کراچی ( کاروان ڈیسک) سابق صدر پرویز مشرف نے سندھ ہائیکورٹ میں ای سی ایل سے نام نکالنے کے کیس میں اپنے جواب میں کہا ہے کہ ان کے خلاف غداری کیس سمیت دیگر تمام مقدمات سیاسی بنیاد پر قائم کئے گئے ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نام نکالنے کے کیس میں سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کی توسط سے حکومت کے جواب میں جواب الجواب داخل کر دیا جس کے مطابق ان کے خلاف غداری کیس سمیت تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کئے گئے ہیں۔ بیرسٹر فروغ نسیم کے مطابق جواب الجواب میں کہا ہے کہ پرویز مشرف کے 3 نومبرکے ایمرجنسی کے اقدام پر باقاعدہ اسمبلی سے قرارداد منظور کی گئی تھی۔ 7 نومبر کو قومی اسمبلی کے 44 ویں سیشن میں باقاعدہ ایوان نے اسے منظور کیا۔
جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے ای سی ایل میں نام شامل کرنے سے متعلق 8 اپریل کے فیصلے کی توسیع نہیں کی لہذا اب قانونی طور پر اس فیصلے کا وجود نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاق نے 14 صفحات پر مشتمل جواب سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف کا نام سپریم کورٹ کے 8 اپریل 2013 کے حکم پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے حکم کی تشریح خود عدالت عظمیٰ ہی کرسکتی ہے لہذا یہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ کے دائرے اختیار میں نہیں آتا۔ جواب میں کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات زیرسماعت ہیں وہ ای سی ایل سے نام نکلوا کر آرٹیکل 6 کی کارروائی سے بچنا چاہتے ہیں۔

Source news