Results 1 to 2 of 2

Thread: رُخصتی

  1. #1
    Join Date
    Oct 2013
    Location
    Limits
    Posts
    5,981
    Mentioned
    670 Post(s)
    Tagged
    5699 Thread(s)
    Thanked
    545
    Rep Power
    1509699

    Default رُخصتی



    حضرت عائشہؓ کی رُخصتی شوال میں ہوئی۔ عرب کے لوگ شوال میں شادی کرنے کو برا سمجھتے تھے۔ حضرت عائشہؓ نےاِس جہالت کی تردید کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا: کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شوال میں نکاح کیا اور شوال میں میری رُخصتی ہوئی تو اَب بتاؤ مجھ سے زیادہ کونسی بیوی آپ کی چہیتی تھی۔(جب آپ ﷺ نے مجھ سے نکاح بھی شوال میں کیااوررُخصتی بھی شوال میں کی تو اَب اِس کے خلاف چلنے کا کسی مسلمان کو کیا حق ہے۔ اسی جہالت کو توڑنے کے لیے)حضرت عائشہؓ چاہا کرتی تھیں کہ شوال کے مہینے میں عورتوں کی رُخصتی کی جائے۔(البدایہ عن الامام احمد)
    بخاری شریف میں ہے کہ سیدِ عالم ﷺ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا: کہ تم مجھ کو خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص تم کو ریشم کے بہترین کپڑے میں اُٹھائے ہوئے ہے۔ میں نے کھول کر دیکھا تو تم نکلیں ،میں نے(دل میں ) کہا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے دکھا یا گیا ہے تو اللہ ضرور اِس کی تعبیر پوری فرما دیں گے۔ دُوسری روایت سےمعلوم ہو تا ہے کہ فرشتہ بصورت اِنسان ریشم کے کپڑے میں اِن کو لے کر آیا تھا۔( بخاری شریف ج ٢ ص ٧٦٨)
    رُخصتی کی پوری کیفیت اِس طرح ہے کہ حضرت صدیقِ اکبرؓ نے بار گاہِ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ اپنی بیوی کو گھر کیوں نہیں بلا لیتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اِس وقت میرے پاس مہر ادا کرنے کے لیے رقم نہیں ہے۔ حضرت صدیقِ اکبرؓ نے عرض کیا کہ میں (بطورِ قرض ) پیش کر دیتا ہوں۔ چنانچہ آپ نے اِن کی پیشکش قبول فرمائی اور بیوی کے باپ ہی سے قرض لے کر مہر ادا کر دیا۔
    مسلم شریف میں حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدِ عالم ﷺ کی بیویوں کا مہر (عموماً) ساڑھے بارہ اَوقیہ یعنی پانچ سو درہم تھا۔ آج کل مہر میں ہزاروں روپے مقرر کیے جاتے ہیں اور مہر کی کمی کو باعثِ ننگ و عار سمجھتے ہیں حالانکہ حضرت صدیقِ اکبرؓ سے بڑھ اُمت میں کوئی بھی معزز نہیں ہے۔ اُن کی بیٹی کا مہر پانچ سودرہم تھا جس سے اُن کی عزت کو کچھ بھی بٹّہ نہ لگا اور دینے والے سید عالم ﷺ تھے۔ آپ ﷺ نے مہر نہ ہونے کی وجہ سے کم مقرر کرنے کو ذرا بھی عار نہ سمجھا۔ حضرت عائشہؓ کے واقعۂ رُخصتی سے اَدائیگی مہر کی اہمیت بھی معلوم ہو گئی کیونکہ مہر کے اَدا کرنے کو آنحضرت ﷺ نے اِس قدرضروری سمجھا کہ مہر کی اَدائیگی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے رُخصت کر لینے میں تامل فرمایا:۔ اُمت کے لیے اِن باتوں میں نصیحت ہے۔
    حضرت عائشہؓ واقعۂ رُخصتی کو اِس طرح ذکر فرماتی تھیں کہ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی کہ میری والدہ نے آ کر مجھے آواز دی۔ مجھے خبر بھی نہ تھی کہ کیوں بلا رہی ہیں۔ میں اُن کے پاس پہنچی تو میرا ہاتھ پکڑ کر لے چلیں اورمجھے گھر کے دروازہ کے اَندر کھڑا کر دیا۔ اُس وقت (اُن کے اچانک بلانے سے ) میرا سانس پھول گیا تھا۔ ذرا دیر بعدسانس ٹھکانے سے آیا۔ گھر کے اَندر دَروازہ کے پاس والدہ صاحبہ نے پانی لے کر میرا سر اور منہ دھویا۔ اِس کے بعد مجھے گھر میں اَندر داخل کر دیا۔ وہاں اَنصار کی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں ، اُنہوں نے دیکھتے ہی کہا
    عَلَی الْخَیْرِ وَالْبَرْکَةِ وَعَلٰی خَیْرٍ طَائِرٍ(تمہارا آنا خیرو برکت ہے اور نیک فال ہے) میری والدہ نے مجھے اُن عورتوں کے سپرد کردیا (اور انہوں نے میرا بناؤ سنگھار کر دیا اُس کے بعد وہ عورتیں علیحدہ ہو گئیں ) اور اَچانک رسولِ خدا ﷺ میرے پاس
    تشریف لے آئے یہ چاشت کا وقت تھا۔ اِس وقت آنحضرت ﷺ نے اپنی نئی بیوی سے ملاقات فرمائی۔ (بخاری شریف و جمع الفوائد)
    غور کیجئے کس سادگی سے یہ شادی ہوئی۔ نہ دُلہا گھوڑے پر چڑھ کر آیا نہ آتش بازی چھوڑ ی گئی نہ اور کسی طرح کی دھُوم دھام ہوئی، نہ تکلف ہوا، نہ آرائشِ مکان ہوئی ،نہ فضول خرچی ہوئی اور یہ بھی قابلِ ذکر بات ہے کہ دُلہن کے گھر ہی میں دُلہا دُلہن مل لیے۔ آج اگر ایسی شادی کر دی جاوے تو دُنیا نکّو بنا دے اور سونام دھرے، خدا بچائے جہالت سے اور پنے رسول پاکﷺ کا پورا پورا اتباع نصیب فرمائے۔


    آمین اللھم آمین۔

    10256851 762287537124708 6875849011941414272 o - رُخصتی

  2. #2
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    k, s, a
    Posts
    14,631
    Mentioned
    215 Post(s)
    Tagged
    10286 Thread(s)
    Thanked
    84
    Rep Power
    1503265

    Default

    Beautiful sharing
    JazakAllah

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •