ردار عبدالرب نشتر نے قائداعظم کے بارے میں اپنی کتاب میں ایک دلچسپ واقعہ تحریر کیا ہے۔’’


جب ہم مانکی سے رخصت ہورہے تھے تو قائداعظم آگے آگے تھے اور پیر صاحب مانکی شریف سمیت پیران ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ جب قائداعظم موٹر میں بیٹھ گئے تو میں بھی ساتھ بیٹھا اور موٹر روانہ ہوگئی تو میں نے کہا قائداعظم مجھے ہنسی آتی تھی لیکن میں نے ضبط کرلی،۔ پوچھا کیوں؟

میں نے کہا’ جب ہم ان پیروں کے پاس جاتے ہیں تو بہت عزت واحترام سے ان کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں لیکن آج تمام پیر آپ کے پیچھے پیچھے آرہے تھے تو مجھے ہنسی آرہی تھی۔ ‘ فرمانے لگے ’تمہیں معلوم ہے اور ان کو بھی معلوم ہے کہ میں متقی ، پرہیز گار اور زاہد نہیں ہوں۔ میری شکل وصورت زاہدوں کی سی نہیں ہے۔ مغربی لباس پہنتا ہوں لیکن اس کے باوجود یہ لوگ میرے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیوں کرتے ہیں۔
...
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہرمسلمان کو یہ یقین ہوگیا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق میرے ہاتھ میں محفوظ ہیں اور میں اپنی قوم کو کسی قیمت پر بھی فروخت نہیں کرسکتا۔‘‘

(’’قائدِاعظم بحیثیت گورنر جنرل‘‘ سے)