Results 1 to 7 of 7

Thread: Shab-e Meraj - Detail (معراج النبی صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّ)

  1. #1
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    exclaim Shab-e Meraj - Detail (معراج النبی صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّ)

    Waqiya Shab-e-Meraj - Details

    !اللہ عَزَّوَجَلَّ خالقِ کائنات ہے۔اس نے مختلف اشیاء کو پیدافرمایااوران میں سے بعض کوبعض پرفضیلت دی۔مثلاًبعض انبیاء کو بعض انبیاء پر،بعض ملائکہ کوبعض ملائکہ پر،بعض صحابہ کودیگرصحابہ پر،بعض اولیاء کوبعض اولیاء پر ، بعض مقامات کوبعض مقامات پراوربعض ایام کوبعض ایام پر فضیلت دی ۔اسی طرح اللہ تبَارَک وتعالیٰ نے بعض راتوں کوبھی بعض راتوں پرفضیلت بخشی ہے۔ مثلاً شبِ قدر، شبِ برأت،شبِ معراج،شبِ جمعۃُ المبارک،شبِ عاشورہ،ربیع النُّور شریف کی بارہویں رات،عیدالفطرکی رات اوررجب کی پہلی اورستائیسویں رات۔ ان مقدّس راتوں میں سے رجب کی ستائیسویں رات کے متعلق وارد فضائل ملاحظہ فرمائیے۔


    معراج شریف:۔


    حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے آسمانی معجزات میں سے معراج کا واقعہ بھی بہت زیادہ اہمیت کاحامل اور ہماری مادی دنیا سے بالکل ہی ماوراء اور عقل انسانی کے قیاس و گمان کی سرحدوں سے بہت زیادہ بالاتر ہے۔
    احادیث و سیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کو بہت کثیر التعداد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بیان کیا ہے۔ چنانچہ علامہ زرقانی نے ۴۵ صحابیوں کو نام بنام گنایا ہے جنہوں نے حدیث معراج کو روایت کیاہے جیسا کہ ہم اپنی کتاب “نورانی تقر یر یں” میں اس کاکسی قدر مفصل تذکرہ تحریر کر چکے ہیں۔


    معراج کب ہوئی؟:۔


    معراج کی تاریخ، دن اور مہینہ میں بہت زیادہ اختلافات ہیں۔ لیکن اتنی بات پر بلا اختلاف سب کا اتفاق ہے کہ معراج نزول وحی کے بعد اور ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے جو مکہ معظمہ میں پیش آیا اور ابن قتیبہ دینوری (المتوفی ۲۶۷ ھ) اور ابن عبدالبر (المتوفی ۴۶۳ ھ) اور امام رافعی و امام نووی نے تحریر فرمایا کہ واقعہ معراج رجب کے مہینے میں ہوا۔ اور محدث عبدالغنی مقدسی نے رجب کی ستائیسویں بھی متعین کر دی ہے اور علامہ زرقانی نے تحریر فرمایا ہے کہ لوگوں کا اسی پر عمل ہے اور بعض مؤرخین کی رائے ہے کہ یہی سب سے زیادہ قوی روایت ہے۔
    (زرقانی جلد ۱ ص ۳۵۵ تا ص ۳۵۸)


    معراج کتنی بار اور کیسے ہوئی:۔


    جمہور علماء ملت کا صحیح مذہب یہی ہے کہ معراج بحالت بیداری جسم و روح کے ساتھ صرف ایک بار ہوئی جمہور صحابہ و تابعین اور فقہاء و محدثین نیز صوفیہ کرام کا یہی مذہب ہے۔ چنانچہ علامہ حضرت ملا احمد جیون رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ (استاد اورنگ زیب عالمگیر بادشاہ) نے تحریر فرمایا کہ
    وَ الْاَصَحُّ اَنَّهٗ کَانَ فِی الْيَقْظَةِ بِجَسَدِهٖ مَعَ رُوْحِهٖ وَعَلَيِْه اَهْلُ السُّنَّةِ وَ الْجَمَاعَةِ فَمَنْ قَالَ اِنَّهٗ بِالرُّوْحِ فَقَطْ اَوْ فِي النَّوْمِ فَقَطْ فَمُبْتَدِعٌ ضَالٌّ مُضِلٌّ فَاسِقٌ
    (تفسيرات احمديه بنی اسرائيل ص ۴۰۸)
    اور سب سے زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ معراج بحا لت بیداری جسم و روح کے ساتھ ہوئی یہی اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے۔ لہٰذا جو شخص یہ کہے کہ معراج فقط روحانی ہوئی یا معراج فقط خواب میں ہوئی وہ شخص بدعتی و گمراہ اور گمراہ کن و فاسق ہے۔


    دیدارِ الٰہی:۔


    کیا معراج میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خداوند تعالیٰ کو دیکھا؟ اس مسئلہ میں سلف صالحین کا اختلاف ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور بعض صحابہ نے فرمایا کہ معراج میں آپ نے اﷲ تعالیٰ کو نہیں دیکھا اور ان حضرات نے مَاکَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاٰی oکی تفسیر میں یہ فرمایا کہ آپ نے خدا کو نہیں دیکھا بلکہ معراج میں حضرت جبریل علیہ السلام کو انکی اصلی شکل و صورت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر تھے اور بعض سلف مثلاً حضرت سعید بن جبیر تابعی نے اس مسئلہ میں کہ دیکھایا نہ دیکھا کچھ بھی کہنے سے توقف فرمایا مگر صحابہ کرام اور تابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک بہت بڑی جماعت نے یہ فرمایا ہے کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے سر کی آنکھوں سے اﷲ تعالیٰ کو دیکھا۔
    (شفاء جلد۱ ص ۱۲۰ تا ۱۲۱)


    چنانچہ عبداﷲ بن الحارث نے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عباس اور حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہما ایک مجلس میں جمع ہوئے تو حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کوئی کچھ بھی کہتا رہے لیکن ہم بنی ہاشم کے لوگ یہی کہتے ہیں کہ بلاشبہ حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یقیناً اپنے رب کو معراج میں دو مرتبہ دیکھا۔ یہ سن کر حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس زور کے ساتھ نعرہ مارا کہ پہاڑیاں گونج اٹھیں اور فرمایا کہ بے شک حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے کلام کیا اور حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خدا کو دیکھا۔


    اسی طرح حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مَاکَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی کی تفسیر میں فرمایا کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ اسی طرح حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ رَأيْتُ ربِّيْ یعنی میں نے اپنے رب کو دیکھا۔


    محدث عبدالرزاق ناقل ہیں کہ حضرت امام حسن بصری اس بات پر حلف اٹھاتے تھے کہ یقینا حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا اور بعض متکلمین نے نقل کیا ہے کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی یہی مذہب تھا اور ابن اسحق ناقل ہیں کہ حاکم مدینہ مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا کہ کیا حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ “جی ہاں”


    اسی طرح نقاش نے حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ آپ نے یہ فرمایا کہ میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے مذہب کا قائل ہوں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خدا کو دیکھا، دیکھا ،دیکھا، اتنی دیر تک وہ دیکھا کہتے رہے کہ ان کی سانس ٹوٹ گئی۔
    (شفاء جلد۱ ص ۱۱۹ تا ص ۱۲۰)


    صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شریک بن عبداﷲ نے جو معراج کی روایت کی ہے اس کے آخر میں ہے کہ
    حَتّٰي جَآءَ سِدْرَةَ الْمُنْتَهيٰ وَدَنَا الْجَبَّارُ رَبُّ الْعِزَّةِ فَتَدَلّٰي حَتّٰي کَانَ مِنْهُ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنيٰ۔
    (بخاری جلد ۲ ص ۱۱۲۰ با ب قول اﷲ: وکلم اﷲ ۔ الخ)


    حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ پر تشریف لائے اور عزت والا جبار (اﷲ تعالیٰ) یہاں تک قریب ہوا اور نزدیک آیا کہ دو کمانوں یا اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا۔
    بہرحال علماء اہل سنت کا یہی مسلک ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے شبِ معراج میں اپنے سر کی آنکھوں سے اﷲ تعالیٰ کی ذات مقدسہ کا دیدار کیا۔


    اس معاملہ میں رویت کے علاوہ ایک روایت بھی خاص طور پر قابل تو جہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے محبوب کو اﷲ تعالیٰ نے انتہائی شوکت و شان اور آن بان کے ساتھ اپنا مہمان بنا کر عرش اعظم پر بلایا اور خلوت گاہ راز میں ۔۔۔۔۔ کے نازو نیاز کے کلاموں سے سرفراز بھی فرمایا ۔ مگر ان بے پناہ عنایتوں کے باوجود اپنے حبیب کو اپنا دیدار نہیں دکھایا اور حجاب فرمایا یہ ایک ایسی بات ہے جو مزاج عشق و محبت کے نزدیک مشکل ہی سے قابل قبول ہو سکتی ہے کیونکہ کوئی شاندار میزبان اپنے شاندار مہمان کو اپنی ملاقات سے محروم رکھے اور اس کو اپنا دیدار نہ دکھائے یہ عشق و محبت کا ذوق رکھنے والوں کے نزدیک بہت ہی ناقابل فہم بات ہے۔ لہٰذا ہم عشق بازوں کا گروہ تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرح اپنی آخری سانس تک یہی کہتا رہے گا کہ


    اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
    جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
    (اعلیٰ حضرت رحمۃ اﷲ تعالیٰ )


    مختصر تذکرئہ معراج:۔


    معراج کی رات آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھر کی چھت کھلی اور ناگہاں حضرت جبرئیل علیہ السلام چند فرشتوں کے ساتھ نازل ہوئے اور آپ کو حرم کعبہ میں لے جا کر آپ کے سینہ مبارک کو چاک کیا اور قلب ِانور کو نکال کر آب ِزمزم سے دھویا پھر ایمان و حکمت سے بھرے ہوئے ایک طشت کو آپ کے سینے میں انڈیل کر شکم کا چاک برابر کر دیا۔ پھر آپ براق پر سوار ہو کر بیت المقدس تشریف لائے۔ براق کی تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں اس کی نگاہ کی آخری حد ہوتی تھی۔ بیت المقدس پہنچ کر براق کو آپ نے اس حلقہ میں باندھ دیا جس میں انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی سواریوں کو باندھا کرتے تھے پھر آپ نے تمام انبیاء اور رسولوں علیہم السلام کو جو وہاں حاضر تھے دو رکعت نماز نفل جماعت سے پڑھائی۔
    (تفسير روح البيان جلد ۵ ص ۱۱۲)


    جب یہاں سے نکلے تو حضرت جبریل علیہ السلام نے شراب اور دودھ کے دو پیا لے آپ کے سامنے پیش کیے آپ نے دودھ کا پیالہ اٹھا لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا کہ آپ نے فطرت کو پسند فرمایا اگر آپ شراب کا پیالہ اٹھا لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام آپ کو ساتھ لے کر آسمان پر چڑھے پہلے آسمان میں حضرت آدم علیہ السلام سے، دوسرے آسمان میں حضرت یحییٰ و حضرت عیسیٰ علیہما السلام سے جو دونوں خالہ زاد بھائی تھے ملاقاتیں ہوئیں اور کچھ گفتگو بھی ہوئی۔ تیسرے آسمان میں حضرت یوسف علیہ السلام ، چوتھے آسمان میں حضرت ادریس علیہ السلام اور پانچویں آسمان میں حضرت ہارون علیہ السلام اور چھٹے آسمان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ملے اور ساتویں آسمان پر پہنچے تو وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی وہ بیت المعمور سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے جس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔ بوقت ِملاقات ہر پیغمبر نے “خوش آمدید! اے پیغمبر صالح “کہہ کر آپ کا استقبال کیا۔ پھر آپ کو جنت کی سیر کرائی گئی۔ اس کے بعد آپ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے۔ اس درخت پر جب انوار الٰہی کا پر تو پڑا تو ایک دم اس کی صورت بدل گئی اور اس میں رنگ برنگ کے انوار کی ایسی تجلی نظر آئی جن کی کیفیتوں کو الفاظ ادا نہیں کر سکتے۔ یہاں پہنچ کر حضرت جبریل علیہ السلام یہ کہہ کر ٹھہر گئے کہ اب اس سے آگے میں نہیں بڑھ سکتا۔ پھر حضرت حق جل جلالہٗ نے آپ کو عرش بلکہ عرش کے اوپر جہاں تک اس نے چاہا بلا کر آپ کو باریاب فرمایا اور خلوت گاہ راز میں ناز و نیاز کے وہ پیغام ادا ہوئے جن کی لطافت و نزاکت الفاظ کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتی۔ چنانچہ قرآن مجیدمیں فَاَوْحٰي اِلٰی عَبْدِہٖ مَآاَوْحٰي کے رمز و اشارہ میں خداوند قدوس نے اس حقیقت کو بیان فرما دیا ہے۔


    بارگاہ الٰہی میں بے شمار عطیات کے علاوہ تین خاص انعامات مرحمت ہوئے جن کی عظمتوں کو اﷲ و رسول کے سوا اور کون جان سکتا ہے۔
    ١ سورئہ بقرہ کی آخری آیتیں۔
    ٢ یہ خوشخبری کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی امت کا ہر وہ شخص جس نے شرک نہ کیا ہو بخش دیاجائے گا۔
    ٣ امت پر پچاس وقت کی نماز۔


    جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان خداوندی عطیات کو لے کر واپس آئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے عرض کیا کہ آپ کی امت سے ان پچاس نمازوں کا بار نہ اٹھ سکے گا لہٰذا آپ واپس جایئے اور اﷲ تعالیٰ سے تخفیف کی درخواست کیجئے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے چند بار آپ بارگاہ الٰہی میں آتے جاتے اور عرض پر داز ہوتے رہے یہاں تک کہ صرف پانچ وقت کی نمازیں رہ گئیں اور اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے فرمایا کہ میرا قول بدل نہیں سکتا۔ اے محبوب ! آپ کی امت کے لیے یہ پانچ نمازیں بھی پچاس ہوں گی۔ نمازیں تو پانچ ہوں گی مگر میں آپ کی امت کو ان پانچ نمازوں پر پچاس نمازوں کا اجر و ثواب عطا کروں گا۔


    پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عالم ملکوت کی اچھی طرح سیر فرما کر اور آیات الٰہیہ کا معاینہ و مشاہدہ فرما کر آسمان سے زمین پر تشریف لائے اور بیت المقدس میں داخل ہوئے اور براق پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ میں آپ نے بیت المقدس سے مکہ تک کی تمام منزلوں اور قریش کے قافلہ کو بھی دیکھا۔ ان تمام مراحل کے طے ہونے کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مسجد حرام میں پہنچ کر چونکہ ابھی رات کا کافی حصہ باقی تھا سوگئے اور صبح کو بیدار ہوئے اور جب رات کے واقعات کا آپ نے قریش کے سامنے تذکرہ فرمایا تو رؤسائے قریش کو سخت تعجب ہوا یہاں تک کہ بعض کو رباطنوں نے آپ کو جھوٹا کہا اور بعض نے مختلف سوالات کیے چونکہ اکثر رؤسائے قریش نے بار بار بیت المقدس کو دیکھا تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کبھی بھی بیت المقدس نہیں گئے ہیں اس لیے امتحان کے طور پر ان لوگوں نے آپ سے بیت المقدس کے در و دیوار اور اس کی محرابوں وغیرہ کے بارے میں سوالوں کی بوچھاڑ شروع کر دی۔ اس وقت اﷲ تعالیٰ نے فوراً ہی آپ کی نگاہ نبوت کے سامنے بیت المقدس کی پوری عمارت کا نقشہ پیش فرما دیا۔ چنانچہ کفار قریش آپ سے سوال کرتے جاتے تھے اور آپ عمارت کو دیکھ دیکھ کر ان کے سوالوں کا ٹھیک ٹھیک جواب دیتے جاتے تھے۔


    (بخاری کتاب الصلوٰۃ، کتاب الانبياء ،کتاب التوحيد، باب المعراج وغيرہ مسلم باب المعراج و شفاء جلد۱ ص ۱۸۵ و تفسير روح المعانی جلد ۱۵ ص ۴ تا ص ۱۰ وغيرہ کا خلاصه)


    سفر معراج کی سواریاں :۔


    امام علائی نے اپنی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے کہ معراج میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پانچ قسم کی سواریوں پر سفر فرمایا مکہ سے بیت المقدس تک براق پر، بیت المقدس سے آسمان اول تک نور کی سیڑھیوں پر، آسمان اول سے ساتویں آسمان تک فرشتوں کے بازوؤں پر، ساتویں آسمان سے سدرۃ المنتہیٰ تک حضرت جبریل علیہ السلام کے بازو پر، سدرۃ المنتہیٰ سے مقام قاب قوسین تک رفرف پر۔
    (تفسير روح المعانی جلد ۱۵ ص ۱۰)


    سفر معراج کی منزلیں:۔


    بیت المقدس سے مقام قاب قوسین تک پہنچنے میں آپ نے دس منزلوں پر قیام فرمایا اور ہر منزل پر کچھ گفتگو ہوئی اور بہت سی خداوندی نشانیوں کو ملاحظہ فرمایا۔
    ١ آسمان اول
    ٢ دوسرا آسمان
    ٣ تیسرا آسمان
    ٤ چوتھا آسمان
    ٥ پانچواں آسمان
    ٦ چھٹا آسمان
    ٧ ساتواں آسمان
    ٨ سدرۃ المنتہیٰ
    ٩ مقام مستویٰ جہاں آپ نے قلم قدرت کے چلنے کی آوازیں سنیں
    ١٠ عرش اعظم
    (تفسير روح المعانی جلد ۱۵ ص ۱۰)


    ایک ضروری تبصرہ:۔


    یہ چند آسمانی معجزات جو مذکور ہوئے اس بات کی دلیل ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خدا کی عطا کی ہوئی طاقت سے آسمانی کائنات میں بھی تصرفات فرماتے ہیں اور آپ کی خداداد سلطنت کی حکمرانی زمین ہی تک محدود نہیں بلکہ آسمانی مخلوقات میں بھی آپ کی حکومت کا سکہ چلتا ہے۔ چنانچہ ترمذی شریف کی حدیث ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کے لیے دو وزیر آسمان والوں میں سے اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہوا کرتے ہیں اور میرے دونوں آسمانی وزیر “ جبریل و میکا ئیل ” ہیں اور میرے زمین کے دونوں و زیر “ابوبکر و عمر ” ہیں۔
    (مشکوٰۃ جلد ۲ ص ۵۶۰ باب مناقب ابوبکر و عمر)


    ظاہر ہے کہ کسی بادشاہ کے وزیر اس کی سلطنت کی حدود ہی میں رہا کرتے ہیں۔ اگر آسمانوں میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سلطنت خداداد نہ ہوتی تو حضرت جبرئیل و میکا ئیل علیہما السلام آپ کے دو وزیروں کی حیثیت سے بھلا آسمانوں میں کس طرح مقیم رہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ شہنشاہ مدینہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بادشاہی بہ عطاء الٰہی زمین و آسمان کی تمام مخلوقات پر ہے ۔


    صاحب رجعت شمس و شق القمر نائب دست قدرت پہ لاکھوں سلام
    عرش تا فرش ہے جس کے زیر نگیں اس کی قاہر ریاست پہ لاکھوں سلام

    آہ!دین سے دُوری کے سبب آج مسلمانوں کی اکثریت ان متبرک، مقدّس وعظیم الشان راتوں کوبھی عام راتوں کی طرح غفلت کی نذرکر دیتی ہے۔ان کو خبر تک نہیں ہوتی کہ ہم کتنی بابرکت رات کی بَرَکتوں سے محروم رہ گئے

    اللہ تعالیٰ ہمیں ان مقدّس راتوں کواحسن طریقے سے بسرکرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

    <span style="color:#000080;"><font size="5">



    Last edited by shaikh_samee; 26-05-2014 at 01:12 PM.

  2. #2
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Karachi, Pakistan
    Posts
    7,416
    Mentioned
    504 Post(s)
    Tagged
    5438 Thread(s)
    Thanked
    359
    Rep Power
    874041

    Default

    Jazak ALLAH Khair

  3. #3
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    k, s, a
    Posts
    14,631
    Mentioned
    215 Post(s)
    Tagged
    10286 Thread(s)
    Thanked
    84
    Rep Power
    1503265

    Default

    MashAllah boht details k sath bataya hia
    Jazzak Allah
    Very nice sharing

  4. #4
    Join Date
    May 2013
    Location
    pakistan
    Posts
    5,720
    Mentioned
    128 Post(s)
    Tagged
    7184 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    644255

    Default

    sir ki ankhon se kya muraad hai good 2 know about different swarian werna hum tu bachpan se sirf buraaq ka e sunte aye hen

  5. #5
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default

    Subhan ALLAH

  6. #6
    Join Date
    Feb 2011
    Location
    Is Duniya me
    Posts
    1,576
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    1284 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    21474844

    Default

    a4tyjt - Shab-e Meraj - Detail (معراج النبی صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّ)

  7. #7
    Join Date
    Dec 2014
    Location
    soudi arab makkah
    Age
    30
    Posts
    599
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    92 Thread(s)
    Thanked
    14
    Rep Power
    214753

    Default

    good information ji

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •