    چھاگئی ، لیکن آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اپنی جگہ پر ہی تشریف فرما رہے حتی
    کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے نماز ظہر ، عصر اور مغرب بھی ادا فرما لی ، اس
    دوران آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے کوئی بات نہ کی ، حتی کہ آپ
    صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز ادا فرما کے اپنے گھر تشریف لے گئے ،
    لوگوں نے حضرت ابو بکر صدیق سے کہا کہ آپ پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
    سے آج کے احوال کے بارے میں کیوں دریافت نہیں کرتے ؟
    آج تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کام کیا ہے کہ اس سے پہلے
    کبھی ایسا نہ کیا ، چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق گئے اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ
    وسلم سے اس دن کے متعلق دریافت فرمایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
    نے فرمایا ہاں میں بتاتا ہوں ۔
    آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کر دراصل آج میرے سامنے دنیا کے وہ تمام
    امور پیش کئے گئے جو آئندہ ہونے والے ہیں ، چنانچہ مجھے دکھایا گیا کہ تمام اولین و
    آخرین ایک ٹیلے پر جمع ہیں ، لوگ پسینے سے تنگ آ کر بہت گبھرائے ہوئے ہیں ، اسی
    حال میں وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جاتے ہیں ، اور پسینہ گویا کہ ان کے منہ میں
    لگام کی طرح ہے ، وہ لوگ حضرت آدم سے کہتے ہیں کہ آپ ابوالبشر ہیں ، اللہ نے آپ کو
    اپنا برگزیدہ بنایا ہے ، اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئے ۔
    حضرت آدم نے انہیں جواب دیا کہ میرا بھی وہی حال ہے جو تمہارا ہے ، اپنے باپ آدم کے
    بعد اپنے دوسرے باپ ابوالبشر ثانی حضرت نوح کے پاس چلے جاؤ کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا
    برگزیدہ بندہ قرار دیا ہے ، چنانچہ وہ سب لوگ حضرت نوح کے پاس چلے جاتے ہیں اور عرض
    کرتے ہیں کہ آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئے ، اللہ نے آپ کو اپنا برگزیدہ بندہ
    بنایا ہے ، آپ کی دعاؤں کو قبول کیا ہے ، اور زمین پر کسی کافر کا گھر باقی نہیں چھوڑا ،
    وہ فرماتے ہیں کہ تمہارا مقصد میں پورا نہیں کر سکتا ، تم حضرت ابراھیم کے پاس چلے
    جاؤ کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا خلیل بنایا ہے ، چنانچہ وہ سب لوگ حضرت ابراھیم کے پاس
    چلے جاتے ہیں لیکن وہ بھی یہ ہی جواب دیتے ہیں کہ میں تمہارا مقصد پورا نہیں کر سکتا
    ، البتہ تم حضرت موسی کے پاس چلے جاؤ انہوں نے براہ راست اللہ تعالی سے کلام کیا
    ہے ، لیکن حضرت موسی بھی یہ ہی فرماتے ہیں کہ میں کچھ نہیں کر سکتا تم حضرت
    عیسی کے پاس چلے جاؤ ، وہ پیدائشی اندھے اور برص کے مریض کو ٹھیک کر دیتے تھے
    اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتے تھے لیکن حضرت عیسی بھی یہ ہی فرماتے
    ہیں کہ آج میں کچھ نہیں کر سکتا تم اس ہستی کے پاس چلے جاؤ جو تمام اولاد آدم کے
    سردار ہیں ، وہی وہ پہلے شخص ہیں جن کی قبر قیامت کے دن سب سے پہلے کھولی
    گئی ، تم محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے جاؤ ، وہ تمہاری سفارش
    کریں گے ۔
    چنانچہ پھر پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کی بارگاہ میں جائیں گے ،
    اور اسی وقت حضرت جبرائیل بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوں گے تو اللہ تعالی کی طرف سے
    حکم ہوگا کہ میرے پیغمبر کو آنے کی اجازت دو اور انہیں جنت کی خوش خبری دو ، چنانچہ
    حضرت جبرائیل یہ پیغام پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو دیتے ہیں جسے سن
    کر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں چلے جائیں گے اور متواتر ایک ہفتے تک
    سجدہ میں رہیں گے ، ایک ہفتہ گزرنے کے بعد اللہ تعالی فرمائے اے محمد (صلی اللہ تعالی
    علیہ وآلہ وسلم ) اپنا سر اٹھائیے ، آپ جو کہیں گے اسے سنا جائے گا ، جس کی سفارش
    کریں گے قبول کی جائے گی ۔
    یہ سن کر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سر اٹھائیں گے اور جونہی نظر اپنے رب پر
    پڑے گی دوبارہ سجدہ ریز ہو جائیں گے اور مزید ایک ہفتہ تک سجدہ میں رہیں گے پھر اللہ
    تعالی فرمائے گا کہ آپ اپنا سر اٹھائیے ، آپ جو کہیں گے وہ سنا جائے گا ، جس کی
    سفارش کریں گے قبول کی جائے گی ، نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سجدہ
    میں رہنا ہی پسند فرمائیں گے لیکن حضرت جبرائیل آ کر آپ کا بازو پکڑ کر اٹھائیں گے اور اللہ
    تعالی آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے قلب انور پر ایسی دعاؤں کا دروازہ کھولے گا
    جو پہلے کسی بشر پر نہیں کھولا ہو گا ۔
    چنانچہ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے ، اے اللہ تونے
    مجھے اولاد آدم کا سردار بنا کر پیدا کیا اور میں اس پر کوئی فخر نہیں کرتا ، قیامت کے دن
    میرے ليۓ سب سے پہلے زمین کھولی گئی لیکن میں اس پر کوئی فخر نہیں کرتا ، یہاں
    تک کہ حوض (کوثر ) پر آنے والے میرے پاس اتنے ہیں کہ جو صنعاء اور ایلہ کے درمیانی
    فاصلے سے بھی زیادہ جگہ کو گھیرے ہوئے ہیں ۔
    اس کے بعد صدیقین کو بلایا جائے گا وہ آکر لوگوں کی سفارش کریں گے ، پھر کہا جائے گا
    کہ دیگر انبیا ء علیہم السلام کو بلایا جائے ، چنانچہ بعض انبیاء تو ایسے آئیں گے کہ ان کے
    ساتھ ایمان والوں کی بڑی جماعت ہوگی ، بعض کے ساتھ پانچ چھ آدمی ہوں گے اور بعض
    کے ساتھ کوئی بھی نہ ہو گا ۔ پھر شہداء کو بلایا جائے گا وہ اپنی مرضی کے مطابق لوگوں
    کی سفارش کریں گے ، جب شہداء سفارش کر چکیں گے تو اللہ تعالی فرمائے گا کہ میں
    ارحم الراحمین ہوں ، جنت میں وہ تمام لوگ داخل ہو جائيں جو میرے ساتھ کسی کو شریک
    نہیں کرتے تھے ، ایسے تمام لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے ، اس کے بعد اللہ تعالی
    فرمائے گا کہ دیکھو جہنم میں ایسا کوئی آدمی تو نہیں جس نے کبھی کوئی نیکی کا کام
    کیا ہو ، تلاش کرنے پر انہیں ایک آدمی ملے گا اسے بارگاہ خداوندی میں پیش کیا جائے گا ۔
    اللہ تعالی اس سے پوچھے گا کہ کبھی تونے کوئی نیکی کا کام بھی کیا ہے ؟ وہ جواب
    میں کہے گا کہ نہیں البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں خرید و فروخت کے معاملے میں
    غریبوں سے نرمی کیا کرتا تھا ، اللہ تعالی فرمائے گا کہ جس طرح یہ میرے بندوں سے
    نرمی کرتا تھا تم بھی اس سے نرمی کرو ، لہذا اسے بخش دیا جائيگا ۔
    اس کے بعد فرشتے جہنم سے ایک اور آدمی کو نکال کر لائیں گے تو اللہ تعالی اس بھی یہ
    ہی پوچھے گا کہ کیا کبھی تو نے نیکی کا کام کیا ؟ تو وہ کہے گا کہ نہیں ، لیکن اتنی بات
    ضرور ہے کہ میں اپنی اولاد کو وصیت کی تھی کہ جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو آگ
    میں جلا کر اس کی راکھ کا سرمہ بنانا اور سمندر کے کنارے جا کر اس راکھ کو ہوا میں اڑا
    دینا اس طرح رب العالمین مجھ پر قادر نہ ہو سکے گا ، اللہ تعالی پوچھے گا کہ تونے یہ کام
    کیوں کیا ؟ وہ جواب دیگا کہ تیرے خوف کی وجہ سے ، تو اللہ تعالی فرمائے گا کہ سب
    سے بڑے بادشاہ کا ملک دیکھو کہ اس نے تمہیں وہ اور اس جیسے دس ملکوں کی
    بادشاہی عطا کر دی ، ( یعنی بخشش فرما دی) تو وہ آدمی کہے گا اے اللہ ! تو بادشاہوں کا
    بادشاہ ہو کر مجھ سے کیوں مذاق کرتا ہے ؟ پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
    فرماتے ہیں کہ اس بات پر مجھے چاشت کے وقت ہنسی آ گئی تھی اور میں مسکرا پڑا تھا ۔

    مسند احمد بن حنبل ، حدیث نمبر : 15 ۔۔۔


    Last edited by sarfraz_qamar; 05-03-2014 at 11:32 PM.

  2. #2
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    125,914
    Mentioned
    836 Post(s)
    Tagged
    9270 Thread(s)
    Thanked
    1180
    Rep Power
    21474971

    Default

    SUbhan Allah...

  3. #3
    Cute PaRi's Avatar
    Cute PaRi is offline ♥Häppïnëss ïs Süċċëss♥
    Join Date
    Sep 2012
    Location
    ♥ündër möthër's fëët♥
    Posts
    9,560
    Mentioned
    132 Post(s)
    Tagged
    9855 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    1533321

    Default

    subhan ALLAH

  4. #4
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    Default

    Quote Originally Posted by sarfraz_qamar View Post

    مُسکراہٹِ رسولُ

    حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ
    وآلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی ، اور نماز پڑھا کر چاشت کے وقت تک اپنے مصلے پر ہی
    بیٹھے رہے ، چاشت کے وقت آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور پر مسکراہٹ
    چھاگئی ، لیکن آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اپنی جگہ پر ہی تشریف فرما رہے حتی
    کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے نماز ظہر ، عصر اور مغرب بھی ادا فرما لی ، اس
    دوران آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے کوئی بات نہ کی ، حتی کہ آپ
    صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز ادا فرما کے اپنے گھر تشریف لے گئے ،
    لوگوں نے حضرت ابو بکر صدیق سے کہا کہ آپ پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
    سے آج کے احوال کے بارے میں کیوں دریافت نہیں کرتے ؟
    آج تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کام کیا ہے کہ اس سے پہلے
    کبھی ایسا نہ کیا ، چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق گئے اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ
    وسلم سے اس دن کے متعلق دریافت فرمایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
    نے فرمایا ہاں میں بتاتا ہوں ۔
    آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کر دراصل آج میرے سامنے دنیا کے وہ تمام
    امور پیش کئے گئے جو آئندہ ہونے والے ہیں ، چنانچہ مجھے دکھایا گیا کہ تمام اولین و
    آخرین ایک ٹیلے پر جمع ہیں ، لوگ پسینے سے تنگ آ کر بہت گبھرائے ہوئے ہیں ، اسی
    حال میں وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جاتے ہیں ، اور پسینہ گویا کہ ان کے منہ میں
    لگام کی طرح ہے ، وہ لوگ حضرت آدم سے کہتے ہیں کہ آپ ابوالبشر ہیں ، اللہ نے آپ کو
    اپنا برگزیدہ بنایا ہے ، اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئے ۔
    حضرت آدم نے انہیں جواب دیا کہ میرا بھی وہی حال ہے جو تمہارا ہے ، اپنے باپ آدم کے
    بعد اپنے دوسرے باپ ابوالبشر ثانی حضرت نوح کے پاس چلے جاؤ کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا
    برگزیدہ بندہ قرار دیا ہے ، چنانچہ وہ سب لوگ حضرت نوح کے پاس چلے جاتے ہیں اور عرض
    کرتے ہیں کہ آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئے ، اللہ نے آپ کو اپنا برگزیدہ بندہ
    بنایا ہے ، آپ کی دعاؤں کو قبول کیا ہے ، اور زمین پر کسی کافر کا گھر باقی نہیں چھوڑا ،
    وہ فرماتے ہیں کہ تمہارا مقصد میں پورا نہیں کر سکتا ، تم حضرت ابراھیم کے پاس چلے
    جاؤ کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا خلیل بنایا ہے ، چنانچہ وہ سب لوگ حضرت ابراھیم کے پاس
    چلے جاتے ہیں لیکن وہ بھی یہ ہی جواب دیتے ہیں کہ میں تمہارا مقصد پورا نہیں کر سکتا
    ، البتہ تم حضرت موسی کے پاس چلے جاؤ انہوں نے براہ راست اللہ تعالی سے کلام کیا
    ہے ، لیکن حضرت موسی بھی یہ ہی فرماتے ہیں کہ میں کچھ نہیں کر سکتا تم حضرت
    عیسی کے پاس چلے جاؤ ، وہ پیدائشی اندھے اور برص کے مریض کو ٹھیک کر دیتے تھے
    اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتے تھے لیکن حضرت عیسی بھی یہ ہی فرماتے
    ہیں کہ آج میں کچھ نہیں کر سکتا تم اس ہستی کے پاس چلے جاؤ جو تمام اولاد آدم کے
    سردار ہیں ، وہی وہ پہلے شخص ہیں جن کی قبر قیامت کے دن سب سے پہلے کھولی
    گئی ، تم محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے جاؤ ، وہ تمہاری سفارش
    کریں گے ۔
    چنانچہ پھر پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کی بارگاہ میں جائیں گے ،
    اور اسی وقت حضرت جبرائیل بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوں گے تو اللہ تعالی کی طرف سے
    حکم ہوگا کہ میرے پیغمبر کو آنے کی اجازت دو اور انہیں جنت کی خوش خبری دو ، چنانچہ
    حضرت جبرائیل یہ پیغام پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو دیتے ہیں جسے سن
    کر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں چلے جائیں گے اور متواتر ایک ہفتے تک
    سجدہ میں رہیں گے ، ایک ہفتہ گزرنے کے بعد اللہ تعالی فرمائے اے محمد (صلی اللہ تعالی
    علیہ وآلہ وسلم ) اپنا سر اٹھائیے ، آپ جو کہیں گے اسے سنا جائے گا ، جس کی سفارش
    کریں گے قبول کی جائے گی ۔
    یہ سن کر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سر اٹھائیں گے اور جونہی نظر اپنے رب پر
    پڑے گی دوبارہ سجدہ ریز ہو جائیں گے اور مزید ایک ہفتہ تک سجدہ میں رہیں گے پھر اللہ
    تعالی فرمائے گا کہ آپ اپنا سر اٹھائیے ، آپ جو کہیں گے وہ سنا جائے گا ، جس کی
    سفارش کریں گے قبول کی جائے گی ، نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سجدہ
    میں رہنا ہی پسند فرمائیں گے لیکن حضرت جبرائیل آ کر آپ کا بازو پکڑ کر اٹھائیں گے اور اللہ
    تعالی آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے قلب انور پر ایسی دعاؤں کا دروازہ کھولے گا
    جو پہلے کسی بشر پر نہیں کھولا ہو گا ۔
    چنانچہ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے ، اے اللہ تونے
    مجھے اولاد آدم کا سردار بنا کر پیدا کیا اور میں اس پر کوئی فخر نہیں کرتا ، قیامت کے دن
    میرے ليۓ سب سے پہلے زمین کھولی گئی لیکن میں اس پر کوئی فخر نہیں کرتا ، یہاں
    تک کہ حوض (کوثر ) پر آنے والے میرے پاس اتنے ہیں کہ جو صنعاء اور ایلہ کے درمیانی
    فاصلے سے بھی زیادہ جگہ کو گھیرے ہوئے ہیں ۔
    اس کے بعد صدیقین کو بلایا جائے گا وہ آکر لوگوں کی سفارش کریں گے ، پھر کہا جائے گا
    کہ دیگر انبیا ء علیہم السلام کو بلایا جائے ، چنانچہ بعض انبیاء تو ایسے آئیں گے کہ ان کے
    ساتھ ایمان والوں کی بڑی جماعت ہوگی ، بعض کے ساتھ پانچ چھ آدمی ہوں گے اور بعض
    کے ساتھ کوئی بھی نہ ہو گا ۔ پھر شہداء کو بلایا جائے گا وہ اپنی مرضی کے مطابق لوگوں
    کی سفارش کریں گے ، جب شہداء سفارش کر چکیں گے تو اللہ تعالی فرمائے گا کہ میں
    ارحم الراحمین ہوں ، جنت میں وہ تمام لوگ داخل ہو جائيں جو میرے ساتھ کسی کو شریک
    نہیں کرتے تھے ، ایسے تمام لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے ، اس کے بعد اللہ تعالی
    فرمائے گا کہ دیکھو
    جنت میں ایسا کوئی آدمی تو نہیں جس نے کبھی کوئی نیکی کا کام
    کیا ہو ، تلاش کرنے پر انہیں ایک آدمی ملے گا اسے بارگاہ خداوندی میں پیش کیا جائے گا ۔
    اللہ تعالی اس سے پوچھے گا کہ کبھی تونے کوئی نیکی کا کام بھی کیا ہے ؟ وہ جواب
    میں کہے گا کہ نہیں البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں خرید و فروخت کے معاملے میں
    غریبوں سے نرمی کیا کرتا تھا ، اللہ تعالی فرمائے گا کہ جس طرح یہ میرے بندوں سے
    نرمی کرتا تھا تم بھی اس سے نرمی کرو ، لہذا اسے بخش دیا جائيگا ۔
    اس کے بعد فرشتے جہنم سے ایک اور آدمی کو نکال کر لائیں گے تو اللہ تعالی اس بھی یہ
    ہی پوچھے گا کہ کیا کبھی تو نے نیکی کا کام کیا ؟ تو وہ کہے گا کہ نہیں ، لیکن اتنی بات
    ضرور ہے کہ میں اپنی اولاد کو وصیت کی تھی کہ جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو آگ
    میں جلا کر اس کی راکھ کا سرمہ بنانا اور سمندر کے کنارے جا کر اس راکھ کو ہوا میں اڑا
    دینا اس طرح رب العالمین مجھ پر قادر نہ ہو سکے گا ، اللہ تعالی پوچھے گا کہ تونے یہ کام
    کیوں کیا ؟ وہ جواب دیگا کہ تیرے خوف کی وجہ سے ، تو اللہ تعالی فرمائے گا کہ سب
    سے بڑے بادشاہ کا ملک دیکھو کہ اس نے تمہیں وہ اور اس جیسے دس ملکوں کی
    بادشاہی عطا کر دی ، ( یعنی بخشش فرما دی) تو وہ آدمی کہے گا اے اللہ ! تو بادشاہوں کا
    بادشاہ ہو کر مجھ سے کیوں مذاق کرتا ہے ؟ پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
    فرماتے ہیں کہ اس بات پر مجھے چاشت کے وقت ہنسی آ گئی تھی اور میں مسکرا پڑا تھا ۔

    مسند احمد بن حنبل ، حدیث نمبر : 15 ۔۔۔


    Subhan Allah Taala

    Sarfraz bhai is waqiye me muze ek jagah error laga hai jise maine highlight kiya hai. muze lagta hai ki wahan "
    جنت"ki bajaye ""جہنم" chahiye.
    Aap phir se ek baar check kar le.


  5. #5
    Join Date
    Nov 2013
    Location
    Dream Land
    Age
    21
    Posts
    3,220
    Mentioned
    97 Post(s)
    Tagged
    2597 Thread(s)
    Thanked
    3
    Rep Power
    429507

    Default

    ​mashaAllah...SubhanAllah.......

  6. #6
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default

    Quote Originally Posted by shaikh_samee View Post
    [/CENTER]
    Subhan Allah Taala

    Sarfraz bhai is waqiye me muze ek jagah error laga hai jise maine highlight kiya hai. muze lagta hai ki wahan "
    جنت"ki bajaye ""جہنم" chahiye.
    Aap phir se ek baar check kar le.
    Quote Originally Posted by shaikh_samee View Post
    [/FONT]
    lagta haii bhaii text missingg hoo gaii haii

    main editt karr daitaa hoonn wakaii mainn jahanamm banta haii

    shukriyaaa

    Allahh Tallaa kamii baishhii maff farmaieyy[/SIZE][/COLOR][/FONT]

  7. #7
    Join Date
    Oct 2013
    Location
    Limits
    Posts
    5,975
    Mentioned
    667 Post(s)
    Tagged
    5699 Thread(s)
    Thanked
    544
    Rep Power
    1509699

    Default

    Fidaka abbi wa ummi ya rasool ALLAH S.A.W

    jazak ALLAH kaseera

  8. #8
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    Default

    Quote Originally Posted by sarfraz_qamar View Post

    lagta haii bhaii text missingg hoo gaii haii

    main editt karr daitaa hoonn wakaii mainn jahanamm banta haii

    shukriyaaa

    Allahh Tallaa kamii baishhii maff farmaieyy

    Ab tak edit nahi hua

  9. #9
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default

    Quote Originally Posted by shaikh_samee View Post
    Ab tak edit nahi hua
    jii abb hoo giya haii bhaii,,wohh uss din i think light challii
    gaii thii aorr phirr baadd main meray zehan sayy nikall giyaaa...

    shukriyaaa

  10. #10
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default مُسکراہٹِ رسولُ





    مُسکراہٹِ رسولُ

    حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ
    وآلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی ، اور نماز پڑھا کر چاشت کے وقت تک اپنے مصلے پر ہی
    بیٹھے رہے ، چاشت کے وقت آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور پر مسکراہٹ
    چھاگئی ، لیکن آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اپنی جگہ پر ہی تشریف فرما رہے حتی
    کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے نماز ظہر ، عصر اور مغرب بھی ادا فرما لی ، اس
    دوران آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے کوئی بات نہ کی ، حتی کہ آپ
    صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز ادا فرما کے اپنے گھر تشریف لے گئے ،
    لوگوں نے حضرت ابو بکر صدیق سے کہا کہ آپ پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
    سے آج کے احوال کے بارے میں کیوں دریافت نہیں کرتے ؟
    آج تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کام کیا ہے کہ اس سے پہلے
    کبھی ایسا نہ کیا ، چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق گئے اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ
    وسلم سے اس دن کے متعلق دریافت فرمایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
    نے فرمایا ہاں میں بتاتا ہوں ۔
    آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کر دراصل آج میرے سامنے دنیا کے وہ تمام
    امور پیش کئے گئے جو آئندہ ہونے والے ہیں ، چنانچہ مجھے دکھایا گیا کہ تمام اولین و
    آخرین ایک ٹیلے پر جمع ہیں ، لوگ پسینے سے تنگ آ کر بہت گبھرائے ہوئے ہیں ، اسی
    حال میں وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جاتے ہیں ، اور پسینہ گویا کہ ان کے منہ میں
    لگام کی طرح ہے ، وہ لوگ حضرت آدم سے کہتے ہیں کہ آپ ابوالبشر ہیں ، اللہ نے آپ کو
    اپنا برگزیدہ بنایا ہے ، اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئے ۔
    حضرت آدم نے انہیں جواب دیا کہ میرا بھی وہی حال ہے جو تمہارا ہے ، اپنے باپ آدم کے
    بعد اپنے دوسرے باپ ابوالبشر ثانی حضرت نوح کے پاس چلے جاؤ کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا
    برگزیدہ بندہ قرار دیا ہے ، چنانچہ وہ سب لوگ حضرت نوح کے پاس چلے جاتے ہیں اور عرض
    کرتے ہیں کہ آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئے ، اللہ نے آپ کو اپنا برگزیدہ بندہ
    بنایا ہے ، آپ کی دعاؤں کو قبول کیا ہے ، اور زمین پر کسی کافر کا گھر باقی نہیں چھوڑا ،
    وہ فرماتے ہیں کہ تمہارا مقصد میں پورا نہیں کر سکتا ، تم حضرت ابراھیم کے پاس چلے
    جاؤ کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا خلیل بنایا ہے ، چنانچہ وہ سب لوگ حضرت ابراھیم کے پاس
    چلے جاتے ہیں لیکن وہ بھی یہ ہی جواب دیتے ہیں کہ میں تمہارا مقصد پورا نہیں کر سکتا
    ، البتہ تم حضرت موسی کے پاس چلے جاؤ انہوں نے براہ راست اللہ تعالی سے کلام کیا
    ہے ، لیکن حضرت موسی بھی یہ ہی فرماتے ہیں کہ میں کچھ نہیں کر سکتا تم حضرت
    عیسی کے پاس چلے جاؤ ، وہ پیدائشی اندھے اور برص کے مریض کو ٹھیک کر دیتے تھے
    اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتے تھے لیکن حضرت عیسی بھی یہ ہی فرماتے
    ہیں کہ آج میں کچھ نہیں کر سکتا تم اس ہستی کے پاس چلے جاؤ جو تمام اولاد آدم کے
    سردار ہیں ، وہی وہ پہلے شخص ہیں جن کی قبر قیامت کے دن سب سے پہلے کھولی
    گئی ، تم محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے جاؤ ، وہ تمہاری سفارش
    کریں گے ۔
    چنانچہ پھر پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کی بارگاہ میں جائیں گے ،
    اور اسی وقت حضرت جبرائیل بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوں گے تو اللہ تعالی کی طرف سے
    حکم ہوگا کہ میرے پیغمبر کو آنے کی اجازت دو اور انہیں جنت کی خوش خبری دو ، چنانچہ
    حضرت جبرائیل یہ پیغام پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو دیتے ہیں جسے سن
    کر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں چلے جائیں گے اور متواتر ایک ہفتے تک
    سجدہ میں رہیں گے ، ایک ہفتہ گزرنے کے بعد اللہ تعالی فرمائے اے محمد (صلی اللہ تعالی
    علیہ وآلہ وسلم ) اپنا سر اٹھائیے ، آپ جو کہیں گے اسے سنا جائے گا ، جس کی سفارش
    کریں گے قبول کی جائے گی ۔
    یہ سن کر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سر اٹھائیں گے اور جونہی نظر اپنے رب پر
    پڑے گی دوبارہ سجدہ ریز ہو جائیں گے اور مزید ایک ہفتہ تک سجدہ میں رہیں گے پھر اللہ
    تعالی فرمائے گا کہ آپ اپنا سر اٹھائیے ، آپ جو کہیں گے وہ سنا جائے گا ، جس کی
    سفارش کریں گے قبول کی جائے گی ، نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سجدہ
    میں رہنا ہی پسند فرمائیں گے لیکن حضرت جبرائیل آ کر آپ کا بازو پکڑ کر اٹھائیں گے اور اللہ
    تعالی آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے قلب انور پر ایسی دعاؤں کا دروازہ کھولے گا
    جو پہلے کسی بشر پر نہیں کھولا ہو گا ۔
    چنانچہ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے ، اے اللہ تونے
    مجھے اولاد آدم کا سردار بنا کر پیدا کیا اور میں اس پر کوئی فخر نہیں کرتا ، قیامت کے دن
    میرے ليۓ سب سے پہلے زمین کھولی گئی لیکن میں اس پر کوئی فخر نہیں کرتا ، یہاں
    تک کہ حوض (کوثر ) پر آنے والے میرے پاس اتنے ہیں کہ جو صنعاء اور ایلہ کے درمیانی
    فاصلے سے بھی زیادہ جگہ کو گھیرے ہوئے ہیں ۔
    اس کے بعد صدیقین کو بلایا جائے گا وہ آکر لوگوں کی سفارش کریں گے ، پھر کہا جائے گا
    کہ دیگر انبیا ء علیہم السلام کو بلایا جائے ، چنانچہ بعض انبیاء تو ایسے آئیں گے کہ ان کے
    ساتھ ایمان والوں کی بڑی جماعت ہوگی ، بعض کے ساتھ پانچ چھ آدمی ہوں گے اور بعض
    کے ساتھ کوئی بھی نہ ہو گا ۔ پھر شہداء کو بلایا جائے گا وہ اپنی مرضی کے مطابق لوگوں
    کی سفارش کریں گے ، جب شہداء سفارش کر چکیں گے تو اللہ تعالی فرمائے گا کہ میں
    ارحم الراحمین ہوں ، جنت میں وہ تمام لوگ داخل ہو جائيں جو میرے ساتھ کسی کو شریک
    نہیں کرتے تھے ، ایسے تمام لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے ، اس کے بعد اللہ تعالی
    فرمائے گا کہ دیکھو جنت میں ایسا کوئی آدمی تو نہیں جس نے کبھی کوئی نیکی کا کام
    کیا ہو ، تلاش کرنے پر انہیں ایک آدمی ملے گا اسے بارگاہ خداوندی میں پیش کیا جائے گا ۔
    اللہ تعالی اس سے پوچھے گا کہ کبھی تونے کوئی نیکی کا کام بھی کیا ہے ؟ وہ جواب
    میں کہے گا کہ نہیں البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں خرید و فروخت کے معاملے میں
    غریبوں سے نرمی کیا کرتا تھا ، اللہ تعالی فرمائے گا کہ جس طرح یہ میرے بندوں سے
    نرمی کرتا تھا تم بھی اس سے نرمی کرو ، لہذا اسے بخش دیا جائيگا ۔
    اس کے بعد فرشتے جہنم سے ایک اور آدمی کو نکال کر لائیں گے تو اللہ تعالی اس بھی یہ
    ہی پوچھے گا کہ کیا کبھی تو نے نیکی کا کام کیا ؟ تو وہ کہے گا کہ نہیں ، لیکن اتنی بات
    ضرور ہے کہ میں اپنی اولاد کو وصیت کی تھی کہ جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو آگ
    میں جلا کر اس کی راکھ کا سرمہ بنانا اور سمندر کے کنارے جا کر اس راکھ کو ہوا میں اڑا
    دینا اس طرح رب العالمین مجھ پر قادر نہ ہو سکے گا ، اللہ تعالی پوچھے گا کہ تونے یہ کام
    کیوں کیا ؟ وہ جواب دیگا کہ تیرے خوف کی وجہ سے ، تو اللہ تعالی فرمائے گا کہ سب
    سے بڑے بادشاہ کا ملک دیکھو کہ اس نے تمہیں وہ اور اس جیسے دس ملکوں کی
    بادشاہی عطا کر دی ، ( یعنی بخشش فرما دی) تو وہ آدمی کہے گا اے اللہ ! تو بادشاہوں کا
    بادشاہ ہو کر مجھ سے کیوں مذاق کرتا ہے ؟ پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
    فرماتے ہیں کہ اس بات پر مجھے چاشت کے وقت ہنسی آ گئی تھی اور میں مسکرا پڑا تھا ۔
    مسند احمد بن حنبل ، حدیث نمبر : 15



    Last edited by sarfraz_qamar; 03-05-2014 at 01:32 AM.

Page 1 of 2 12 LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •