Results 1 to 4 of 4

Thread: شبینہ کی شرعی حیثیت

  1. #1
    Join Date
    May 2014
    Location
    karachi
    Posts
    2
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default شبینہ کی شرعی حیثیت

    سوال : علمائے کرام اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عشاء کی نماز کے بعد تراویح کے علاوہ جو شبینہ پڑھایا جاتا ہے جس میں قاری حضرات دو رکعت میں ایک پارہ قرأت کرتے ہیں اور مقتدی پیچھے کھڑے ہو کر سنتے ہیں اور اسی طرح رات ایک بجے تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور کئی کئی پارے اور کئی رکعات نفل ادا کئے جاتے ہیں۔ کیا یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم یا تابعین رحمہ اللہ علیہم سے ثابت ہے۔ اگر نہیں تو کیا یہ عمل باعث ثواب ہے یا بدعت کی بنا پر گمراہی ہے اور گناہ کا باعث ہے؟
    جواب :
    مذکورہ صورت میں دو تین باتیں قابل غور ہیں اولاً نماز نفل باجماعت ادا کرنا، ثانیاً نماز نفل کا اپنی طرف سے مقررہ اہتمام اور اس پر دوام و اصرار کرنا۔ یعنی خاص وقت یا معین مہینہ میں اس کا خصوصی اہتمام کرنا۔ اوّل الذکر بات تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے جیسا کہ صحیح بخاری باب اذا ینو الامام ان یوم ثم جاء قوم فامھم میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک رات اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنھا کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد میں مشغول ہوئے تو میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ ان کی اقتداء میں نماز تہجد پڑھنے لگا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری امامت کی نیت نہیں کی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر سے پکر کر مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ (صحیح بخاری۱/۹۷)
    اور اسی طرح صحیح بخاری باب صلوة النوافل جماعۃ میں محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے سید نا عتبان بن مالک کا واقعہ منقول ہے کہ رسول اکرم ۖسیدنا عتبان کی فرمائش پر ان کے گھر تشریف لائے اور دو رکعت نماز با جماعت ادا فرمائی۔ (صحیح بخاری)
    ان ہر دو احادیث صحیحہ سے ثابت ہوا کہ نماز نفل کی جماعت بلاشک و شبہ جائز ہے۔ لیکن اس کا اعلان کرنا مردوں اور عورتوں کو بذریعہ اشتہارات جمع کرنا، نوافل با جماعت، بالدوام ادا کرنا اور رات کو چراغ گل کر کے دعائیں ناجائز اور بدعت معلوم ہوتا ہے کیونکہ مطلقاً نماز نفل با جماعت ادا کرنا تو صحیح ہے لیکن یہ قیود مع اہتمام اس مطلق جواز کو بدعت میں بدل دیتے ہیں جیسا کہ نماز چاشت صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا اور ام ہانی رضی اللہ عنھا سے یہ نماز مروی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس کی بپابندی کی وصیت بھی فرمائی (صحیح بخاری۱/۱۰۸) مگر اس وصیت کے باوصف سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس کو بدعت کہتے ہیں اس کی وجہ ذیل میں آرہی ہے )جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ مجاہد کہتے ہیں: میں اور عروة دونوں مسجد میں داخل ہوئے: (صحیح بخاری باب کم اعتمر النبی۱/۲۳۷، صحیح مسلم۱/۴۰۹)
    ''سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے حجرہ کے پاس بیٹھے تھے اور اس وقت کچھ لوگ مسجد میں نماز چاشت پڑھ رہے تھے ۔ ہم نے ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے ان کی اس نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا یہ بدعت ہے۔''
    جبکہ یہ نماز متعدد سانید صحیحہ سے مروی ہے جیسا کہ اوپر صحیح بخاری کے حوالے سے گزر چکا ہے۔ مقامِ غور ہے کہ ابنِ عمر رضی اللہ عنہا نے اسے بدعت کیوں کہا؟اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مسعود میں اس نماز کو با جماعت ادا کرنے کا دستور نہیں تھا۔ چنانچہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح مسلم میں لکھا ہے:
    ''سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مُراد یہ تھی کہ نماز چاشت کو مسجد میں ظاہر کر کے پڑھنا اور اس کے لئے اجتماع و اہتمام کرنا بدعت ہے نہ کہ نماز چاشت بدعت ہے''۔
    امام ابو بکر محمد بن ولید الطرطوشی لکھتے ہیں:
    ''ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کی اس نماز کو تو اس لئے بدعت قرار دیا کہ وہ اسے با جماعت پڑھ رہے تھے یا س لئے کہ اکیلے اکیلے اس طرح پڑھ رہے تھے جیسے فرائض کے بعد ایک ہی وقت میں تمام نمازی سنن رواتب پڑھا کرتے ہیں۔(کتاب الحوادث و البد ۴۰)
    اس کی دوسری مثال یہ لے لیں کہ سبحان اللہ ، اللہ اکبر، لا الہٰ الاّ اللہ کا وظیفہ اپنے اپنے اندر بڑے فضائل رکھتا ہے۔ اور مفسرین نے اس کو باقیات صالحات میں شمار کیا ہے یہ بلندی درجات اور نجات اخروی کا بہترین ذریعہ ہے مگر اس کے باوجود جب اسے خاص قیود اور غیر ثابت تکلفات و التزامات کے ساتھ پڑھا جائے گا تو یہی وظیفہ ہلاکت اور خسارے کا باعث بن جائے گا۔ جیسا کہ سنن دارمی میں بسند صحیح سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے آتا ہے کہ کچھ لوگ کوفہ شہر کی مسجد میں حلقہ باندھے کنکریوں پر سبحان اللہ ، اللہ اکبر، لا الٰہ اللہ سو سو دفعہ پڑھ رہے تھے تو ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹتے ہوئے کہا:
    ''تم اپنے گناہوں کو شمار کرو میں ضمانت دیتا ہوں تمہاری نیکیاں ضائع نہیں ہوں گی۔ اے امت محمد ۖتم پر افسوس ہے کہ تم کتنی جلدی ہلاکت میں مبتلا ہو گئے ہو ابھی تم میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بکثرت موجود ہیں۔ ابھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے بھی پرانے نہیں ہوئے اور آپ کے استعمال میں آنے والے برتن بھی نہیں ٹوٹے۔ تم ایسا کر کے گمراہی کا دروازہ کھول رہے ہو۔''(سنن دارمی ۶۱)
    اس روایت سے یہ ثابت ہوا کہ عبادت اور اطاعت جس طرح شریعت میں منقول ہو، اس کو اسی انداز میں ادا کرنا چاہیے یعنی جس ہیئت و صورت میں وہ عبادت ہوئی ہے ، اس کو اسی طرز سے اپنانا چاہیے۔ اپنی طرف سے اس میں پابندیاں عائد کرنا، بغیر دلیل کے مطلق کو مقید کرنا،غیر مؤقت کو مؤقت کرنا یعنی کسی وقت کے ساتھ خاص کر لینا، غیر معین کو معین بنانا، بدعت بن جائے گا جس سے اجتناب ضروری ہے۔ وگرنہ ہلاکت میں پڑ نے کا اندیشہ ہے ۔ چنانچہ یہی وہ نکتہ ہے جس کے پیش نظر ابنِ عمر رضٰ اللہ عنہما نے چاشت کو بدعت کہا اور ابنِ مسعودرضی اللہ عنہ نے حلقہ باندھ کر اللہ اکبر لا الہٰ الااللہ وغیرہ کا ذکر کرنے کو بدعت اور ہلاکت قرار دیا۔ امام ابو اسحاق شاطبی رقم طراز ہیں کہ:
    یہ بھی بدعات سے ہے کہ کسی نیک عمل کی ادائیگی کے لئے اجتماع کی صورت میں ایک ہی آواز کے ساتھ ذکر کا التزام کرنا، عید میلاد النبی منانا اور اس کی مثل دیگر امور اور ان بدعات میں سے یہ بھی ہے کہ عبادات کو معین کرنا، معین اوقات کے ساتھ جن کی تعین شریعت نہیں پائی جاتی۔ جیسا کہ ۱۵شعبان اور اس کی رات کو پابندی کے ساتھ عبادت بجا لانے کا کوئی ثبوت شریعت میں نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام شاطبی اور دیگر محدثین کی تصریح سے یہ بات ثابت ہوئی کہ شریعت نے جن عبادات و اطاعات کو مطلق چھوڑا ہے ، ان میں اپنی طرف سے پابندیاں عائد کرنا ان کی ہیئت و کیفیت کو بدلنا ہے۔ ان کو اوقات کے ساتھ معین کرنا گو یا دین کوبدلنا ہے اس کا نام تحریف ہے اور یہ گمراہی ہے۔
    لہٰذا لوگوں کا نوافل کے لئے اہتمام ، خصوصی شبینہ کرنا، اس کے لئے لوگوں کو تیار کرنا، اس پر اصرار کرنا سراسر سنت اور سبیل المؤمنین کے خلاف ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین ، فقہاء ، محدثین رحمة اللہ علیہم نے اس تکلف اور اہتمام کو پسند نہیں کیا۔ لہٰذا اس بدعت سے اجتناب کرنا چاہیے اور عبادت کا جو طریقہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے اس پر عمل کرنا چاہیے۔
    By Islamicmsg.org

  2. #2
    Join Date
    May 2013
    Location
    pakistan
    Posts
    5,720
    Mentioned
    128 Post(s)
    Tagged
    7184 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    644255

    Default

    sory mene sara nai parrha lekin jitna parrha us k liye ye kahun gi k islam bohat frakh hai her bat ko bidat men mera khyal nai lena chahiye...agar meri koi bat buri lagi tu mafi chahti hun

  3. #3
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Karachi, Pakistan
    Posts
    7,416
    Mentioned
    504 Post(s)
    Tagged
    5438 Thread(s)
    Thanked
    359
    Rep Power
    874041

    Default

    Assalaam-O-alaikum Aijaazkhan

    Aap ki post ka bohat bohat shukriya, kaafi maloomaati post kii hay aap nay.

    Jahan tak meri soch aur taleem ka sawaal hay... Namaz-e-Tareeweeh ka bajma'at paRhna Hazrat Umar Bin Khattab RZ kay zamana-e-Khilaafat main shuroo hua..... Yeh Biddat nahin kiyonki Huzoor-e-Akram SAW nay bhi iss ko jamaat kay saath ada kia hay magar continue nahin kia kay kahin Sahaba issay FARZ na samajh baithain..

    Namaz-e-Taraweeh ka maqsad yehii hay kay hum Ramadan kay ba-barkat mahinay main ziyada say ziyada ALLAH SWT ki ibaadat main apna waqt istimaal karain... aur yeh pooray RAMDAN main ibaadat karnay ki baat hay, jab kay SHABEENA 6 din, 4 din aur aaj kal ramadan ki 1 raat main ibaadat karna hay yaani ab hum nay aik SHORT CUT ikhtiyaar kia hay jaisay kay koi 'Riwaayat' ikhtiyaar kar rahay hain.....

    Main aalim-e-deen nahin kay main issay per BIDDAT ka fatwaa jaarii kardoon, magar aik MUSLAMAAN honay ki hesiyat say aur RAMADAN kay mahinay ki fazayil aur baraakaat haasil karnay kii hesiyat say SAHII TAREEQA yehii hay kay ALLAH SWT ki yaad main pooray RAMADAN main Namaaz-e-TAraweeh, Qiyam-ul-Layl, Tahajudd waghaira ka ehtimaam karain aur ALLAH SWT ki qurbat aur uss ka REHAM haasil karain.... Na kay srif 1 din, 2 din, yaa 6 dinn kay shabeenay ada kar kay 'ungli katwaa kay shaheedon main naam karwayain... ALLAH Ki ibaadat kay liye sachay khuloos ki zaroorat hay dikhaaway ki nahin!

    May ALLAH SWT light and guide our ways AMEEN SUM AMEEN.

    FI amaan ALLAH

  4. #4
    Join Date
    Feb 2012
    Location
    ساری دنیا اپنا سٹی
    Posts
    12
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    12 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default

    نعوذ بااللہ
    یہ دین نہ آپ کا بنایا ہوا ہے اور نہ میرا اور نہ کسی اور کا
    یہ دین اللہ کا دین ہے اور اُسی کا بنایا ہوا ہے
    اور اللہ نے ہر چیز کھول کر اور واضح بتا بھی دی ہے
    اب ہر کسی کی مرضی ہے کہ اُسے اختیار کرکے اپنے لیے فلاح اور بھلائی پا لے
    اور جس کی مرضی ہے اس کو چھوڑ کر یا اس میں کمی بیشی کر کے اپنی دینا و آخرت برباد کر لے
    کسی پر کوئی پابندی نہیں ہے
    مگر اس بات کا تو ہر کوئی خیال کرے کہ خدارا اس میں کمی بیشی تو نہ کرو
    بے شک عمل نہیں کرتے وہ الگ بات ہے
    مگر اس میں اضافہ یا اپنی طرف سے کچھ نہ شامل کرو
    اگر کوئی اس طرح کرے گا تو یہ آپ بھی جانتی ہیں اور ہم بھی کہ پھر اُس کا انجام کیا ہوگا
    جزاک اللہ
    Last edited by breaths4u; 25-05-2014 at 07:56 PM.

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •