Results 1 to 4 of 4

Thread: حج پر عورتوں کا بال کٹوانا

  1. #1
    Join Date
    May 2014
    Location
    karachi
    Posts
    2
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default حج پر عورتوں کا بال کٹوانا

    سوال : سنا ہے کہ جب حج کر کے عید کی نماز پڑھ کر حجامت کرواتے ہیں تو عورتیں بھی اپنے بال کاٹ لیتی ہیں ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
    جواب :
    حج اور عمرہ کے موقع پر عورت اپنے سر کے بال کتر وا سکتی ہے۔ اس کی مشروعیت شریعت میں مذکور ہے۔ سنن ابو دائود اور دار قطنی میں حدیث ہے:
    ''عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں پر سر منڈانا نہیں بلکہ بال کترنا ہے'' (ابو دائود مع عون۲/۱۵۰، نیل الاوطار۵/۸۰)
    امام قاضی شو کانی رحمہ اللہ علیہ نے نیل الاوطار ٨٠٥ پر لکھا ہے:
    ''یہ حدیث عورتوں کے بال کترانے کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے۔ اور حافظ ابنِ حجر عسقلانی نے اس مسئلہ پر ائمہ کا اجماع نقل کیا ہے۔
    اس حدیث کی تائید سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے:
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے سر مُنڈانے سے منع کیا ہے۔ یعنی عورتوں کے ذمہ صرف بال کترانا ہے ، مَردوں کی طرح مُنڈانا نہیں۔

  2. #2
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Islamabad, UK
    Posts
    88,507
    Mentioned
    1031 Post(s)
    Tagged
    9706 Thread(s)
    Thanked
    603
    Rep Power
    21474934

    Default



    welcome to sachiidosti

  3. #3
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    Default

    Quote Originally Posted by aijazkhan View Post
    سوال : سنا ہے کہ جب حج کر کے عید کی نماز پڑھ کر حجامت کرواتے ہیں تو عورتیں بھی اپنے بال کاٹ لیتی ہیں ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
    جواب :
    حج اور عمرہ کے موقع پر عورت اپنے سر کے بال کتر وا سکتی ہے۔ اس کی مشروعیت شریعت میں مذکور ہے۔ سنن ابو دائود اور دار قطنی میں حدیث ہے:
    ''عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں پر سر منڈانا نہیں بلکہ بال کترنا ہے'' (ابو دائود مع عون۲/۱۵۰، نیل الاوطار۵/۸۰)
    امام قاضی شو کانی رحمہ اللہ علیہ نے نیل الاوطار ٨٠٥ پر لکھا ہے:
    ''یہ حدیث عورتوں کے بال کترانے کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے۔ اور حافظ ابنِ حجر عسقلانی نے اس مسئلہ پر ائمہ کا اجماع نقل کیا ہے۔
    اس حدیث کی تائید سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے:
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے سر مُنڈانے سے منع کیا ہے۔ یعنی عورتوں کے ذمہ صرف بال کترانا ہے ، مَردوں کی طرح مُنڈانا نہیں۔


    Hajj me Eid ki namaz hoti hi nahi hai. Hajj me Qurbani ke baad mardon ko Halq karna yani sir mudhwana hota hai aur aurton ko Taksir yani apni choti ke sire ko ungli ke ek paure se kuch jyada katna magar kam se kam 1/4 sir ke baal ek paure ke barabar katna hai. Aurton ko sir mundhna
    Haraam hai.
    Hajj aur Umrah ke ehram se farig hone ke liye Halq ya Taksir ki jati hai.

  4. #4
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    SAb Kya Dil Mein
    Posts
    11,928
    Mentioned
    79 Post(s)
    Tagged
    2306 Thread(s)
    Thanked
    24
    Rep Power
    21474855

    Default

    Jazak ALLAH Khair

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •