اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی تقرری کیخلاف عمران خان کی درخواست خارج کر دی ہے۔ چیئرمین نیب قمرزمان کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران عدالتی معاون خواجہ حارث نے بتایا کہ نیب ایکٹ کے تحت قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف میں مشاورت ضروری ہے جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ اپوزیشن لیڈر کیسے تعینات ہوتا ہے؟ کیا وہ دوسری بڑی سیاسی جماعت سے ہوتا ہے یا جسے سب سے زیادہ ارکان کی حمایت حاصل ہو۔ اس موقع پر سید خورشید شاہ کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر وہ ہوتا ہے جس کو سب سے زیادہ اپوزیشن ارکان کی حمایت حاصل ہو۔جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ریمارکس دیئے کہ صدر ربڑ اسٹمپ نہیں، آصف علی زرداری کا معاملہ مختلف ہے وہ تو وزیراعظم سے بھی زیادہ بااختیار تھے جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صدر وزیراعظم کی سفارش ماننے کا پابند ہے۔ چیئرمین نیب کے وکیل قمر افضل ایڈووکیٹ نے دلائل میں موقف اختیار کیا ہے کہ قمر الزمان کے حوالے سے وزارت کامرس ، ایف آئی اے اور نیب نے تحقیقات کے بعد ان کو معصوم قرار دیا۔ ان کی ذات پر کیچڑ اچھالا جارہا ہے۔ 42سال کی سروس میں ان پر کوئی دھبہ نہیں ہے ۔ عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا ہے کہ صدر مملکت سے چیئرمین نیب کے معاملے پر مشاورت نہیں کی گئی۔ آرٹیکل 48 کے باوجود آرٹیکل 101 میں ترمیم کرکے واضح کردیا گیا کہ صدر مملکت سے مشاوت اور ایڈوائس دو مختلف چیزیں ہیں۔