جنیوا (کاروان ڈیسک) جنیوا میں امریکہ، روس، یوکرائن اور یورپی یونین کے درمیان اعلیٰ سفارتکاروں کے درمیان سمجھوتا طے پا گیا ہے جس کے تحت یوکرائن کے بحران پر قابو پانے کے لئے وہاں سڑکوں پر سرگرم گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے گا اورمبصرین کو تعینات کیا جائے گا۔
جنیوا میں چار فریقی مذاکرات کے اختتام کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ یوکرائن کے تنازع پر تناوٴ میں کمی لانے کے لئے یوکرائن، روس، یورپی یونین اور امریکہ نے کئی اقدامات پراتفاق کر لیا ہے جس کے تحت غیر قانونی طور پر مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنا اور اْن تمام مظاہرین کو عام معافی دینا شامل ہے جو پْرامن طور پر عمارتوں کا قبضہ خالی کر دیں گے جبکہ بڑے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
جنیوا میں مذاکرات میں روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروو، یوکرینی وزیرِ خارجہ آندری دشیتشیا، امریکی وزیرِ خارکہ جان کیری اور یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران کیتھرین ایشٹن شامل تھے۔ روسی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس بات پر اتفاقِ رائے کر لیا گیا ہے کہ یوکرین میں مسلح افراد کے تمام غیر قانونی دستوں کو ختم کر دیا جائے اور سرکاری عمارتوں پر قبضے بھی ختم کر دیے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ تمام حکومت مخالف باغیوں کو غیر مشروط معافی دی جائے اور ممکنہ طور پر یوکرین کے روسی زبان والے علاقوں کو قدرے زیادہ خودف مختاری دی جائے۔
ان اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کو آپریشن اِن یورپ کے مبصرین کریں گے۔
امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ یوکرائن کے مسئلے کا فوجی حل قابل عمل نہیں۔ جنیوا میں روس اور مغربی طاقتوں کے درمیان مذاکرات اچھا اقدام ہے تاہم اگر روس صورت حال کو بہتربنانے میں ناکام رہتا ہے تو اس پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ اس سے قبل ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ روس یوکرائن میں فوج بھیجنے کا حق محفوظ رکھتاہے۔